دنیا بھر کی طرح خطہ پیر پنچال میں بھی عید میلاد النبی ؐ کی مناسبت سے تقاریب منعقد ہوئیں اور جلوس برآمد ہوئے ۔خطے کے دونوں اضلاع راجوری اور پونچھ میں بڑی تعداد میں ان جلوسوں اور تقاریب میں فرزندان توحید نے شرکت کی اور شہر و گام میں لبیک یا رسول اللہ ؐ ،سرکار کی آمد مرحبا و دیگر نعروں کی صدائیں گونجتی رہیں ۔
پونچھ
حسین محتشم
پونچھ//ضلع پونچھ میں بھی بارہ ربیع الاول کو جشن عید میلاد النبیؐ بھرپور جوش و جذبے اور مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا۔اس دوران ضلع پونچھ کے صدر مقام پر دور دراز علاقہ جات سے چھوٹی چھوٹی ریلیوں اورجلوسوں کی شکل میں نعت خوانوں نے سرورکائنات کو گْل ہائے عقیدت پیش کئے جو مرکزی جامع مسجد پونچھ میں اکھٹا ہوئے جہاں محفل میلاد منعقد کی گئی۔اس موقعہ پر ریاست اور بیرون ریاست کے علاوہ مقامی علمائے کرام نے سیرت سرکار دوعالم بیان کی اور نعت خواں حضرات نے نعت کا نذرانہ پیش کیا۔یہ سلسلہ دوپہر دو بجے تک جاری رہا جس کے بعد نماز جمعہ ادا کی گئی اوراس کے فوراً بعد مرکزی جامع مسجد سے ضلع کا سب سے بڑا جلوس برآمد کیا گیا جس میں فرزندان توحیدکے سرکارکی آمد مرحبا کے نعروں سے فضاگونجتی رہی۔ اس وران شہر،گلیاں ، مساجداوربازار سبزجھنڈوں اوررنگ برنگے برقی قمقموں سے جگمگا اٹھے۔پونچھ میں دیگر کئی مقامات پر بھی ایسے ہی جلوس نکالے گئے اور میلاد کی تقاریب منعقد ہوئیں ۔
منڈی
عشرت بٹ
منڈی//منڈی میں سب سے بڑی تقریب جامعہ مسجد اعلی پیر میںہوئی جس کی صدارت جامعہ مسجد کے امام مولانا شاہد بخاری نے کی۔ تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر علماء نے سیرت النبی ؐ پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی موئے مقدس کی زیارت بھی کروائی گئی ۔اپنے خطاب میںمولانا سید شاہد بخاری نے کہا کہ آج کا دن عالم انسانیت کے لئے بڑی رحمت اور برکت والا دن ہے کیونکہ آج پیغمبر آخر زماں حضرت محمد مصطفیؐ کی ولادت ہوئی ۔ان کاکہناتھاکہ اللہ نے ختم نبوت حضرت محمد مصطفیؐ کو قرآن مجید میں یٰسین ،مزمل اورمدثر کہہ کر پکارا ہے اور یہ پوری کائنات انہی کے سبب خلقت میں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اللہ رسول اکرم ؐکو پیدا نہ کرتا تو وہ دنیا کی کسی بھی چیزوجود میں نہ آتی ۔ مولانا الطاف حسین نے بھی اس موقعہ پر خطاب کیا۔ دریں اثنا اعلیٰ پیر سے ایک جلوس بھی برآمد کیا گیا جو منڈی میں اختتام پذیر ہوا۔ اس سلسلے کی دوسری بڑی تقریب انجمن رضائے مصطفیؐ مرکزی جامع مسجد منڈی کی طرف سے منعقد کی گئی جس کی صدارت مرکزی جامعہ مسجدمنڈی کے امام و خطیب مولانا سید محمد امین شاہ گیلانی نے کی ۔تقریب سے بیرون ریاست سے تشریف لائے ہوئے عالم دین مولانا انظار احمد قادری نے سیرت رسول ؐکے حوالے سے کہا کہ اللہ کے نبی تمام عالمین کے لئے رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے نبی ؐکے بتائے ہوئے راستے کو اپناکرزندگی گزاریں ۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں تمام امت مسلمہ کو ایک مرکز پر اتحاد بین المسلمین کے بینر تلے یکجا ہوناچاہئے تاکہ اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کیاجاسکے ۔ آخر پر مولانا سید محمد امین شاہ گیلانی نے تمام شرکا محفل اور ضلع انتظامیہ اور پولیس کا شکریہ اد اکیا ۔اس دوران مقامی علماء نے بھی خطاب کیا ۔ تحصیل میں دیگر کئی جگہوں پر بھی تقاریب منعقد کی گئیں ۔
