جموں//دارالعلوم انوریہ ڈگیانہ میں گزشتہ روزجلسۂ تقسیم اسنادو مجلسِ دستار بندی حفاظ کرام و ابنائے قدیم زیر صدارت مولانا حکیم الدین قاسمی منعقد کیا گیا۔نظامت کے فرائض اجمل ندوی مہتمم دار العلوم انوریہ نے انجام دئیے جبکہ سرپرست عمومی کی حیثیت سے مولانا غلا م قاد ر نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر ۳۵؍حفاظ کرام کو تصدیقات و اسنادسے نوازا گیا ۔جب کہ امسال شعبہ حفظ سے فارغ ہونے والے 4 حفاظ کرام کی دستار بندی شہر کے موقر علماء کے ہاتھوں بھی ہوئی ۔اجلاس میں شرکت کرنے والے والدین اور سرپرستوں نے اساتذہ دارالعلوم کی محنتوں کو سراہا اور دارالعلوم کے مہتمم کو مبارکباد دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ اساتذہ کی جہد مسلسل کے بغیر بچو ں کی یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔واضح رہے کہ جلسہ میں ریاست کی جن شخصیات نے شرکت کی ان میں مفسر قرآن مولانا فیض الوحید قابل ذکر ہیں ۔انہوں نے اپنے خطا ب میں معاشرے کی زبو ںحالی کو بیان کرتے ہوئے عوام الناس کو باخبر کیا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالہ سے خود پر عائد ہونے والے فرائض اور ذمہ داریوں کو خوب اچھی طریقہ پر بہرحال انجام دیں۔تب ہی جاکر ہماری معاشرتی زندگی بہتر ہوسکتی ہے ۔معاشرہ تباہی کی طرف جارہا ہے اور اس تباہی سے اس کو بچانے کا واحد ذریعہ دینی اور قرآنی تعلیم ہے ۔اس اجلاس عام کی ایک خاص کڑی’’ محفل حسن قرآت ‘‘تھی جس میں ریاست کے چنند ہ قراء کرام نے شرکت کرکے قرآن پاک کو اپنے مخصوص انداز میں پڑھ کر حاضرین اور ناظرین کو خوب خوب محظوظ کیا ۔اس موقع پر منعقدہ آخری نشست میں مولانا فتح محمد کا تاریخی خطاب ہوا جس میں انہوں نے معاشرتی سطح پر تعلیم کی کمی و دینی مزاج سے غفلت کی بنیا د پر ہونے والے بگاڑ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے البیلے اور خوبصورت انداز میں اس کی اصلاح کی تلقین کی اور یہ حقیقت واضح کردی کہ دینی تعلیمات کو مضبوطی سے اپنائے بغیر ہمارے مسائل اور مشکلات حل نہیں ہوسکتے ۔سب سے آخر میں حضرت مولانا شکیل الرحمان ندوی چیئرمین علی میاں ندوی ٹرسٹ جموں کا نہایت پرمغز اور معنی خیز خطا ب ہوا۔جس میں انہوں نے وقت کے سلگتے ہوئے مسائل پر روشنی ڈالی اور حل بھی پیش کیا۔انہوںنے تمام ابنائے قدیم ،حفاظ کرام اور قراء حضرات کے لیے حوصلہ افزا کلمات کہے اور ان تمام کو اپنے ہاتھوں سے دارالعلوم کی طرف سے پیش کیے جانے والے انعامات تقسیم کیے۔انہوںنے اس موقع پر دارالعلوم میں زیر تعلیم تمام طلبا کی جم کر حوصلہ افزائی فرمائی اور انہیں محنت و لگن سے تعلیم کی تحصیل میں لگے رہنے کی تلقین کی ۔