سرنکوٹ//سب ڈویژن سرنکوٹ میں دریا سُرن سے غیر قانونی طور پر ٹپر اور جے سی بی مشینیں لگا کر بجری و ریت نکالنے کاکاروبار جاری ہے اوربڑے پیمانے پر بجری مافیا لسانہ، دھندک، سنئی، پوٹھہ، بیلہ،بفلیاز، درابہ ، شیندرہ اور کلائی وغیرہ علاقوں میں سرگرم عمل ہیں ۔ایسی صورتحال کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے ۔اس غیر قانونی عمل کے خلاف سنجیدہ کارروائی کرتے ہوئے نائب تحصیلدار لسانہ رشید چوہان نے 6ٹپروںاورجے سی بی مشینوں کو ضبط کرلیاہے۔اس دوران انہوںنے ٹپر زیر نمبراتJK02AL-0186، JK14A-7826،JK12A-0324،JK02AP-1970،JK02AJ-4520،JK02AT-6920اور بغیر نمبر جے سی بی مشین لسانہ سے ضبط کی۔بعد ازآن ضبط شدہ گاڑیوں کوپولیس تھانہ سرنکوٹ کے حوالہ کردیاگیا۔ نائب تحصیلدار نے ایس ایچ او سرنکوٹ کو ان گاڑیوں کے مالکان کے خلاف تحت ضابطہ کارروائی کرنے کاکہاہے ۔انتظامیہ کی ہدایت کی رو سے دریائے سرن کے نزدیک پل وغیرہ سے ریت بجری بذریعہ JCBنکالنا قانونی جرم ہے۔مقامی لوگ اس غیر قانونی عمل پر کئی بار اعتراض جتاچکے ہیںاور وہ افسران سے بھی شکایت کرچکے ہیں ۔تین سال قبل ستمبر کے مہینے میں آئے تباہ کن سیلاب کی ایک بڑی وجہ بھی اسی غیر قانونی عمل کا نتیجہ قرار دیاجارہاہے ۔یاد رہے کہ سیلاب کے دوران لوگوں کی دریا کنارے موجود ملکیتی اراضی کو بھی نقصان پہنچا اور کئی گھر بہہ گئے تھے ۔وہیں ارشاد احمد ولد خان ملک کاکہناہے کہ اس کی ملکیتی اراضی سے بھی ٹپر اور ٹرالیوں سے زور وزبردست بجری نکالی جارہی ہے جس کے بارے میں انہوںنے پولیس تھانہ سرنکوٹ کے علاوہ ڈپٹی کمشنر پونچھ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پونچھ کو تحریری طور آگاہ کیاگیاتھا اور ساتھ ہی نائب تحصیلدار لسانہ کی نوٹس میں یہ بات لائی گئی تھی۔مقامی لوگوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ریت اور بجری کے اس غیر قانونی دھندے پر قدغن لگائی جائے ۔