بلا شبہ کسی بھی معاشرے کے اجتماعی نظام کی بنیادی اکائیاں خاندان ہوتے ہیں اوران میں رہنے والے والدین اور اولادیں،خاندان کی روح ہوتی ہیں۔جن کےباہمی رشتےمحض حیاتیاتی اور معاشرتی ہی نہیں ہوتے بلکہ ان کے مابین گہرے اخلاقی، نفسیاتی اور روحانی تعلق بھی ہوتے ہیں، جنہیں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں انسانی رشتوں کی اہمیت ختم ہورہی ہےاور رشتوں میں دراڑیں پڑرہی ہیں،یہاں تک کہ والدین اور اولادوں کے باہمی رشتے بھی ٹوٹ رہے ہیں۔ محبت ،اپنائیت اورہمدردی کے جذبے معدوم ہو کرخاندان بکھر رہے ہیں ۔جس سے یہ بات اُبھر آتی ہے کہ عصر حاضِر کےمسلما ن اپنی تمام تردینی خوبیوں کو خیر باد کہہ کے اِس تصور کو گلے چکا ہےکہ جو کچھ ہورہا ہے،ٹھیک ہورہا ہے۔شائدیہی وجہ ہے کہ اب والدین نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کو یا تو مغربی نفسیات کے سانچے میں ڈھال کر شُتر بے مہار کر دیا ہے یاروایتی حصار کے غیر اسلامی قالب میں قید کر کے یک رُخی بنا دیاہے،نتیجتاً ہمارے خاندانی نظام سے ہماراتوازن مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ بالخصوص ہمار ے روایتی مشرقی معاشرے میں والدین کے حقوق کو تو مذہبی تقدیس حاصل ہے مگر بچوں کی عزتِ نفس،جذباتی حرمت اور حقوق یا تو نظرانداز کر دئیے جاتے ہیں یا اُ نہیں جدیدیت کے کھاتے میں ڈال کر مشکوک بنا دیا گیاہے۔اسلامی تعلیمات میں والدین کے لئےاپنی اولاد کے حقوق کوئی ثانوی یا اختیاری مسئلہ نہیںبلکہ ایک واضح شرعی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بچوںکو عزت دینا، ان کی باتیں سُننا، ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کی نفسیاتی سلامتی کا خیال رکھنا اورا نہیں خوف کے بجائے محبت کے ماحول میں پروان چڑھانا،یہ سب والدین اور سرپرستوں پراِسی طرح لازمی ہیں جیسے بچوں پر اُن کا احترام۔لیکن آج ہمارے معاشرے میں مذہبی بیانیوںمیں یہ پہلو نہایت ہی کم زیر ِ بحث لایا جاتا ہے۔ علماء اور خطباء کاعموماً وہی بیانیہ رہتاہے جو دہائیوں سے منبروں پر دُہرایا جا رہا ہے۔اس میں والدین کے حقوق کا تذکرہ تو ملتا ہے، مگر بچوں کے حقوق پر خاموشی طاری رہتی ہے۔ اس خاموشی نے ایک ایسا فکری خلا پیدا کر دیا ہے کہ ہماری نئی نسل ،دین کو توازن نہیں بلکہ جبر کی علامت سمجھنے لگی ہے۔ وہ اطاعت تو کرتی ہے، مگر بادلِ ناخواستہ، وہ احترام تو دکھاتی ہے مگر خوف کے سائے میں۔بعض گھر و ں میں نظم و ضبط کے نام پر ہیبت و رُعب کو اس حد تک مقدم کر دیا جاتا ہےکہ بچوں کے لئے گھر میں موجودگی تحفظ، اطمینان اور خوشی کے بجائے ذہنی دباؤ اور خوف کی علامت بن جاتی ہے۔ ایسی فضا میں بچہ فطری انداز میں اپنی بات کہنے سے کتراتاہے یاخاموشی اختیار کر لیتا ہے یا سچ اور فطری خواہشات و جذبات کے اظہار کے بجائے وہی کہتاہے جو اس مرکز ِ ہیبت کو قابلِ قبول ہو۔ اس طرزِ پرورش سے بظاہر ایک وقتی نظم و ضبط تو قائم رہتا ہے، مگر نفسیاتی اعتبار سے بچے کی خود اعتمادی، اظہارِ ذات اور داخلی توازن متاثر ہوتا ہے اور یہی دبی ہوئی کیفیت آگے چل کر یا تو شدید جذباتی احساسِ محرومی میں ڈھل جاتی ہے یا والدین کے خلاف باغیانہ ردِعمل اختیار کر لیتی ہے۔ چنانچہ جن بچوں کی پرورش احترام، مکالمہ اور جذباتی تحفظ کے ماحول میں ہوتی ہے، اُ ن کی شخصیت زیادہ متوازن، ذمہ دار اور بااعتماد انسان میں ڈھلتی ہے، جبکہ سختی، تحقیر اور مسلسل دباؤمیں پلنے والے بچوں میں باغیا نہ ردِّ عمل جڑ پکڑ تاہےاور اُن کی داخلی دنیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔بے شک والدین قابلِ احترام ہیں مگر بچے بھی قابلِ سماعت ہیں۔ والدین کی قربانیاں مسلم ہیں مگر بچوں کے جذبات بھی حقیقت ہیں۔ اطاعت کا مطالبہ اپنی جگہ مگر شفقت و عزت کی فراہمی اس سے پہلے آتی ہے اور جو معاشرہ اس ترتیب کو اُلٹ دیتا ہے، وہاں احترام باقی رہتا ہے نہ رحم،صرف خاموشی اور فاصلے جنم لیتے ہیں۔اگر ہم نے اپنے مذہبی خطبا ت میں یک رُخی بیانیے کی اصلاح نہ کی ، والدین اورسرپرستوںکو اُن کے حقوق کے ساتھ بچوں کے اِن حقوق کااحساس نہ دلایا تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو یا تو مذہب بیزار ہوگی یا مذہب کے ساتھ اس کا تعلق عملی تضاد کا شکار ہو گا۔