عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//دھیری ریلیوٹ واٹر سپلائی سکیم گزشتہ کئی ہفتوں سے مکمل طور پر بند پڑی ہے جس کے باعث دو پنچایتوں کے سینکڑوں گھروں میں پانی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔ پانی کی اس سنگین قلت نے نہ صرف عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ مویشی بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقامی آبادی کو پینے کے پانی کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے، جس سے خواتین، بزرگوں اور بچوں کو خاصی پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔مکینوں نے بتایا کہ رمضان میں پانی کی سپلائی بند ہو گئی تھیجبکہ انہوں نے اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسران کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ ہر دوسرے ماہ واٹر سپلائی سکیم میں نصب موٹر یا اس کا پمپ خراب ہو جاتا ہے، جس کے باعث کئی کئی دنوں تک پانی کی سپلائی بند رہتی ہے۔ اس کے باوجود حکام اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ کے ذمہ داران اس اہم عوامی مسئلے کو نظر انداز کر رہے ہیں، جبکہ علاقے میں ابھی تک جل جیون مشن کے تحت پائپ لائن بچھانے کا کام بھی مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔ کئی مقامات پر پرانی اور بوسیدہ پائپ لائنیں ہی استعمال کی جا رہی ہیں، جو بار بار لیک ہونے کے باعث پانی کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ واٹر سپلائی سکیم میں نصب موٹر پمپ 1990 کی دہائی کا بتایا جا رہا ہے، جسے آج تک تبدیل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ پرانی مشینری کی وجہ سے یہ نظام بار بار خراب ہو جاتا ہے اور محکمہ صرف عارضی مرمت کے ذریعے کام چلاتا ہے، جس سے مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہو پاتا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جب کبھی مشینری کو عارضی طور پر درست کر کے پانی سپلائی بحال کی جاتی ہے تو پرانی اور خستہ حال پائپوں سے پانی رس کر ضائع ہو جاتا ہے، جس کے باعث گھروں تک مناسب مقدار میں پانی نہیں پہنچ پاتا۔ اس صورتحال نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور لوگ شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کاغذی کارروائیوں میں واٹر سپلائی سکیم کو فعال دکھایا جاتا ہے، لیکن زمینی سطح پر عوام کو اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں مل رہا۔ پانی کی عدم دستیابی نے علاقے میں صحت و صفائی کے مسائل کو بھی جنم دیا ہے، جس سے بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔مقامی لوگوں نے حکومت اور متعلقہ محکمہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دھیری ریلیوٹ واٹر سپلائی سکیم کے لیے فوری طور پر نئی اور جدید مشینری نصب کی جائے اور بوسیدہ پائپ لائنوں کو تبدیل کیا جائے، ساتھ ہی محکمہ کے ملازمین اور افسران کو سخت ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کا فوری حل یقینی بنائیں۔دوسری جانب محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ نئی مشینری کی تنصیب کے لیے مقامی ممبر اسمبلی کو تخمینہ لیٹر ارسال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فنڈز کی منظوری کے بعد جلد ہی اس مسئلے کا مستقل حل نکال لیا جائے گا اور متاثرہ علاقوں میں پانی کی سپلائی بحال کر دی جائے گی۔