مینڈھر
جا وید اقبال
مینڈھر//مینڈھر میں بھی میلاد تقریبات کا اہتمام کیاگیا ۔ سب سے بڑی تقریب مر کز ی جا معہ مسجد میں ہوئی جس میں ہز ارو ں کی تعداد میں لو گو ں نے شرکت کی ۔ اس تقریب کی صدارت امام و خطیب مر کز ی جا معہ مسجد مینڈھر مو لانا محمد سلطان نقشبندی نے کی ۔ اس موقعہ پر دن بھر مسجد میں تقریرو ں کا سلسلہ چلتا رہا جبکہ نماز جمعہ سے قبل ہز ارو ں کی تعداد میں لو گ بڑے بڑ ے جلوسوں میں نعرو ں کی گو نج سے جامعہ مسجد میں آتے رہے جہا ں پر ایک جم غفیر بن گیا ۔مقررین نے کہا کہ وہ سب اسلا می تعلیمات پر عمل پیرا ہو جا ئیں اور قرآن و سنت پر عمل کیا جائے ۔انہو ں نے کہا کہ میلا د ؐیعنی یوم ولا دت منانا مسلمانو ں کے لئے با عث خیر و بر کت ہے۔ ا نہو ں نے کہا کہ رسول اللہ کی تعلیمات ہی عالم انسانیت کیلئے با عث کا میا بی ہے ۔ نما ز جمعہ کے بعد مر کز ی جا مع مسجد مینڈھر سے ایک جلوس نکالا گیا جس میں بڑی تعداد میں عقید ت مندو ں نے شرکت کی ۔ جلوس بازار سے ہو تے ہو ئے بس اڈا مینڈھر پہنچا جہاں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں خطیب مسجد کی صدارت میں سید نز اکت حسین شاہ ، ایڈووکیٹ نظیر چو ہد ری، حا فظ جمیل الرحمن، مفتی معروف حسین مصبا حی نے مہمان خصو صی کے طور پر شرکت کی جبکہ حا فظ عبدالقیوم ، حا فظ عبدالرحیم، حا فظ عبدالرئوف اور مو لا نا محمد صدیق نقشبندی صدر سنی جمعیتہ العلما مینڈھر،حا جی معروف ،محبوب احمد ، حا فظ عبدلرازق ودیگران بھی موجو دتھے ۔آخر پر دعا کے بعد مر کز ی جا مع مسجد مینڈھر کی انتظامیہ کی جانب سے عقید ت مندو ں میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔
اس کے علا وہ دعوت اسلا می کی جانب سے پیر با با چھو ٹے شاہ سخی میدان سے ایک جلوس بر آمد کیا گیا جس میں ہز ارو ں کی تعداد میں لو گو ں نے شمو لیت کر کے کئی کلو میٹر پید ل سفر طے کیا ۔ اس دوران تمام علا قہ نعرو ں کی آواز سے گو نجتا رہا۔ یہ جلوس او پی ہل سٹیڈیم مینڈھر پہنچا جہا ں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے علماء نے سیرت النبی ؐ کے مختلف گوشوئوں پر روشنی ڈالی ۔پر وگر ام کی صدارت دعوت اسلا می کے امیر مو لانا محمد مشتا ق اطا ری کر رہے تھے جبکہ مو لانا شہزاد احمد اور مو لانا عبدالرقیب نے بھی اس موقعہ پرخطاب کیا۔آخر میںدعوت اسلامی کے مرکز جامع مسجد ڈھکی میں دعا کے بعد لنگر تقسیم کیا گیا ۔
