ایسے وقت جب حالات کا جبر انسانی سروں کی فصل کاٹ رہا ہو، انسان ہی انسانیت کا دشمن کیسے ہوسکتا ہے؟ ۔لوگوں کو بھلے ہی علم نہ ہو، لیکن اوپر والا جانتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبائی فضا کے بیچ ایسے ناعاقبت اندیش اور خدا فراموش بھی ہیں جو غذائی اجناس میں طرح طرح کی ملاوٹ کرکے نہ صرف لوگوں کو زہر کھلا کر کورونا کا کام آسان کررہے ہیں بلکہ صیام کے مبارک مہینے میں اپنے بظاہر نیک اعمال کو اپنے لئے طوق جہنم بنا رہے تھے۔ ایسے لوگ کورونا وائرس سے متاثر اُس قابل رحم انسانوں سے زیادہ بیمار ہیں، ہسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔کیونکہ فریب کاری اور مکاری کا جو دھیمک اُن کی روح کو چاٹ رہا ہے وہ اُنہیں کھلے عام قانون کے پرخچے اُڑنے اور انسانیت پر صریح ظلم کرنے پر اُبھارتا رہتا ہے۔
دودھ میں صرف پانی ملایا جاتا تو بات الگ تھی ، لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ اس میں مضرصحت پاوڈر بھی ملائی جاتی ہے جس سے معدے، غذا کی نالی اور آنتوں کا کینسر بھی ہوسکتا ہے۔ پولٹری فارموں پر دیکھا گیا ہے کہ کس طرح وزن بڑھانے کیلئے چوزوں کو سٹیرائیڈ انجکشن دئے جاتے ہیں۔ سرسوں کے تیل میں ڈیزل تک کی ملاوٹ کے قصے اخباروں میں دیکھے گئے۔ ادویات کا تو حال سب پر عیاں ہے۔ نقلی اور غیرمعیاری ادویات کے مافیا نے تو متعلقہ محکمہ جات کے افسروں تک کو رام کردیا ہے، اور وہ محض ریکارڈ کی خاطر کبھی کبھار ہی دکانوں کامعائینہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ملاوٹ ہی نہیں، متعدد دوسرے رزائل اخلاق بھی ہماری اجتماعی زندگی کو اندر ہی اندر کھوکھلا کررہے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ عبادت ہو یا انفاق، لوگوں کی دوڑ لگی رہتی ہے۔ لیکن ملاوٹ، رشوت، کذب بیانی، چاپلوسی، چرب زبانی، عداوت، کینہ پروری، ناپ تول میں خیانت اور خودغرضی کے وائرس کورونا سے بھی خطرناک ہیں۔ ایسے میں کسی معاشرے کے اندر نماز و روزہ، حج و اعتکاف اور صدقات و خیرات کی دوڑ لگے تو آپ اس دورخی کو کیا کہیں گے؟ روزہ گناہوں کے خلاف ڈھال ہے، لیکن اگر نیت محض نمائشی عبادت کی ہو تو ملاوٹ، رشوت اور بدخواہی کا وائرس کورونا کی طرح ہی نطروں سے اوجھل حملہ آور کی طرح اجتماعی مفاسد کا طوفان برپا کردیتا ہے اورہم اندر ہی اندر خدا کوستے ہیں کہ وہ دعا قبول کیوں نہیں کرتا۔
اعمال کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ جسمانی اور روحانی۔ مثال کے طور پر روزہ روح کو پاکیزہ کرتا ہے۔ کیونکہ حکم ہے کہ روزے کے دوران کسی آپ کی بات یا کسی حرکت سے تکلیف نہ پہنچے۔ کیا واقعی روزہ ہمیں رشوت، ملاوٹ، حق تلفی اور دغابازی سے روک پاتا ہے۔ اگر جواب نہیں ہے، تو روزہ اور نماز محض پیٹ کی صفائی اور جسمانی ورزش بن کے رہ جاتے ہیں۔اعمال میں اخلاص نہ ہو تو وہ گناہوں کے خلاف ڈھال نہیں بلکہ گناہوں کی آگ کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ اخلاص سے کیا گیا عمل قیامت کے ہیبت خیز میدان میں سایہ بن کر نیک نیت انسان کی حفاظت کرتا ہے، لیکن یہی عمل وبال جان بھی بن سکتا ہے اگر اس کا مقصد کالے کرتوتوں کو ڈرائی کلین کروانا ہو۔
زکواۃور خیرات کا معاملہ دیکھ لیجئے۔ زکواۃ ہو، خیرات ہو یا صدقہ ہو ،۔ ایک ہاتھ سے دیا جائے اور دوسرے ہاتھ کو بھنک بھی نہ پڑے۔ مطلب یہ کہ نہایت رازداری سے بذات خود محتاج کے گھر جاکر نہ صرف اُس کی مالی مدد کی جائے بلکہ اْس کے حالات کا جائزہ لے کر اُس کی دلجوئی کی جائے اور خود بھی عبرت حاصل کی جائے۔مگر عظیم عمل کو بھی شوآف کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔اگر یہ عمل ایک مومن کرتا ہے، تو اْس کا دل ریاکاری اور تصنع کے جذبات سے خالی ہونا ضروری ہے۔
مسلمانوں کے یہاں ایک دیرینہ مغالطہ ہے کہ روزہ گیارہ ماہ کے دوران کئے گئے غلط کاموں کی صفائی کا موقعہ ہے اور زکواۃ اُن ہی غلط کاریوں سے حاصل شدہ کمائی کو صاف کرنے کا عمل۔ ایسا نہیں ہے۔ اگر روزے کے بعد ملاوٹ ،رشوت، اقربانوازی، فریب کاری، حق تلفی، جھوٹ اور چھل کپٹ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے تو ماہ مبارک میں طمطراق سے کئے گئے اعمال روح کی مزید آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔ سورۃ بقرہ میں رب فرماتا ہے: "مومنو، صدقہ و خیرات کو احسان جتا جتا کر دینے اور غریبوں کا دل دکھا کراس شخص طرح خاک میں نہ ملادو، جو لوگوں کے کھانے پر خرچ کرتا ہے۔
رابطہ 9469679449
ای میل: [email protected]