بارہمولہ // قصبہ بارہمولہ سے 14 کلو میٹر دور پہاڑی پر واقع ریشی پورہ حاجی بل کا مڈل اسکول پچھلے دو سال سے ہیڈ ماسٹر کے بغیر ہے جبکہ آٹھویں جماعت تک کے بچوں کو پڑھانے کیلئے صرف دو اُساتذہ تعینات ہیں جو طلاب کے ساتھ سراسر ناانصاف ہے ۔طلاب کے والدین نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ اگر چہ اسکول میں ہیڈ ماسٹر کو تعینات گیاتھا تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر اُسے ہدی پورہ رفیع آباد کے ہائر اسکنڈری اسکول میں رکھا گیا ہے جبکہ اُس کی تنخوہ ریشی پورہ حاجی بل کے اسکول سے واگذار ہوتی ہے ۔والدین نے کہا کہ اسکول میں صرف دو اُساتذہ تعینات ہیں اور وہ آٹھ جماعت کے طلاب کو پڑھا رہے ہیں ،اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں پر بچوں کو کس طرح کی تعلیم مل رہی ہو گی ۔سنیچر کو جونہی اسکول کھلے تو مڈل اسکول میں رونق لوٹی تاہم انہیں پڑھانے کیلئے دو ہی اُساتذہ بچوں کو پڑھانے کیلئے اسکول پہنچے ۔ایک والد محمد رمضان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اساتذہ کی عدم موجود گی کی وجہ سے اُن کے بچے اچھی طرح سے نہیں پڑھ پارہے ہیں جس کے نتیجے میں اُن کے بچوں کے مستقبل پر بُرا اثر پڑرہا ہے ۔والدین نے متعلقہ محکمہ کے افسران نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مڈل اسکول میں مزید اساتذہ تعینات کریں اور اسکول کیلئے ایک ہیڈ ماسٹر کا بھی انتظام کریںتاکہ طالب علموں اور والدین کو راحت مل سکے۔اس سلسلے میں چیف ایجوکیشن بارہمولہ عبدالحد گنائی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ خود اسکول میں جاکر تفصیلات حاصل کریں گے اور مزید اساتذہ کا انتظام کیا جائے گا۔