سید سہیل گیلانی
دنیا میں ہمیشہ دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو پہلے سے بنے ہوئے راستوں پر چلتے ہیں اور دوسرے وہ جو خود اپنا راستہ تراشتے ہیں۔ پہلا گروہ سہولت پسند ہوتا ہے، اسے راہیں واضح، منزلیں متعین اور یقین دہانیاں درکار ہوتی ہیں۔ وہ اُن نقشوں پر یقین رکھتا ہے جو ماضی کے تجربات سے بنے ہوتے ہیں اور انہی نشانِ قدم پر چلنا اسے اطمینان بخشتا ہے۔ مگر دوسرا گروہ؟ وہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ اُس کے اندر ایک غیر روایتی سوچ، ایک بےخوف جذبہ اور ایک اجنبی سی ہمت بیدار ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف منزل تلاش کرتا ہے، بلکہ راستہ خود بناتا ہے۔
وہ زمین پر اپنی روشنی سے نئے نقش ابھارتا ہے اور اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے ایک نئی راہ چھوڑ جاتا ہے۔ راستے بنانے والوں کی زندگی کسی عام راہرو سے جدا ہوتی ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں جہاں خاموشی پسند کی جاتی ہے، وہ سوچتے ہیں جہاں سوچنا منع ہے اور وہ اُس طرف بڑھتے ہیں جہاں جانے کی کسی کو اجازت نہیں۔ ان کے سامنے آسائش نہیں ہوتی، ان کے حق میں تالیاں نہیں بجتیں اور ان کی ہر نئی سوچ کو پہلے تعجب، پھر انکار اور آخرکار اعتراف کی منزل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر موڑ پر آزمائے جاتے ہیں، لیکن رُکتے نہیں۔ اُن کے قدم تھمتے نہیں، اُن کی امید بکھرتی نہیں اور اُن کا یقین بجھتا نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جو راہ خود بنانی ہو، اس کا ہر پتھر آزمائش اور ہر موڑ امکان ہوتا ہے۔ راستہ بنانے والے وہ خواب دیکھتے ہیں جو کتابوں میں درج نہیں ہوتے۔ وہ ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جن کا کوئی روایتی جواب ممکن نہیں ہوتا۔ وہ جب دنیا کو ایک ہی دائرے میں گھومتا دیکھتے ہیں تو اُس دائرے سے باہر نکلنے کی جسارت کرتے ہیں۔ یہی ’’دیوانے‘‘ وقت کے ساتھ وہ لوگ بن جاتے ہیں جنہیں تاریخ ’’رہنما‘‘ کہتی ہے۔ وہی جو کبھی اجنبی سمجھے گئے، بعد میں قافلوں کے سرخیل بن کر ابھرتے ہیں۔ ایسے لوگ صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جیتے۔ وہ اپنے چراغ سے دوسروں کے اندھیرے کم کرتے ہیں۔ ان کا جینا، ان کی خاموشی، ان کی تھکن بھی کئی دلوں کو حوصلہ دیتی ہے۔ وہ ہاریں بھی تو اُن کی ہار ایک نئی فتح کا آغاز بن جاتی ہے۔
ان کی زندگی کا ہر لمحہ ایک نئی راہ کی بشارت ہوتا ہے۔ وقت شاید ان کی قربانیوں کو دیر سے پہچانے، مگر وہ راستے، وہ خیال اور وہ جدو جہد کبھی مٹتی نہیں۔ یہ لوگ معاشرے کے وہ خاموش معمار ہوتے ہیں جن کے فیصلے وقتی طور پر تنہائی لاتے ہیں، لیکن وہی تنہائیاں آئندہ نسلوں کے لیے اجتماعی رہنمائی بن جاتی ہیں۔ اگر آپ کے اندر یہ ہمت ہے کہ آپ روایت سے ہٹ کر سوچ سکیں، اگر آپ میں یہ شعور ہے کہ آپ ہجوم سے الگ اپنی آواز پہچان سکیں اور اگر آپ کو اپنی راہ پر یقین ہے۔ یہاں تک کہ اگر دنیا آپ کے خلاف ہو تو آپ بھی اُن لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جو نہ صرف راستے بناتے ہیں بلکہ دنیا کی سمت متعین کرتے ہیں۔ بس ایک شرط ہے۔یقین، استقامت اور خاموشی سے جلنے کا حوصلہ۔
[email protected]