جہاں ملک کی یکساں ترقی کے لیے تمام ریاستی حکومتیں ترقیاتی منصوبے بناتی ہیں وہیں جموں و کشمیرکی انتظامیہ بھی اپنے ترقیاتی منصوبے مرتب کرتی ہے اور ان کی عمل آوری کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے مختص رکھے جاتے ہیں۔ جس سے ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح یو ٹی جموں و کشمیر میں بھی ترقیاتی کاموں کے علاوہ ہنر مند و غیر ہنر مند مزدور طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو روزگار کے مواقعے فراہم ہوتےرہتے ہیں۔ لیکن گزشتہ کئی سال سے یہاں ترقیاتی کاموں میں پہلے کے مقابلے کمی ہی دیکھنے کو مل رہی ہےاورتعمیر و ترقی میں منفی اثرات پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ایساکیوں ہورہا ہے؟ یہ بات ان لوگوں کے لئے زیادہ لمحہ فکریہ ہی نہیں بلکہ تکلیف دہ بھی ہوتی ہے جو اپنے گاؤں، دیہات، شہر، ریاست اور اپنے ملک کے لیے ترقی و خوشحالی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اگر ہم پنچایتی راج کے حوالے سے بات کریں تو رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مختلف ا سکیمیں متعارف تو کرائی جاتی ہیں اور ان سکیموں کے لیے رقومات بھی واگزار کی جاتی ہیں۔لیکن زمینی سطح پر ترقیاتی کام دیکھنے کو نہیں ملتے ہیں۔
ضلع پونچھ کے تحصیل منڈی کی مختلف پنچایتوں میں عوام کو پنچایت نمائندگان اور محکمہ ملازمین کی غیر ذمہ دارانہ کارکردگی سے بہت سارے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جیسا کہ پردھان منتری آواس یوجناا سکیم سے غریب و مستحق افراد کا مستفید نہ ہونا،زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں میں ملی بھگت،کمیشن کے نام پر رشوت وصول کرنا،مختلف اسکیموں کے تحت کام کرنے کے بعد بھی اُجرتِ مزدوری نہ ملنا،ترقیاتی کاموں کا پلان مرتب کرنے کے بعد پنچایت نمائندگان اور محکمہ ملازمین کی جانب سے مرتب شدہ پلان عوام سے پوشیدہ رکھنا،رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ افیسران کا عوامی مسائل کا ازالہ نہ کرنا جیسے مسائل سے عوام نہایت پریشان ہیں۔ ایسے حالات میں غریب عوام کی سنوائی کہاں ہو گی؟ غریب عوام فریاد کس سے کریں؟اس حوالے سے جب ہماری بات بلا ک لورن سے تعلق رکھنے والے مقامی باشندے و سماجی کارکن بشیر احمد شیخ عمر 36 سال سے ہوئی، توانہوں نے بتایا کہ جب سے نیا پنچایتی راج وجود میں آیا ہے۔اُس دن سے لیکر آج تک عوامی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہےاور زمینی سطح پر بھی کاموں میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے پنچایتی نظام کو تباہ کرنے کا ذمہ دار پنچایت نمائندگان اور محکمہ ملازمین کی مفاد پرستی کو ٹھہرایا ہےاور کہا کہ یہ لوگ اس حد تک جا چکے ہیں کہ ایم جی نریگا اسکیم کے تحت ایک لاکھ روپے کا کام کرنے والے سے بیس ہزار روپے کمیشن کے نام پر ٹھیکہ کرتے ہیں جبکہ پردھان منتری آواس یوجنا کی رقومات واگذار کروانے کے لئے بیس ہزار روپے ایڈوانس یا پھر بروقت پیسے نہ ملنے کی صورت میں ہر قسط ملنے پر 10 یا 15 ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔ جن غریب و مستحق افراد کے پاس کمیشن یا رشوت دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے ہیں، اُنہیں تمام تر سرکاری اسکیموں سے محروم رکھا جا رہا ہے۔پنچایت نمائندگان و محکمہ ملازمین کی اس کارستانی سے جو غریب عوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوئے ہیں اُن میں زیادہ تعداد پردھان منتری آواس یوجنا کے مستحقین کی ہے،جن کے پاس رہنے کے لئے گھر بھی نہیں ہے۔