ایک اور جلوس ہر نی علا قہ سے برآمدہوا جس میں بھی بڑی تعداد میں لو گو ں نے شمولیت کی۔یہ جلوس وسیم احمد خان کی قیا دت میں ہر نی سے شروع ہوا اوراس میں شامل کئی لوگ پیادہ تھے جبکہ کئی گاڑیوں پر تھے ۔ جب جلوس جامع مسجد شیپ شپڈ پہنچا تو وہا ں پر جا مع مسجد کے امام و خطیب مو لانا حق نو از خان نے اس کا استقبال کیا اور پھر جلو س جا مع مسجد دھار کس مینڈھر کی طرف روانہ ہوگیا ۔دھار کس میں لنگر بھی تقسیم کیاگیا ۔مینڈھر میںدیگر کئی مقامات پر بھی جلوس نکالے گئے اور تقاریب منعقد ہوئیں۔
میلاد کے حوالے سے مینڈھر انتظامیہ کی طرف سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے جبکہ ایس ڈ ی ایم مینڈھر راہل یا دو، تحصیلدار مینڈھر شہزاد لطیف خان اور ایس ڈی پی او مینڈھر ریا ض تا نترے بھی جلوس کے ہمر اہ رہے ۔
سرنکوٹ
بختیار حسین
سرنکوٹ//عید میلادؐ کی مناسبت سے سرنکوٹ میں بھی فرزندان توحید نے جہاں مساجد اور گھروں میں دینی محفلوں کا انعقاد کیا وہی سرنکوٹ بازار میں ایک بہت بڑاجلوس بھی نکالا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کررہے تھے ۔جلوس صبح گیارہ بجے مرکزی جامع مسجد سرنکوٹ سے نکالا گیا جس میں دیگر مساجد سے بھی فرزندان توحید نے شرکت کی ۔یہ جلوس ہاڑی محلہ سے واپس ہوکر جامع مسجد میںہی اختتام پذیر ہوا۔آخر پر امت مسلمہ کیلئے دعائیں کی گئیں ۔اس دوران مختلف مساجد میں تقاریب منعقد ہوئیں جہاں علمائے اکرام نے اس بات پر زور دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطابق ہی زندگی گزاری جائے اور انہی راستوں پر عمل پیرا ہواجائے جو رسول اکرم ؐ نے بتائے ہیں ۔علماء نے مقامی انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ افسران نے میلاد پروگراموں کے سلسلے میں کوئی میٹنگ نہیں کی اورنہ ہی خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ۔ انہوںنے کہاکہ آئندہ اس طرح کی کوتاہی نہ برتی جائے اور انتظامات کو یقینی بنایاجائے ۔
سمت بھارگو
راجوری
راجوری //ضلع راجوری میں بھی عید میلاد ؐکی تقریبات عقیدت و احترام سے منائی گئیں اور اس دوران کئی بڑے جلوس بھی برآمد ہوئے ۔اس سلسلے کا سب سے بڑا پروگرام مرکزی جامع مسجد راجوری میںہوا جس کا اہتمام میلاد کمیٹی راجوری نے کیا۔قبل ازیں قصبہ راجوری اور دیگر علاقوں سے کئی جلوس برآمدہوئے جومذہبی نعروں کی گونج کے ساتھ جامع مسجد میں پہنچے جہاں فرزندان توحید کا جم غفیر جمع ہوا۔اس دوران مرکزی جامع مسجد گوجر منڈی میں ایک تقریب ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شہریار احمد نے سیرت النبی ؐ پر روشنی ڈالی ۔گوجر منڈی میںہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید جمع تھے جن سے مقامی علماء نے بھی خطاب کیا ۔علماء نے سماجی برائیوں کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پیغمبر اسلام ؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر کامیاب زندگی بسر کی جاسکتی ہے ۔ضلع کے تھنہ منڈی علاقے میں بھی بہت بڑی تقریب منعقد ہوئی ۔تحصیل میں سب سے بڑی تقریب تھنہ منڈی قصبہ کی مسجد میں ہوئی جس کے علاوہ دیگر کئی مقامات پر بھی جلوس نکالے گئے اور تقاریب ہوئیں ۔اسی طرح سے درہال میں ایسی ہی تقاریب ہوئیں اور جلوس برآمد کئے گئے ۔ ضلع کے کالاکوٹ ، نوشہرہ ، منجاکوٹ اور سندر بنی علاقوں میں عید میلاد النبی ؐ عقیدت و احترام سے منائی گئی ۔
