جموں//رسانہ عصمت ریزی وقتل کیس میں عدالت عظمیٰ نے مقدمہ کی سماعت کیلئے کٹھوعہ کے بجائے پٹھانکوٹ عدالت کا انتخاب کرکے انصاف کے تقاضوں اور فراہمی کے عمل کو تقویت فراہم کی ہے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں گریٹر پیر پنچال وکلاء فورم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیاہے کہ عدالت عظمیٰ کی مداخلت اور حکمنامہ کے پیش نظر اس مقدمہ میںانصاف کی فراہمی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ فورم نے سپریم کورٹ کی جانب سے مقدمہ کو سی بی آئی کے حوالہ کئے جانے کی مانگ کو مسترد کئے جانے کے فیصلہ کو بھی خوش آئند قرار دیاہے اور واضح کیاہے کہ اس حکمنامہ سے ایک مرتبہ پھر نظام عدل و انصاف کی فراہمی میں عوام کا اعتبار بحال ہواہے ۔پریس بیان کے مطابق سپریم کورٹ کا مقدمہ کی تفتیش سی بی آئی کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ ان تمام قوتوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جنہوںنے ایک معصوم بچی کے اغوا،عصمت ریزی وبہیمانہ قتل کے شرمناک واقعہ پر اپنے غلیظ عزائم اور سیاست کا گندہ کھیل کھیلنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ آج تک اس میں مصروف نظر آئے ۔بیان میں بتایاگیاہے کہ سپریم کورٹ کے اس حکمنامہ سے ریاستی پولیس کا وقار بحال ہواہے جو خوش آئند اقدام ہے ۔دریں اثناء فورم نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے اس بیان کا بھی خیر مقدم کیاہے جس میں انہوںنے مقدمہ کی شنوائی کے دوران ضروری سیکورٹی انتظامات وگواہان کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے تمام اقدامات اٹھانے جانے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔فورم نے مزید کہاکہ بار کونسل آف انڈیا کی مقدمہ کو سی بی آئی کو منتقل کئے جانے کی سفارش کو مسترد کرکے سپریم کورٹ نے یہ عندیہ دیاہے کہ بار کونسل نے بار ایسو سی ایشن جموں اور کٹھوعہ کے وکلاء کی ایماپر انتہائی جانبدارانہ اور حقیقت سے بعید رپورٹ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرکے اس ادارے کے استحقاق کو مجروح کیاہے جس کے ادارے کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہونا فطری عمل ہے ۔فورم نے مزید کہاکہ عدالت عظمیٰ کے حکمنامہ کے بعد بار ایسو سی ایشن جموں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھناچاہئے تاکہ اسے یہ احساس ہوسکے کہ اس واقعہ کے دوران اس کی شرمناک حرکتوں کی پذیرائی اوردفاع بار کونسل آف انڈیا کی فرقہ پرست انتظامیہ تو کرسکتی ہے لیکن عدالت عظمیٰ نے اس کو یکسر مسترد کردیاہے۔