کانگریس کا یک روزہ کنونشن میںگورنر سے تحقیقات کا مطالبہ
راجوری //کانگریس نے راجوری میں سابق حکومت کے دورانیہ میں چوردوازے سے تقرریوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ مرکزی معاونت والی سکیم مہاتماگاندھی نریگاکاغلط استعمال کرتے ہوئے سابق حکمران اتحاد کے لیڈران کی جائیداد میں اضافہ کیاگیا ۔کانگریس نے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ ان معاملات کی ایک جامع تحقیقات کروائی جائے ۔ڈاک بنگلہ راجوری میں سابق ممبرپارلیمنٹ مدن لعل شرما کی قیادت میں پارٹی کارکنان کا یک روزہ کنونشن منعقد ہواجس میں سابق وزیر شبیر احمد خان ،پی سی سی ترجمان اعلیٰ رویندرشرما، یوتھ کانگریس لیڈر ستیش شرما، ضلع صدر سائیں عبدالرشید ، کے آر شرما، اقبال ملک ، خورشید میر ،مقصود چوہدری ،پشپندر گپتا، راجیش گپتا، سشیل شرما،پرمود جسیال و دیگران بھی موجود تھے ۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈران نے کہاکہ سابق پی ڈی پی۔بی جے پی اتحاد ہر ایک محاذ پر ناکام ثابت ہوااور ریاست کو تاریکی میں دھکیل دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ ترقیاتی سطح پر کام نہیں ہوئے بلکہ ترقی کا عمل ہی رک گیا۔انہوں نے الزام عائد کیاہے کہ سابق حکمران اتحاد کے دور میں ضلع راجوری میں چوردروازے سے تعیناتیاں ہوئیں جس کی ریاستی گورنر باریکی سے تحقیقات کروائیں ۔ان کاکہناتھاکہ نہ صرف تین برس میں غیرقانونی تقرریاں ہوئیں بلکہ نریگا کے فنڈز کو ناجائز استعمال کرتے ہوئے لیڈران کی جائیداد میں اضافہ کیاگیا۔انہوں نے ’فیئر پرائز شاپ ‘کی لائسنسوں کی اجرائی پر بھی سوالات کھڑ ے کرتے ہوئے کہاکہ اس سلسلے میں بھی تحقیقات کیاجانا ضروری ہے ۔ انہوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ ان معاملات کی جانچ کیلئے ایک جامع تحقیقات کروائی جائے ا ور یہ بھی دیکھاجائے کہ ارکان قانون سازیہ کی دولت میں کس قدر اضا فہ ہواہے ۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مدن لعل شرما نے کہاکہ مرکز میں برسراقتدار بھاجپا کا دو رناکامیوں سے عبارت ہے جس دوران مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ۔انہوں نے کہاکہ بھاجپا کے دور اقتدار میں کرپشن میں اضافہ ہوا اور حکومت اس پر قدغن لگانے میںناکام ثابت ہوئی ہے ۔اس دوران کسی بات پر کارکنان میں بول چال بھی ہوئی جبکہ ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے ۔