راجوری//پچھلے تین ماہ کی مسلسل خشک سالی نے کسانوں کی امیدوں پر پانی پھیردیاہے اور اس کے نتیجہ میں امسال گندم کی فصل بیجنے میں تاخیر ہورہی ہے ۔راجوری اور پونچھ اضلاع میں پچھلے تین ماہ سے خشک سالی کاسامناہے جس وجہ سے جہاں پانی کے ذخائر سوکھ گئے ہیں وہیں کھیت کھیلان بھی سیراب نہیں ہوپائے جس وجہ سے کسانوں کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔آبی ذخائر سوکھ جانے سے انسانی زندگی پر بھی گہرا اثر پڑاہے لیکن سب سے نقصان شعبہ زراعت کو ہواہے ۔راجوری ٹھنڈی کسی کے کے کے ساسن ، نوشہرہ کے رمیش کمار، کوٹرنکہ کے محمد مشتاق نامی کسانوں نے بتایاکہ پورے ضلع میں مکی کی فصل ستمبر کے مہینے میں کاٹ دی گئی جس کے فوری بعد گندم کی فصل بیجی جاتی ہے لیکن امسال خشک سالی کی وجہ سے اس میں بہت زیادہ تاخیر ہوئی ہے اور خشک زمین پر کوئی بھی گندم بیجنے کیلئے تیار نہیں ۔ ان کاکہناتھاکہ گندم بیجنے کا صحیح وقت اکتوبر کا آخری ہفتہ ہوتاہے لیکن اب نومبرکا دوسرا ہفتہ بھی مکمل ہوگیاہے اور بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ فصل نہیں بیجی جاسکی ۔ان کاکہناہے کہ یہ ان کیلئے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور نہ صرف وہ خودبلکہ ان کے مال مویشی بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں ۔کسانوںنے بتایاکہ ان کی زمینیں خشک ہوچکی ہیں جن پر فصل نہیں بیجی جاسکتی ۔انہوںنے بتایاکہ پچھلے سال بھی چار ماہ کی خشک سالی کے بعد دسمبر کے مہینے میں بارش ہوئی تھی جس کی وجہ سے انہیںپورا سال متاثر رہناپڑا اور اس بار پھر سے ویسے ہی حالات کاسامناہے ۔