عظمیٰ نیوز سروس
حیدرآباد// پائیدار ترقی کے حصول کے لیے انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اختراعی صلاحیتوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے کیا۔ وہ کل مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، شعبۂ مینجمنٹ و کامرس کے زیر اہتمام دو روزہ قومی کانفرنس کا افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کا عنوان “کاروباری ماحولیاتی نظام میں پیراڈائم شفٹ: ہندوستان کی ترقی کے تناظر میں اختراعات، مصنوعی ذہانت، محصول اور پائیدار ترقی کے اہداف” تھا۔ اس کانفرنس کا انعقاد شعبۂ مینجمنٹ و کامرس نے مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم (CDOE) کے اشتراک سے کیا ہے۔ڈاکٹر سوریہ کانت شرما نے اس کانفرنس میں بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور اس کے عوامی زندگی پر اثرات سے کسی طرح بھی فرار ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی قوم اختراع کے میدان میں باصلاحیت ہے اور ایک خوشحال ہندوستان کی تعمیر کے لیے اس طرح کی اختراعی سوچ اور اقدامات کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔کانفرنس کے افتتاحی الاس کا کلیدی خطبہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ وشاکھاپٹنم کے پروفیسر وجیا بھاسکر مریسیٹی نے پیش کیا۔ انہوں نے یہ بات واضح کی کہ کس طرح ٹیکنالوجی کو کاروبار اور معیشت کے بہتر نظم و نسق کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کارپوریٹ دنیا میں وسائل کے موثر استعمال کو بیان کیا اور کہا کہ اختراع اور ڈیجیٹل ترقی ہندوستان کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