کوٹرنکہ وبدھل
کوٹرنکہ//کوٹرنکہ اور بدھل میں جشن آمد رسول ؐمنایا گیا ۔عید گاہ کوٹرنکہ سے امام وخطیب قاری عبدالرزاق کی قیادت میں جلوس برآمد ہواجو ہسپتال سے ہوتے ہوئے مرحبا مرحبا یامصطفیٰ ؐ کی صدائوں کے ساتھ مین مارکیٹ سے واپس جامع مسجد میں اختتام پذیر ہوا۔اس موقعہ پر انجمن علماء اہلسنت صوبہ جموں کے سرپرست اعلیٰ مفتی غلام الدین مصباحی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بولتے ہوئے کہاکہ پیارے آقا ؐکے صدقے میں ہمیں سب کچھ ملاہے اور آج ہم اپنے آقاومولیٰ کی شان میں جتنی بھی خوشی منائیں وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیرت رسول ؐپرعمل کرناہی کامیابی ہے اورکوئی بھی قوم اگر ذلیل ہوتی ہے تو اس کی وجہ اسلاف سے دوری ہے ۔ان کاکہناتھاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان تاریخ اسلام کا مطالعہ کرکے اپنی زندگی کو اسلامی اصولوںکے مطابق گزاریں ۔ان کاکہناتھاکہ آمد ِمصطفیؐ سے قبل ظلم وستم اورتشدّد کا ماحول تھا اوربچیوں کو زنداہ درگورکردیاجاتاتھا لیکن جیسے ہی پیارے نبی ؐ کے قدم سرزمین مکہ پر پڑے تو ظلم وستم سے آزا دی ملی اور امن قائم ہوگیا۔مولانانے کہا کہ آج اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر بدنام کیاجارہاہے جو امن کے اس دین کے خلاف ایک سازش ہے ، مسلمان کبھی دہشت گرد ہوہی نہیں سکتا اورمسلمان تو اس نبی ؐکے غلام ہیں جس کو پوری کائنات کے انسانوں اور جانوروں بلکہ ہر شے کے لئے رحمت بناکر بھیجا ۔اسی طرح کے جلوس اور تقریبات بدھل سمیت دیگر علاقوںمیں بھی ہوئیں ۔
نوشہرہ
رمیش کیسر
نوشہرہ //نوشہرہ میں بھی میلاد کمیٹی کی طرف سے جلوس برآمد کیاگیا ۔نوشہرہ کے وارڈ نمبر ایک سے میلاد النبی ؐ کے سلسلے میں ایک بڑا جلوس برآمد ہوا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔یہ جلوس بازار سے ہوتا ہوا مغل کمپلیکس نوشہرہ میں اختتام پذیر ہوا ۔اس موقعہ پر آخری نبی ؐ کی زندگی اور آپ ؐ کی سیرت پاک پر روشنی ڈالتے ہوئے خطیب اہل سنت مولانا عبدالرحیم نعیم نے کہاکہ حضرت محمد مصطفی ؐ پوری انسانیت کیلئے رحمت بن کر آئے اور انہوںنے سبھی کو پیار محبت سے زندگی بسر کرنے کی تعلیم دی ۔انہوںنے لوگوں پر زور دیاکہ وہ نبی ؐ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں کیونکہ اسی میں ان کی بھلائی ہے ۔ اس موقعہ پر سید اعجاز بخاری نے بھی سیرت نبوی ؐ پر روشنی ڈالی ۔
منڈی میں سبیل لگائی گئی
عشرت بٹ
منڈی//عید میلاد النبیؐ کے پر مسرت موقعہ پر انجمن تنظیم المومنین منڈی نے انجمن گلشنِ حسینی پلیرہ کے اشتراک سے فرزندانِ توحید کیلئے سبیل کا اہتمام کیا ۔ اس دوران جلوسِ محمدی ؐمیں شامل سینکڑوں لوگوں نے سبیل کا پانی پیا ۔ صدر انجمن گلشنِ حسینی پلیرہ اصغر علی میر نے عید میلاد النبی ؐکے موقعہ پر تمام عالمِ اسلام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم کے صدقے میں ہی یہ دونوں جہاں خلق کئے گئے ہیں اور ولادت با سعادت حضرت محمّد مصطفی ؐکی مناسبت سے منایا جانے والا یہ دن مسلمانانِ عالم کے لئے اتحاد کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر اسلام انقلاب ایران حضرت آیت اللہ خمینی کا فرمان ہے کہ ہم ابھی یہ طے نہیں کر پائے کہ نماز ہاتھ باھاند کر پڑھیں یا ہاتھ چھوڑ کر پڑھیں لیکن اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے ہاتھ کاٹنے پر تلی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رسول کی ذات ہمارے لئے اتحاد کا مرکز ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد قائم کر کے اسلام دشمن قوتوں کو شکست دیں۔
انتظامیہ پر تعاون نہ دینے کا الزام
میلاد کمیٹی راجوری برہم
ترجمان نے الزامات مسترد کردیئے
سمت بھارگو
راجوری //میلاد کمیٹی نے سیول اور پولیس انتظامیہ راجوری پر میلاد النبی ؐ تقریبات میں تعاون نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیاہے ۔اپنے ایک پریس بیان میں میلاد کمیٹی کے چیئرمین نے کہاکہ ضرورت کے حساب سے تعاون نہیں دیاگیا اور میلاد کمیٹی نے اپنے طور پر ہی بنیادی انتظام کیا ۔انہوںنے کہاکہ یہاں تک کہ گزشتہ شب بجلی کی کٹوتی کی گئی جس کی وجہ سے فرزندان توحید کو سخت مشکلات کاسامناکرناپڑا۔انہوںنے یہ بھی کہاکہ سڑک کنارے گاڑیاں پارک تھیں جنہیں میلاد جلوسوں سے قبل نہیںہٹایاگیا اور پھر ان گاڑیوں کو مقامی نوجوانوں نے ہٹوایا۔میلاد کمیٹی کے چیئرمین نے مزید کہاکہ مرکزی جامع مسجد کے نزدیک سیول انتظامیہ کاکوئی بھی افسر انتظامات کی نگرانی کیلئے موجود نہیں تھا ۔انہوںنے کہاکہ وہ اس طرح کی لاپرواہی پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔تاہم ضلع انتظامیہ نے ان الزامات کو مستردکردیاہے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں انتظامیہ کے ترجمان نے کہاکہ 28نومبر کو ڈپٹی کمشنر ، ایس پی ، ایکسن پی ایچ ای ، ایکسن بجلی ، سی او میونسپل کمیٹی اور دیگران نے اس جگہ کا معائنہ کیا جہاں ایڈمنسٹریٹر اوقاف اور انتظامیہ کمیٹی کے ممبران بھی موجو دتھے ۔انہوںنے کہاکہ اس دوران حکام کی طرف سے انتظامات کئے گئے لیکن بعد میں کمیٹی نے ضلع پنچایت افسر اور ہیڈ کوارٹر اسسٹنٹ کو ٹینٹ اور کرسیاں لگوانے کی اجازت نہیں دی ۔انہوںنے مزید کہاکہ 29نومبر کو تعینات افسران نے زمین ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر انتظامات کئے اور ڈپٹی کمشنر ، ایس ایس پی ، ایڈیشنل ڈی سی ، اے سی آر و دیگر افسران نے 30نومبر کو دورہ کرکے کمیٹی کے دو ممبران کے ساتھ انتظامات پر تبادلہ خیال کیا ۔انہوںنے کہاکہ صفائی ستھرائی کے انتظامات بھی کئے گئے اور فائر سروسز، ایمبولینس ، پانی کے ٹینکر اور دیگر سہولیات بھی دستیاب رکھی گئیں۔انہوںنے کہاکہ سیکورٹی کے بھی خاطر خواہ انتظامات کئے گئے اور ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی سمیت سینئر افسران پروگرام والی جگہ کے نزدیک موجودتھے ۔ترجمان کے مطابق ائورلوڈ کی وجہ سے ٹرانسمیشن ڈیویژن کی طرف سے ایک مرتبہ بجلی کٹوتی ہوئی اورضلع سطح پر کوئی کٹوتی نہیں کی گئی جبکہ ٹریفک کے انتظامات بھی کئے گئے ۔
