واشنگٹن//ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ وابستہ بین الاقوامی ماہرین نے دنیا بھر کے معالجین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ریمڈیسویر نامی دوا کو کورونا وائرس سے علیل ہونے والے افراد کو دینے سے گریز کریں خواہ وہ کتنا ہی بیمار کیوں نہ ہو۔ کووڈ انیس بیماری کے مریضوں کو اس دوا سے کوئی بہتری میسر نہیں ہو رہی لہذا انہیں کسی بھی صورت میں یہ دوا نہ دی جائے۔ یہ ہدایات عالمی ادارۂ صحت کے شعبے گائیڈ لائن ڈیویلپمنٹ گروپ (GDG) یا جی ڈی جی کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ اس دوا کو ترک کرنے کی ہدایت مریضوں پر اس دوا کے عدم اثرات کے تناظر میں دی گئی ہے۔جی ڈی جی کے پینل نے کہا ہے کہ ریمڈیسویر ابھی تک کورونا وائرس کی نئی قسم سے پھیلنے والی بیماری کووڈ انیس کے مریضوں کے لیے بے فائدہ رہی ہے۔ اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دوا کے مثبت اثرات کی شہادتیں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ریمڈیسویر کھانے والے مریضوں کی بحالی بھی بہت ہی معمولی ہے اور نہ ہی یہ دوا بیماروں کو موت کے منہ میں جانے سے روکنے میں کارگر ثابت ہوئی ہے۔ریمڈیسویر دوا ایک امریکی فارماسوٹیکل کمپنی جیلاڈ کی تیار کردہ ہے۔ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے اس دوا کا استعمال ہنگامی بنیاد پر تجویز کیا گیا تھا۔ امریکی فیڈرل ڈرگ ایجنسی نے اس دوا کے کووڈ انیس بیماری میں مبتلا افراد کے لیے صرف ایمرجنسی میں دینے کی منظوری دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی مطلع کیا گیا تھا۔ جیلاڈ دوا ساز ادارے نے عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کے پینل کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور اس مناسبت سے جمع شدہ ڈیٹا کے درست اور معیاری ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔ امریکی ادارے کے مطابق اسپتالوں میں داخل مریضوں کے لیے یہ ایک معیاری دوا تسلیم کی جا چکی ہے اور اس بارے میں کئی قابل اعتبار امریکی قومی اداروں کے شواہد بھی دستیاب ہیں۔ ان اداروں میں امریکی نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ اور انفیکشس ڈیزیز سوسائٹی امریکا کے علاوہ جاپان، برطانیہ بشمول جرمنی جیسے ممالک کے اداروں کی مضبوط شہادتیں بھی موجود ہیں۔ ریمڈیسویر نامی دوا کا برانڈ نام 'ویکلوری‘ ہے۔گزشتہ ہفتے انتہائی نگہداشت کی صورت میں ادویات استعمال کرنے کے نگران اعلیٰ ترین بین الاقوامی ادارے نے بھی ریمڈیسویر دوا کو تجویز نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ یہ بیان یورپی سوسائٹی برائے انٹینسِو کیئر میڈیسن (ESICM) کے صدر ڑوزیف کیسچیگلو نے جاری کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریمڈیسویر کے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے آزمائشی دور میں حاصل ہونے والے نتائج کے بعد ہی معالجین کو نیا مشورہ دیا گیا ہے۔