سرینگر//وادی کشمیر میں خود کشیوں کے سلسلہ وار واقعات ،نشہ خوری اور بردہ فروشی کے دھندوں کو پریشان کن غیر یقینی حالات شاخسانہ قرار دیتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے کہا کہ کوئی بھی قوم جس کو ہر لحاظ سے اور ہر سطح پر زیادتیوں اور محرومیوں کا سامنا ہو ،وہ نفسیاتی اور ذہنی طور منتشر ہو کراس طرح کی صورتحال سے دوچار ہو سکتی ہے، تاہم دین اسلام نے اپنے پیروکاروں کو ہر قسم کے سنگین حالات سے نمٹنے کا طریقہ کار اور علاج وضع کر رکھا ہے جو قرآن اور سنت کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔ایک بیان میں آغاحسن نے کہا کہ کشمیر میں اس طرح کے بھیا نک سماجی جرائم کے اسباب اور عوامل واضح ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس معاملے میں اپنی انسانی و شرعی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے میدان عمل میں آجائیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کو سماجی جرائم او راخلاقی برائیوں کی آماجگاہ بناکر کشمیر دشمن قوتیں اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے کافی مدت سے سرگرم ہیں۔ وادی میں منشیات ،خود کشی کے واقعات اور جسم فروشی کے دھندے اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بردہ فروشی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ،یہاں اس شیطانی دھندے کو پروان چڑھانے میں ہمیشہ با رسوخ عناصر ملوث رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قوم و معاشرے کو اس تباہ کن صورتحال سے بچانے کے لئے دینی اور سماجی تنظیموں کا متحرک ہونا انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ دینی تنظیموں کا شرعی و منصبی فریضہ بھی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں غفلت شعاری بد ترین خیانت ہے، اس لئے صورتحال پر غور و فکر اور کوئی لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے دینی و سماجی تنظیموں کو آگے آنا چاہےے۔