رادھا سوامی محلہ15 دنوں سے پانی سپلائی نہ ہوا
بختیار حسین
سرنکوٹ// سرنکوٹ کے محلہ رادھا سوامی وارڈ نمبر چار میں پچھلے پندرہ دنوںسے پانی کی سپلائی متاثر ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کو شدید مشکلات کاسامناہے ۔ مقامی لوگوںنے بتایاکہ سردی کے موسم میں نہ ہی انہیں پینے کا پانی مل رہاہے اور نہ ہی نہانے دھونے کیلئے پانی کاکوئی انتظام ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کئی گھر ایسے ہیں جن میں پینے کیلئے پانی نہیں ۔رابطہ کرنے پر اے ای ای پی ایچ ای سرنکوٹ نے بتایا کہ پانی کی سپلائی بجلی کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بجلی سپلائی پر بور ویل کے ذریعہ پانی فراہم کیاجاتاتھا تاہم ٹرانسفارمر کسی وجہ سے جل گیاہے جس سے پانی کی سپلائی متاثر ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ ان کی کوشش ہوگی کہ پانی کی سپلائی کو جلد سے جلد بحال کیاجائے ۔ وہیں محکمہ بجلی کے افسران نے موقعہ پر پہنچ کر ٹرانسفارمر کا جائزہ لیا اور اس کو جلد ٹھیک کرنے کا یقین دلایا۔
خطہ پیر پنچال میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر
موسم ٹھیک ہونے تک چھٹیاں کی جائیں:جے کے سین واج
نیوز ڈیسک
راجوری //درہال اور منجا کوٹ کے تمام بالائی علاقوں میںبرفباری اور نچلے علاقے میں مسلسل بارش سے درجہ حرارت میں گراوٹ آئی ہے جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں بھی بری طرح سے متاثر ہوئی ہیں ۔غیر سرکاری تنظیم جے کے سین واچ نے وزیر تعلیم سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کو دیکھتے ہوئے خطہ پیر پنچال کے سکولوں میں چھٹیاں کی جائیں ۔تنظیم کے چیئرمین شہباز خان اور سیکریٹری جنرل جی ایم چاڑک نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ خطے کے 70فیصداسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کا کوئی معقول انتظام نہیںاور سکولوں کی ٹوٹی پھوٹی عمارتیں اور کھلی کھڑکیاں طلباء کیلئے پریشان کن ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کئی سکولوں کے چھت سے پانی ٹپک رہاہے اوربچوں کا براحال ہورہاہے ۔انہوںنے وزیر تعلیم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جانب توجہ دے کر تھنہ منڈی ،درہال اور منجاکوٹ زون کو سرمائی زون قرار دیں اور ایک ٹیم روانہ کی جائے جوطلباء کو دی جارہی سہولیات کا جائزہ لے ۔جے کے سین واچ نے وزیرے تعلیم سے گزارش کی کہ وہ کم سے کم تین دن کی چھٹیوں کا اعلان کریں تاکہ شدید سردی میں طلباء کو ٹھٹھرنانہ پڑے ۔تنظیم کے مطابق پونچھ کے تمام بالائی علاقوں میں بھی برفباری ہوئی ہے جبکہ یخ بستہ ہوائیں چلنے سے درجہ حرارت میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اس لئے پونچھ ضلع میں بھی موسم ٹھیک ہونے تک چھٹیوں کا اعلان کیاجائے ۔
منڈی میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ پر جانکاری کیمپ
عشرت بٹ
منڈی//تحصیل کمپلیکس منڈی میں تحصیلدار منڈی عبدالقیوم کی جانب سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ جانکاری کیمپ کااہتمام کیا گیا جس میں تحصیل افسران کے علاوہ مقامی معززین نے بھی شرکت کی ۔اس موقعہ پر عوام اور ملازمین کو یہ جانکاری فراہم کی گئی کہ وہ قدرتی آفات و بلیات سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ جب بھی کوئی حادثہ رونما ہوجائے تو اس سے فوری طور پر نمٹنے کے اقدامات کئے جانے چاہئیں ۔ڈاکٹر طارق احمد نے کہا کہ جب کسی انسان کو دل کا دورہ پڑتا ہے تو ساتھ والے کو چاہیے کہ وہ اس کے سینے کو زور زور سے دبائے اور اسے کھانسنے کے لئے کہے جس سے اسکو دل کا دورہ پڑنے سے بچا یا جا سکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر کبھی کوئی شخص زخمی ہوجائے تو اسے فوری طور پر نزدیکی طبی مرکز پہنچایاجائے تاکہ اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی جاسکے ۔جانکاری کیمپ سے سیول ڈیفنس ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈی وائی ایس پی کیول کرشن نے بھی خطاب کیا اور انہوںنے عوام کو جانکاری فراہم کرتے ہوئے کہاکہ اگر کبھی کسی جگہ سونامی یا برف باری کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہو تو ان کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں ۔انہوںنے کہاکہ ان کا محکمہ ہمیشہ عوام کو قدرتی آفات و بلیات سے بچانے کیلئے تیار رہتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کبھی کسی جگہ آتشزدگی کی واردات رونما ہو جائے تو پہلے اس گھر یا جگہ سے انسانی جانوں کو نکال کر محفوز مقامات پرمنتقل کیاجاناچاہئے اوراس کے بعد آگ بجھانے کاکام کیاجائے لیکن ایسے موقعہ پر فائر سروس کی ٹیم سے تعاون کیاجائے۔
