عظمیٰ نیوسزسروس
نئی دلی // مرکزی وزارت صحت نے سنیچر کو کہا کہ پورے ملک میں صرف 21ہزار سے زائد بچوں کو خسرہ کا ٹیکہ نہیں لگا ہے۔ ملک میں 11لاکھ بچوں کو خسرہ کے ٹیکے نہ دینے کے بارے میں وزارت صحت نے بتایا کہ 2کروڑ 63لاکھ 63ہزار 270بچوں میں سے 2کروڑ 63ہزار 84ہزار 580کو خسرہ کا ٹیکہ لگایا گیا ۔ عالمی ادارہ صحت اور امریکہ سینٹر فار ڈیزی کنٹرول اینڈ پریونشن نے اپنی سال 2022-23کی رپورٹ میںلکھا ہے کہ 11لاکھ بچوں کو خسرہ کا ٹیکہ نہیں دیا گیا ہے۔مرکزی وزارت صحت نے کہا کہ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے آبادی کا تخمینہ لگا کر رپورٹ بنایا ہے۔ مرکزی وازت صحت و خاندانی بہبود کے ایچ ایم آئی ایس کے مطابق بھارت میں 2سے 5سال کے بچوں کی تعداد 2کروڑ 63لاکھ 63ہزار 270 جن میں 2کروڑ 63لاکھ 84ہزار 580بچوں کو خسرے کا ویکسین دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف 21ہزار 310بچوں کو ویکسین نہیں دیا گیا ہے۔ان بچوں کو ٹیکے پلانے کیلئے مرکزی سرکار نے ریاستوں کے ساتھ ملکر کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2021میں مشن اندرا دھنش 3، سال 2022میں اندرا دھنشن مشن 4 اور سال 2023میں اندردھنش 5کے تحت 2سے 5سال تک کے بچوں کو ویکسین دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ مذکورہ مہم کے تحت دلی، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں9ماہ سے 15سال تک کے بچوں کو ویکسین دیا جارہا ہے اور دونوں ریاستوں میں 95فیصد بچوں کو خسرہ مخالف ٹیکہ دیا گیا ہے۔