علماء مینڈھرانتظامیہ پر برس پڑے
میلاد جلوس بلاوجہ روکنے کاالزام
جاوید اقبال
مینڈھر //ہر سال کی طرح اس سال بھی ہرنی، اڑی اور دھارگلون سے میلادالنبیؐ کا جلوس نکلناتھاجو بس اڈے پر اختتام پذیر ہوتا مگر یہ جلوس جب سنگالہ چوک میں پہنچا تو اسے انتظامیہ نے آگے بڑھنے سے روک دیاجس پر لوگوںمیں زبردست غم و غصہ پایاجارہاہے ۔ اس جلوس کی قیادت کر رہے مفتی حق نواز قادری اور سابق وزیر مولانا نثار خان ومفتی اشتیاق و دیگران نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پر امن جلوس کوبلاوجہ روکا گیاجبکہ ایس ڈی ایم مینڈھر کو ایک وفد نے مل کر تحریری طور پر یہ بتایاتھاکہ جلوس ڈاک بنگلہ مینڈھر تک جائے گا جس پر انتظامیہ نے اتفاق بھی کیا۔ان کاکہناتھاکہ جلوس ڈاک بنگلہ تک جانے میں کوئی حرج بھی نہیں تھا مگر انتظامیہ نے چند لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ایسا کرکے ہزاروں افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ۔مفتی حق نواز نے کہا کہ ان کے پرامن جلوس کو روک کر انتظامیہ نے مذہبی جلوس کی بے حرمتی کی ہے اوراس سے انتظامیہ کی غنڈہ عناصر سے ملی بھگت کا ثبوت ملتاہے ۔مفتی حق نواز نے سرکار سے اپیل کی کہ بھید بھاؤ اور غنڈہ عناصر کی پیروی کرنے والی انتظامیہ کو یہاں سے تبدیل کیاجائے اور ایسے افسران کو تعینات کیاجائے جو قانون کی پاسداری کرتے ہوں نہیں تو سنگین نتائج کا سامنا کرناپڑے گا۔انہوںنے تحصیلدار مینڈھر پر حملہ کیلئے بھی ایس ڈی ایم اورایس ڈی پی او کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہاکہ ان کی ناقص کارکردگی سے یہ واقعہ رونماہوا۔وہیں رابطہ کرنے پرانتظامیہ کاکہناتھا کہ اس حوالے سے دو مرتبہ میٹنگ بلائی گئی لیکن یہ لوگ میٹنگ میں نہیں آئے اور طویل انتظار کے بعد پولیس کو جلوسوں کا پروگرام سونپ دیاگیا۔
کوٹرنکہ میں ٹریفک سے رخنہ
کوٹرنکہ//کوٹرنکہ میں جشن عیدمیلادالنبی ؐ کے موقعہ پرعوام کو اس وقت پریشانی سے دوچارہونا پڑا جب مین بازار سے گاڑیوں کی آمدررفت جاری رہی۔ منتظمین جلوس کی طرف سے پولیس کوباربار گزارش کی گئی لیکن پولیس نے بازار سے گاڑیوں کو نہیں ہٹایا جس پر لوگوں نے برہمی کا اظہار کیاہے ۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے حافظ عبدالقیوم نے کہاکہ سیول انتظامیہ کی طرف سے تحصیلدار محمد رفیق جلوس کے ساتھ ساتھ رہے جن سے عوام کو کوئی شکایت نہیں لیکن پولیس انتظامیہ کی وجہ سے جلوس کے شرکاء کو پریشان ہوناپڑا۔انہوںنے کہاکہ چاردن پہلے ہی ایس ڈی ایم کی موجودگی میں انتظامیہ کیساتھ میٹنگ میں تحریری طور پر لکھ کر دیاگیاکہ جلوس کے وقت ٹریفک کو بازار سے باہر کردیاجائے گالیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا اور پریشانی کا سامناکرناپڑا۔انہوںنے کہاکہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ آج حالات خراب ہوجائیں اس لئے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلوس کو بازار سے واپس کرلیا گیا۔