سرینگر// سکھ برادری نے واضح کیا کہ وہ دہلی اور اتر پردیش کی سیاست کیلئے وادی کو سیاسی میدان میں تبدیل کرنے کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیںگے،جبکہ اس بات کی وضاحت بھی کی کہ کشمیر میں زبردستی تبدیل مذہب نہیں کیا جا رہا ہے۔ایوان صحافت کشمیر میں پریس کانفرنس کے دوران کل جماعتی سکھ کارڈی نیشن کمیٹی کے سربراہ جگموہن سنگھ رینہ نے بیرون ریاستوں سے کچھ لیڈروں کی کشمیر آمد کو یہاں کے پرامن اور سکھ مسلم ہم آہنگی کو زک پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر’’ میں وہ اپنے سینوں پر کسی اور کی بندوق کو چلانے کی اجازت نہیں دینگے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سکھ برادری اکثریتی مسلم طبقے کے ساتھ ہم آہنگی سے زندگی بسر کر رہی ہے اور پچھلے کئی سالوں میں ، دونوں طبقوں کے مابین خلیج پیدا کرنے کی بہت ساری کوششیں کی گئیں تاہم ، دونوں برادریوں کے مابین موجود مضبوط رشتوں کی وجہ سے مذموم منصوبے شکست کھا گئے۔ان کا کہنا تھا’’چونکہ حالیہ ماضی میں کچھ بدقسمتی کے واقعات منظرعام پر آئے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ مسلمان اور سکھ دونوں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھیں،عوام کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ماحول خراب نہ ہو کیونکہ دونوں طبقوںنے ایک دوسرے کی مدد مشکل اوقات میں کی ہے اور یہ دونوں جماعتوں کے ممبروں کی ذمہ داری ہے کہ ہم آہنگی کو جاری رکھیں۔‘‘ انہوں نے بین المذاہب ازدواج قانون کے نفاذ کی وکالت بھی کی۔رینہ نے کہا’’میں سکھ برادری کی جانب سے درخواست کروں گا کہ جموں و کشمیر میں’’ انٹر کاسٹ میرج ایکٹ‘‘ نافذ کیا جائے اور ایک بار جب اس قانون کو عملی جامہ پہنایا گیا تو بین ذات پات کے ازدواج ازخود ختم ہوجائیں گے،جبکہ اس سے مختلف مذاہب سے وابستہ لوگوں کے مفادات کا تحفظ ہوگا اور ایسے عناصر جو اس طرح کی شادیوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ،انہیں بھی ایک ناگزیر شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں برسوں سے اعلیٰ سیاسی گھرانوں کے افراد کو بین ذات پات کے شادی میں ملوث کیا گیا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی نے بھی ان کی طرف انگلی نہیں اٹھائی۔ رینہ کا کہنا تھا کہ جب بھی عام خاندان میں ایسا واقعہ ہوتا ہے تو مسئلہ اٹھایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا’’ اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے اور لوگوں کو چوکس رہنا چاہئے تاکہ موقع پرست سیاستدان ان کا استحصال نہ کریں۔‘‘کل جماعتی سکھ کارڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ بھی اہم ہے کہ جموں وکشمیر میں تبدیلی مذہب کے انسداد قانون نافذ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا’’ اس سے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افرادکے زبردستی تبدیل مذہب کا سلسلہ رک جائے گا اور مختلف برادریوں کے مابین تنازعہ کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والی اکثریتی فرقے سے تعلق رکھنے والی ان بچیوں کے بارے میں بھی فکر مند ہے جو حصول تعلیم کیلئے بیرون ریاستوں میں جاتی ہیں اور انکی شادیاں وہاں غیر مسلموں سے ہوتی ہیں۔