ایجنسیز
کییف// یوکرین کے جنوبی شہر اوڈیسا پر علی الصبح روسی ڈرون حملے میں دو بچوں سمیت 14 افراد زخمی ہو گئے، حکام نے پیر کے روز بتایا۔ یہ حملہ شہری علاقوں پر حالیہ بمباری کی ایک اور کڑی ہے، جو ماسکو کی مکمل پیمانے پر جاری جنگ کی نمایاں خصوصیت بن چکی ہے، جو اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔شہر کی انتظامیہ کے سربراہ سرہی لیساک کے مطابق ڈرونز نے رہائشی علاقوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ روس اس سے قبل بھی یوکرین کی بحیرہ اسود کی اہم بندرگاہ اوڈیسا کو بارہا نشانہ بنا چکا ہے۔علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیہ کیپر کے مطابق زخمیوں میں سے پانچ افراد، جن میں زیادہ تر شیل کے ٹکڑوں سے زخمی ہوئے، کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔دوسری جانب، یوکرینی ڈرون حملے میں روس کے زیرِ قبضہ یوکرین کے علاقے خیرسون میں دو افراد ہلاک ہو گئے، ماسکو کی جانب سے تعینات گورنر ولادیمیر سالدو نے بتایا۔ ان کے مطابق ڈنیپریانی گاؤں میں ستر سال سے زائد عمر کے ایک مرد اور ایک خاتون جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پیر کو کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روس نے یوکرین پر تقریباً 1900 حملہ آور ڈرونز، قریب 1400 طاقتور گائیڈڈ فضائی بم اور تقریباً 60 مختلف اقسام کے میزائل داغے ہیں۔زیلنسکی کے مطابق جنگی حالات میں جدید فوجی ٹیکنالوجی کی بدولت یوکرین روس کے چھوڑے گئے 90 فیصد سے زائد ڈرونز کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے، تاہم اسے امریکہ ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے مزید میزائلوں کی ضرورت ہے، جو روس کے بیلسٹک میزائلوں کو گرا سکتے ہیں۔یوکرین حالیہ عرصے میں مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے ممالک کو بھی ایرانی ڈرون حملوں سے نمٹنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ادھر ناروے یوکرین کے ساتھ مشترکہ ڈرون تیاری کے معاہدے میں شامل ہونے والا تازہ ترین یورپی ملک بن گیا ہے، یوکرین کی وزارت دفاع نے پیر کو بتایا۔زیلنسکی نے حالیہ مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے شراکت داروں (امریکہ کے علاوہ) نے امریکی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مالی تعاون فراہم کیا ہے، یورپی یونین نے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو (106 ارب ڈالر) کے قرض کی منظوری دی ہے، اور یورپی یونین ماسکو پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔دریں اثنا، یوکرین طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے روس کے اندر گہرائی میں واقع تیل کے ٹرمینلز اور ریفائنریوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ماسکو کی معیشت کو متاثر کیا جا سکے۔واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے اتوار کو کہا کہ اس نے جغرافیائی شواہد دیکھے ہیں جن کے مطابق یوکرینی افواج نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران روسی تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر کم از کم 10 حملے کیے ہیں۔