بلاک لورؔن کھڑپہ پنچایت وارڈ نمبر 7 سے تعلق رکھنے والا ستارہ ولد غنی شیخ نامی شخص جو کہ نہایت ہی غریب ہے اورپی ایم اے وائی کا مستحق ہے ، کمیشن کے لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پردھان منتری آواس یوجنا اسکیم سے محروم رکھا گیا ہے۔اس حوالے سے جب سرپنچ حلقہ سیف الدین زرگر پنچائیت کھڑپہ، بلاک لورن تحصیل منڈی سے بات ہوئی تو ان کا کہناتھا کہ ستارہ ولد غنی مستحق توہےلیکن لیفٹ اوٹ لِسٹ میں ان کا نام نہیں آیاہے۔ جبکہ اسطرح کے متعدد لوگ ابھی پی ایم اے وائی اسکیم سے محروم ہیں۔جونہی دوسری لِسٹ منظر عام پر آتی ہےتومجھے یقین ہے کہ کوئی غریب پی ایم اے وائی اسکیم سے محروم نہیں رہے گااور جو لوگ ایم جی نریگا میں کام کریں گے،روزگار اُنہی کو ملے گا۔ ٹھیکہ اس اسکیم میں بالکل نہیں ہوپاتاہے جبکہ متعلقہ جی آر ایس نے دو بار مکان کا جیوٹیک کیا اور دونوں مرتبہ پانچ پانچ سو روپے لئے اور کہا کہ میں آپ کا نام پی ایم اے وائی لسٹ میں درج کرا دوں گا لیکن اس کے بعد بھی مذکورہ شخص کا نام کسی لسٹ میں درج نہ ہوسکا ہے۔
بشیر احمد شیخ نے کہاکہ پنچایت نمائندگان نے متعدد لوگوں سے پی ایم اے وائی لسٹ میں نام درج کروانے کا جھانسہ دے کر پانچ پانچ ہزار روپے ایڈوانس بھی لیے ہیں لیکن ان کا نام لسٹ میں شامل نہیںہوسکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنچایت نمائندگان و محکمہ ملازمین ترقیاتی کاموں کے پلان بند کمروں میں بیٹھ کر مرتب کرتے ہیں اور بعد میں یہ پلان عوام سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں تاکہ عوام کو کاموں کے بارے میں کوئی جانکاری نہ مل سکے اوراس طرح اپنے منظور نظر اور کمیشن دینے والوں کو ہی کام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ چودہویں ایف سی اسکیم میں بھی دھاندلی ہوئی ہے اور پنچایت نمائندگان تمام تر سرکاری اسکیموں کا عوام کے لیے کم اور اپنے ذاتی مفاد کے لیے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ رول ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران کے پاس بھی عوام کی کوئی سنوائی نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک سرکاری ٹیم بھیجی جائے جو زمینی سطح پر کاموں کا جائزہ لے،عوام سے بات کرے اورزمینی سطح پر تعمیری کاموں کے ساتھ ساتھ دفتری کاغذات بھی چیک کریں تاکہ پنچایت نمائندگان اور محکمہ ملازمین کی اصلیت سامنے آ سکے اور قصورواروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی ہو سکے۔
بلاک منڈی پنچایت چھول گگڑیاؔں کے رہنے والے سوشل ورکر گلبہار احمد لون سے جب ہم نے ترقیاتی کاموں کے بارے میں زمینی سطح پر حقائق جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا محکمہ رورل ڈویلپمنٹ کے ملازمین و پنچایت نمائندگان نے پنچایتی نظام کو ذاتی مفادات کا اڈہ بنا دیا ہے۔ زمینی سطح پر ترقیاتی کام کم اور کاغذی گھوڑے زیادہ دوڑائے جا رہے ہیں۔ محکمہ کے کاغذات اور زمینی سطح پر حقائق میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔چودہویں ایف سی،بیک ٹو ویلیج ودیگر سرکاری ا سکیموں سے عام عوام کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔جس قدر یہ اسکیم عوام کے مفاد کے لئے بنائی گئی تھیں۔اُسی قدرکچھ لوگ ان ا سکیموں کو اپنے نجی مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ یا پھر اپنے منظور نظر اثر و رسوخ رکھنے والے عزیزواقارب اور اپنے رشتے داروں کو خوش کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔اس حوالے سے جب لورن پنچائیت کھڑپہ میں ہو رہے ترقیاتی کاموں کے بارے میں وہاں پر تعینات پنچائیت سیکریٹری آشیش کمار سے بات کی تو اُن کا کہنا تھاکہ مجھے یہاں تعینات ہوئے صرف دوماہ ہوئے ہیں۔اِس سے قبل کا مجھے کوئی علم نہیں ہے کہ کس نے کیاکیا ہے۔البتہ ان دو ماہ میں جو کچھ بھی ہورہاہے، زمینی سطح پر عوام اس کی گواہ ہے۔
