یواین آئی
نئی دہلی// نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کہا ہے کہ گریجویشن کی ڈگری محض ایک کاغذی سند نہیں بلکہ سماج کی خدمت کرنے ، اپنی صلاحیتوں کو وسیع بھلائی کے لیے استعمال کرنے اور سب سے بڑھ کر “قوم سب سے اوپر” کے اصول کو قائم رکھنے کا ایک عہد ہے ۔ رادھا کرشنن نے ہفتہ کو دہلی یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے قابلِ ذکر 104 سالہ سفر اور علمی برتری و تسلسل کے تئیں اس کی غیر متزلزل وابستگی کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کا آغاز صرف تین کالجوں، دو فیکلٹیوں، آٹھ شعبوں، عطیہ میں ملی کتابوں کے ایک چھوٹے کتب خانے اور 750 طلبہ سے ہوا تھا۔ آج اس میں 16 فیکلٹیاں، 86 شعبے ، 90 کالج، 20 ہاسٹل، 30 سے زیادہ مراکز و ادارے ، 34 کتب خانے اور چھ لاکھ سے زیادہ طلبہ ہیں۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کو ملک کے سب سے معزز اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے اس نے ایسے دانشور پیدا کیے ہیں جنہوں نے ہندوستان کی فکری، سیاسی، سائنسی اور ثقافتی زندگی کی قیادت کی ہے ۔ طلبہ سے کہا گیا کہ وہ اب ان باصلاحیت سابق طلبہ کی روایت میں شامل ہو رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کو بھی تشکیل دیا ہے ۔
نائب صدر نے کہا کہ کانووکیشن محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ یہ ایک اختتام اور ایک نئی شروعات دونوں کی علامت ہے ۔ یہ برسوں کی تعلیم، نظم و ضبط، دوستی، امتحانات اور خود شناسی کا جشن ہے ، ساتھ ہی گریجویٹس کے لیے ذمہ داری کے وسیع میدان میں باضابطہ داخلے کا اشارہ بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گریجویٹس ایک ایسے دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں جو تبدیلی سے گزر رہی ہے ۔ ٹیکنالوجی صنعتوں کو نئی شکل دے رہی ہے ، مصنوعی ذہانت کام کی نوعیت کو دوبارہ متعین کر رہی ہے ، ماحولیاتی تبدیلی ترقی کے نمونوں کو چیلنج کر رہی ہے اور دنیا بھر میں جمہوریت کا امتحان لیا جا رہا ہے ۔ ایسے حالات میں ڈگری صرف ایک سند نہیں بلکہ ایک عہد ہے : سماج کی خدمت کا عہد، اپنی صلاحیتوں کو وسیع بھلائی کے لیے استعمال کرنے کا عہد، صرف اپنے لیے نہیں بلکہ قوم کی فلاح کے لیے جینے کا عہد اور سب سے بڑھ کر “قوم سب سے اوپر” کے اصول کو قائم رکھنے کا عہد۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور دور اندیشی میں ہندوستان نے خود انحصار ہندوستان بننے اور 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے ، جب ملک اپنی آزادی کی 100ویں سالگرہ منائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ خود انحصاری کا مطلب ہے جدت، پیداوار، تحقیق اور ہندوستانی حالات پر مبنی ایسے حل تیار کرنے کی صلاحیت جو عالمی سطح پر مسابقتی ہوں۔ ترقی یافتہ ہندوستان کا مطلب ہے شمولیتی ترقی، تکنیکی قیادت، سماجی ہم آہنگی، ماحولیاتی پائیداری اور شفاف و جوابدہ ادارے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سے ڈگری حاصل کرنے والے چاہے سائنسدان بنیں، سول سرونٹ، کاروباری، فنکار، وکیل، استاد یا موجد، وہ 2047 کے ہندوستان کو تشکیل دیں گے ۔ خود انحصار اور ترقی یافتہ ہندوستان کی کامیابی ان کی ایمانداری، قابلیت، ہمدردی اور جدت کی روح پر منحصر ہوگی۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ گریجویٹس میں 50 فیصد سے زیادہ اور گولڈ میڈل حاصل کرنے والوں میں 70 فیصد سے زیادہ خواتین ہیں۔ انہوں نے اسے ملک میں خواتین کی تعلیم کی بے مثال ترقی کا ثبوت قرار دیا۔
آخر میں انہوں نے تمام گریجویٹ طلبہ کو ان کی مسلسل محنت سے حاصل اس کامیابی پر دعائیں اور نیک تمنائیں پیش کیں۔