کوٹرنکہ //30کلو میٹر مسافت پر مشتمل راجوری ۔کوٹرنکہ روڈکی کشادگی کا کام آج سے 12سال قبل شروع کیا گیا تھا جو اب تک مکمل نہیں ہوسکا ہے ۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ روڈ کی کشادگی کا کام بارہ سال میں محض 30فیصدی ہی مکمل ہوپایا ہے ۔ مقامی شہریوں سجاداقبال اورجہانگیر احمد نے بتایا کہ راجوری کوٹرنکہ روڈ حادثات میں تمام جگہوں سے سرفہرست ہے جس کے پیش نظر 2002میںریاستی سرکار نے روڈ کو کشادہ کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد 2005میں باضابطہ طور پر روڈ کی کشادگی کا کام شروع کیاگیا تاہم گریف کے لئے راجوری کوٹرنکہ روڈ سونے کی کان ثابت ہوئی ہے اور اس کا کام اس قدر سست روی سے چل رہا ہے کہ جسے بیان ہی نہیں کیاجاسکتا۔انہوںنے کہاکہ روڈ کو مکمل ہونے تک پتہ نہیں کتنی دہائیاں لگ جائیںگی ۔ان کاکہناتھاکہ مسافروں کو تو پریشانی کاسامناہے ہی لیکن سڑک کنارے پر بس رہے لوگوں کوبھی دھول اور کیچڑ نے ستایاہواہے ۔انہوںنے مزید بتایاکہ لوگوںکی زمینیںکھدیڑ دی گئی ہیںاور سڑک کی ملبہ زرعی اراضی پر پڑاہواہے ۔ مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر راجوری شاہد اقبال سے اپیل کی ہے کہ وہ اس روڈ کی کام میںتیزی لانے کیلئے ہدایات جاری کریں ۔