پونچھ//موسم گرما میں میدانی علاقوں سے نقل مکانی کر کے بالائی علاقوں میں رہائش پذیر خانہ بدوش کنبے کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ میلوں پیدل سفر کرنے کے بعد اب اپنی ڈھوکوں میں پہنچنے والے ان کنبوں کو کئی مقامات پر اس بار پانی دستیاب نہیں۔تحصیل منڈی کے سیکلو ،سلونیاں ، چکڑاڑہ اور دیگر کئی علاقوں سے حسین و جمیل نور پور ڈھوک میں 250کنبے جات اسوقت اپنی بھیڑ ،بکریاں، گھوڑوں اور دیگرمال مویشی کے ساتھ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں ۔خانہ بدوشوں کے بیوی بچے دور دراز علاقوںمیں صرف اس وجہ سے جاتے ہیں کہ انہیں وہاں سکوں کے ساتھ رہنے کو جگہ ملے لیکن اب انہیں ڈھوکوں میں بھی پانی کی قلت ستارہی ہے اور مویشیوں کے چارے کیلئے پریشان ہوناپڑتاہے ۔منظور احمد نام کے ایک شخص نے بتا یا کہ وہ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ سفر کر کے اس دور دراز ڈھوک میں صرف اس لئے آئے تھے کہ انہیں جانوروں کے لئے چارہ اور اپنے استعمال کے لئے پانی ملے گا لیکن یہاں پہنچ کر زیادہ ہی پریشان ہوگئے ہیںکیونکہ پانی کی شدید قلت ہے اورخواتین کو ایک گھنٹے کا سفر کر کے اپنے استعمال کے لئے پانی لانا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی خانہ بدوشی کی زندگی سے مطمئن تھے لیکن اب ان کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میدانی علاقوں میں تو انہیں طبی اور دیگر سہولیات فراہم ہو جاتی ہیں لیکن جب وہ پہاڑوں پر ہوتے ہیں تو ان کے بچوں کی تعلیم متاثر ہو تی ہے اور طبی سہولیات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے کئی بار انسان اور جانور موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ امسال پانی ان کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن گیاہے۔حنیفہ بیگم کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان کو ڈھوکوں میں قدرتی طورپر ہر سہولت فراہم ہو جاتی تھی لیکن جنگلوں کی کٹائی اور مشینوں کی وجہ سے اب نہ انہیں پانی مل رہا ہے اور نہ ہی جانوروں کے لئے چارہ باقی رہ گیاہے۔مقامی لوگوں نے حکام پر زور دیاہے کہ ماحولیات کے ساتھ مزید چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے ۔