اس بارے میں گرام روزگار سائیک این وائی سی ریاض احمد تانترے نے کہاکہ ہم نے پردھان منتری آواس یوجنا کے مکانوں کا جی او ٹیگ کیاتھا۔ لیکن اس کے باوجود اگر لِسٹ میں ان کا نام نہیں ہے تواس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔اس نے بھی شکایات کو بوجھ اپنے سر سے اُتارنے کے لئے بتادیا کہ نہ اب تک رشوت خوری ہوئی اور نہ آیندہ ہوگی۔اب اپنی جگہ سب ٹھیک ہے توسوال یہ ہے کہ غریبوں کے ساتھ بھید بھاؤ کیوں؟ سیکریٹری پنچائیت نئے ہیں،گرام روزگار سائیک اور این وائی سی نے بھی کچھ نہیں لیاتومستحقین ا ور غریب ابھی بھی دربدر کیوں ہیں؟ آخر کب غریبوں کو انصاف ملے گا؟ یہی پر بس نہیں۔بلاک منڈی کی مختلف پنچائیتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد نوجوانوں نے زمینی حقائق کا مطالعہ کرنے کی غرض سے بلاک ڈویلپمنٹ آفیسر منڈی کے پاس رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت نسبت حصول معلوماتی ریکارڈ درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ لیکن کئی ماہ گزر جانے بعد بھی بلاگ ڈویلپمنٹ آفیسر منڈی نے معلوماتی ریکارڈ واگذار نہ کیا، کیوں کہ اس سے محکمہ ملازمین اور پنچایت نمائندگان کی ناقص کارکردگی اور ملی بھگت سے پردہ فاش ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تا حال کسی بھی شخص کو معلوماتی ریکارڈ واگزار نہیں کیا گیاہے۔ ریکارڈ طلب کرنے والے بھی فی الحال بلاک ڈویلپمنٹ آفیسر منڈی کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔
اس حوالے سے جب ہم نے اسسٹنٹ کمشنر ڈویلپمنٹ پونچھ شری راجیش لکھن سے بذریعہ فون بات کی تو انہوں نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا اور صفائی پیش کرتے ہوے بتایا کہ میں رشوت خوری کے سخت خلاف ہوں۔انہوں نے صاف کر دیا کہ رشوت خوروں کے خلاف میرا مشن بھی شروع ہوچکاہے۔میں نے بلاک سرنکوٹ میں ایک پنچایت سیکریٹری کی رشوت خوری پر سخت اقدام اٹھاتے ہوئے اس کو گرفتار کروایاہے۔اس کے خلاف تحقیقات باریک بینی سے جاری ہےاور ایجنسیاں بھی اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوے ہیں،اور مزید ایسے عناصر سماج میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام سرکاری تحقیقاتی اداروں کو تحریرلکھ کر بھیجیں اور مجھے بھی اس کی کاپی ارسال کریں تاکہ قصورواروں کے خلاف قانونی کاروائی ہو سکے۔ ڈویلپمنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ ضلع پونچھ میں سرکاری ایجنسیاں اکثر آتی رہتی ہیں۔اگر کوئی بھی شخص پیش ہونا چاہتا ہو تو جب بھی کوئی تحقیقاتی ٹیم آئے گی،میں آپ کو قبل از وقت بذریعہ فون مطلع کروں گا۔البتہ انہوں نے عوامی مسائیل یا مزید ٹھیکداری معاملات پر بات کرنے سے گریز کیا۔
بہرحال کاروائی ہونا ایک عام بات ہے۔لیکن اس کاروائی کے ذریعہ کسی معاملہ کی سطح تک جانا بہت مشکل ہے۔ وقت کی ضرورت اور کوویڈ۔19کے مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے آفیسران اور ملازمین کو چاہئے کہ وہ سبھی سرکاری اسکیموں کو زمینی سطح پر کارگر بنانے کی کوشش کریں تاکہ عوام کی پریشانی ختم ہو اور وہ بھی ترقیاتی اسکیموں سے مستفید ہوسکے۔
(منڈی،پونچھ ۔جموں)