واشنگٹن،26 دسمبر(یواین آئی) امریکی خلائی تحقیقی ادارہ ناسا کی مہنگی ترین جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو کئی مہینوں کی تاخیر کے بعد خلا میں روانہ کردیا گیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ٹیلی اسکوپ کو یوروپی خلائی ایجنسی آریان فائیو کے راکٹ کے ذریعے جنوبی امریکہ میں فرانسیسی کالونی فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق اپنی تحقیق کے دوران یہ مشن مختلف سیاروں، سیارچوں اور خلا میں دیگر مقامات پر زندگی کی تلاش اور تحقیق کا کام کرے گا۔اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے میں 30 برس کا عرصہ لگا ہے اور اسے 21 ویں صدی کے سب سے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ خلا میں ان ستاروں کو ڈھونڈ پائے گی جو ساڑھے 13 ارب سال پہلے کائنات میں سب سے پہلے روشن ہوئے۔واضح رہے کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ امریکی خلائی ادارے ناسا، یوروپی خلائی ادارے ’ایسا‘ اور کینیڈین خلائی ادارے سی ایس اے کا 10 ارب ڈالر کی لاگت کا مشترکہ منصوبہ ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے کامیاب لانچ پر سب کو مبارکباد دی ہے۔مسٹر بائیڈن نے ہفتہ کو ٹویٹر پر کہاکہ "نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) اور ہر ایک کو مبارکباد جس نے آج جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو کامیابی سے لانچ کیا۔ ویب طاقت کی ایک بہترین مثال ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر ہمارے خواب بڑے ہوں تو ہم کیا کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔"صدر نے کہا کہ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کا منصوبہ بہت پرخطر کام تھا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جتنا زیادہ خطرہ ہوتا ہے پھل بھی اتنا بڑا ملتا ہے۔ جدید ترین جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو ہفتہ کو فرانسیسی گیانا کے کوورو اسپیس پورٹ سے ایک ایرین 5 راکٹ سے لانچ کیا گیا۔اس سے پہلے مشہور ہبل ٹیلی سکوپ اب تک کی سب سے بڑی اور طاقتور دوربین تھی لیکن اب ویب نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ یہ اس وقت زمین سے 67,800 میل (109,110 کلومیٹر) سے زیادہ دور ہے اور اپنے مشاہداتی مقام لینگریج پوائنٹ 2 (ایل2) کے راستے پر ہے، جو زمین سے تقریباً دس لاکھ میل (16 لاکھ کلومیٹر) پر واقع ہے۔