ایجنسیز
دائوس//سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت کسی تدریجی تبدیلی سے نہیں بلکہ عالمی نظام کی ایک واضح ٹوٹ پھوٹ کے مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان جغرافیائی سیاست پر کسی قسم کی مؤثر پابندی باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی سیاست میں طاقتور ممالک کا اثر بڑھ رہا ہے، تاہم کناڈا جیسے درمیانی طاقت والے ممالک بے اختیار نہیں ہیں اور وہ باہمی تعاون کے ذریعے ایک نئے نظام کی تشکیل کر سکتے ہیں۔کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا،’’کناڈا اور دنیا کے لیے اس اہم موڑ پر آپ کے ساتھ رہنا ایک خوشی اور ایک فرض ہے۔ آج، میں عالمی نظام میں ٹوٹ پھوٹ، ایک اچھی کہانی کے اختتام، اور ایک سفاک حقیقت کے آغاز کے بارے میں بات کروں گا جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان جغرافیائی سیاست کسی قسم کی پابندیوں سے مشروط نہیں ہے۔
لیکن میں آپ سے یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ دوسرے ممالک، خاص طور پر درمیانی طاقتیں جیسے کناڈا، بے اختیار نہیں ہیں۔ ان کے پاس ایک نیا نظام بنانے کی صلاحیت ہے جو انسانی حقوق کا احترام، پائیدار ترقی، یکجہتی، خودمختاری اور ریاستوں کی علاقائی سالمیت جیسی ہماری اقدار کو مجسم بناتی ہے۔ کم طاقتور کی طاقت ایمانداری سے شروع ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے کہا،’’ہمیں بار بار یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ ہم عظیم طاقتوں کی دشمنی کے دور میں جی رہے ہیں۔ قواعد پر مبنی عالمی نظام کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ طاقتور ممالک وہی کرتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں، اور کمزوروں کو وہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے جو ان پر مسلط ہو جاتا ہے۔1978 میں، چیک جمہوریہ کے باغی رہنما واکلیو ہیول، جو بعد میں صدر بھی بنے، نے دی پاور آف دی پاور لیس کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے ایک سادہ سا سوال اٹھایا تھا کہ کمیونسٹ نظام نے آخر خود کو کیسے برقرار رکھا تھا؟اس سوال کا جواب وہ ایک سبزی فروش کی مثال سے دیتے ہیں۔ہر صبح، ایک دکاندار اپنی دکان کی کھڑکی میں ایک تختی لگاتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے، ’دنیا کے مزدورو، ایک ہو جاؤ۔‘ وہ خود اس نعرے پر یقین نہیں رکھتا۔ کوئی بھی اس پر یقین نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہ تختی لگاتا ہے—پریشانی سے بچنے کے لیے، وفاداری کا اشارہ دینے کے لیے اور نظام کے ساتھ تال میل برقرار رکھنے کے لیے۔جب ہر گلی میں ہر دکاندار یہی عمل کرتا ہے تو نظام قائم رہتا ہے۔ یہ محض تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ عام لوگوں کی اس شمولیت کی وجہ سے ہوتا ہے، جس میں وہ ایسی رسومات کا حصہ بنتے ہیں جنہیں وہ نجی طور پر جھوٹ سمجھتے ہیں۔ہیول نے اس کیفیت کو ‘جھوٹ کے اندر جینا’ قرار دیا تھا۔