ضلع ہسپتال راجوری
۔7 مہینوں میں513پوائنٹ خون عطیہ کیاگیا
سمت بھارگو
راجوری//ضلع ہسپتال راجوری میں پچھلے سات مہینوں کے دوران خون کے 513پوائنٹ کا عطیہ کیاگیاہے جو ایک ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ایک ریکارڈ ہے ۔ہسپتال حکام کی طرف سے دی گئی تفصیل کے مطابق سات مہینوں کے دوران 513پوائنٹ خون بلڈ بنک میں عطیہ کیاگیاجبکہ پچھلے پورے سال کے دوران 559پوائنٹ خون عطیہ ہواتھا۔انتظامیہ کے مطابق یہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں خون عطیہ کیاگیاہو۔اس سلسلے میں کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے میڈیکل سپرینڈنٹ ضلع ہسپتال راجوری ڈاکٹر محمود بجاڑ نے کہاکہ خون عطیہ کرنے میں ننکاری مشن ، آرمی ، بی ایس ایف ، روٹری کلب ، بجرنگ دل ، پریس کلب ممبران ، پیر پنچال یوتھ پارلیمنٹ ، یوتھ فار چینج ، پولیس ، سی آر پی ایف اور ایچ ڈی ایف سی بنک کااہم رول ہے ۔انہوںنے سیول سوسائٹی اور نوجوانوںسے اپیل کی کہ وہ اس کار خیر میں شریک ہوں اور خون عطیہ کرنے کے کام میں سامنے آئیں تاکہ لوگوں کو ضرورت کے وقت یہ خون چڑھایاجاسکے ۔
ڈی سی کی عدم موجودگی میں کام متاثر:یوگیش
منیر خان
راجوری //سیاسی و سماجی کارکن و سابق سرپنچ یوگیش شرما نے کہاہے کہ ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری کے بیرون ملک دورے کی وجہ سے راجوری میں انتظامیہ کاکام کاج متاثر ہوکر رہ گیاہے ۔ انہوںنے ایک بیان میں کہاکہ ڈپٹی کمشنر کی غیر موجودگی سرکاری ملازمین اورآفیسران کے لئے خوشی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ جب سے ڈی سی راجوری چھٹی پر گئے ہیں، تب سے سرکاری دفاتر میں آفیسران غیرحاضر رہنے لگے ہیںاور ساتھ ہی فرائض منصبی کی پرواہ بھی نہیںکررہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کاسامناہے۔ یوگیش شرما کاکہناہے کہ سرکار ی ملازمین ڈپٹی کمشنر راجوری کی موجودگی میں دفتروں میں موجود رہتے تھے اور عوام کے کام کاج بھی آسانی سے ہورہے تھے تاہم کچھ دنوں نے ڈی سی کی غیر موجودگی ملازمین اور آفیسران کے لئے کسی بڑی آزادی سے کم نہیں اورسرکاری دفاتر میں تعینات اکثر آفیسران و ملازمین غیر حاضر رہتے ہیں ۔ انہوں نے ریاستی سرکار سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا سختی سے نوٹس لے۔
پرانی پونچھ چوک میں ٹریفک نظام درہم برہم
ضلع ترقیاتی کمشنر سے مداخلت کی اپیل،ٹریفک پوسٹ قائم کرنے کا مطالبہ
حسین محتشم
پونچھ//پرانی پونچھ چوک میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے ۔یہ وہ مصروف جگہ ہے جہاںسے دیگوار تیڑواں ، دیگوار ملدیالاں، اجوٹ، گلپور، کھڑی کرماڑہ،چکاں دا باغ کے علاوہ ضلع ترقیاتی کمشنردفتر، گرلز ہائر سکنڈری اسکول شیش محل، نانک اکیڈمی پونچھ، گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کی جانب گاڑیاں جاتی ہیں۔اس مقام پر ہمیشہ ٹریفک جام لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے اسکولوں میں زیر تعلیم طلباکے والدین فکر مند رہتے ہیں کہ کہیں کوئی حادثہ نہ پیش ہوجائے یاپھر کوئی گاڑی کسی بچے کو ٹکر نہ ماردے ۔اسی خوف کے مارے اکثر طلبا کے والدین ان کے ہمراہ سکول تک آتے اور جاتے ہیںاور اس ڈیوٹی کی وجہ سے ان کے دیگر کام کاج متاثر ہوتے ہیں۔جام کے باعث سڑک پر گزرنے والے بزرگوں اور خواتین کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔رشیدنامی ایک شخص نے کہاکہ پونچھ میں ٹریفک کانظام درہم برہم ہے اوراس کا ثبوت یہ چوک ہے جہاںہمیشہ ٹریفک لگارہتاہے ۔انہوںنے کہاکہ اس جام سے بچنے کیلئے یاتو کوئی متبادل انتظام کیاجائے یاپھر کوئی فلائی ائور بنایاجائے ۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ وہاں ٹریفک پولیس کا تعینات نہ ہونا ہے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر پونچھ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ محکمہ ٹریفک پولیس کے افسران کو جام پر قابو پانے کی ہدایت دیں اور اہلکار تعینات رکھے جائیں۔