جموں //صنعت و حرفت کے پرنسپل سیکرٹری نوین کمار چودھری کی صدارت میں یہاں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں 306 پروجیکٹوں کو عملانے کیلئے 1241.65 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ۔ گورنر انتظامیہ کی طرف سے اعلیٰ سطحی کمیٹی التوا میں پڑے پروجیکٹوں اور بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کیلئے تشکیل دی گئی تھی ۔ اس کمیٹی نے اب تک 7 میٹنگیں منعقد کیں اور جموں اینڈ کشمیر انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( جے کے آئی ڈی ایف سی ) کے ذریعے 2512 پروجیکٹوں کیلئے 6565.13 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ۔ منصوبہ بندی ، ترقی اور نگرانی کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل ، تعمیراتِ عامہ کے کمشنر سیکرٹری خورشید احمد شاہ ، صوبائی کمشنر جموں سنجیو ورما ، جے کے آئی ڈی ایف سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ناظم زئی خان ، ڈائریکٹر جنرل یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس ڈاکٹر سلیم الرحمان ، سیکرٹری جے اینڈ کے سٹیٹس سپورٹس کونسل نسیم چودھری و دیگر متعلقہ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی ۔ ساتویں میٹنگ کے دوران جن پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی اُن میں 2.35 کروڑ روپے کے لاگت والے ایگریکلچر پروڈیکشن ڈیپارٹمنٹ کا ایک پروجیکٹ ، 7 کروڑ روپے کے پشو و بھیڑ پالن محکمے کے 44 پروجیکٹ ، 25.37 کروڑ روپے کے اسٹیٹس محکمے کے 4 پروجیکٹ ، 16.24 کروڑ روپے کے محکمہ داخلہ کے 3 پروجیکٹ ، 30.35 کروڑ روپے کے باغبانی محکمے کے 7 پروجیکٹ ، 110 کروڑ روپے کے صنعت و حرفت محکمے کے 3 پروجیکٹ ، 200 کروڑ روپے کے امور لداخ محکمہ کا ایک پروجیکٹ ، 72.85 کروڑ روپے کے تعمیراتِ عامہ محکمے کے 16 پروجیکٹ ، 704.17 کروڑ روپے کے محکمہ صحت عامہ کے 224 پروجیکٹ ، 0.97 کروڑ روپے محکمہ سیاحت کے ایک پروجیکٹ اور 72.31 کروڑ روپے یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس محکمے کے دو پروجیکٹ شامل ہیں ۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے نوین کمار چودھری نے کہا کہ جے کے آئی ڈی ایف سی کے ذریعے جن تمام پروجیکٹوں کو رقومات فراہم کئے جا رہے ہیں کو متعلقہ محکمے اپنے سرکاری ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کرتے رہیں گے تا کہ عوام الناس باخبر رہے ۔ انہوں نے کہا کہ جے کے آئی ڈی ایف سی کی طرف سے آن لائین شفاف رقومات کی ادائیگی کا نظام بنایا گیا ہے تا کہ پروجیکٹوں پر بہتر طریقے سے کام جاری رکھا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں جن پروجیکٹوں پر غور نہیں کیا جا سکا انہیں متعلقہ انتظامی محکموں کی طرف سے تمام لوازمات پورے کرنے کے بعد اگلی میٹنگ میں غور کیا جائے گا ۔