ایجنسیز
جنیوا// ماسکو اور کیف کے وفود منگل کو جنیوا میں امریکی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے موجود تھے، جو روس کے اپنے ہمسایہ ملک پر مکمل حملے کی چوتھی برسی سے ایک ہفتہ قبل ہو رہے ہیں۔یوکرین کے صدر زیلسنکی نے کہا کہ ان کی حکومت کا وفد سوئٹزرلینڈ میں موجود ہے، جبکہ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق روسی وفد بھی پہنچ چکا ہے۔ دو روزہ مذاکرات دن کے بعد شروع ہونے کی توقع ہے۔خبر رساں ادارے سے گفتگو کرنے والے ایک باخبر ذریعے کے مطابق، روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقوں کے مستقبل پر ‘‘سخت’’ بات چیت متوقع ہے، کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر وفود سے ملاقات کریں گے۔ روسی حکام اب بھی اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ یوکرین اپنے مشرقی ڈونباس خطے کا کنٹرول چھوڑ دے۔ذرائع کے مطابق جنیوا میں تینوں ممالک کے فوجی رہنما اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ جنگ بندی کی نگرانی کیسے کی جائے اور اسے نافذ کرنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہوں گے۔ اس سے قبل ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات میں غیر فوجی زون کے قیام اور افواج کے درمیان رابطے کے طریقہ کار پر بات ہوئی تھی۔تاہم تازہ مذاکرات سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع کم ہے، کیونکہ اہم علاقائی تنازعات پر دونوں فریق اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتے۔