لاء افسروں،سرکاری وکیلوں اور دیگراں کی کارکردگی کاجائزہ لینے کی ہدایات
جموں//انتظامی کونسل نے جموں کشمیر کی مختلف عدالتوں اور عدالت عظمیٰ میں حکومت جموں کشمیر کے خلاف زیرالتواء مقدموں کے تیز تر نپٹارے کیلئے،محکمہ قانون،انصاف اور پارلیمانی امور کی طرف سے تجویز کئے گئے اصلاحات کو منظوری دی ہے ۔ ایک افسر کے مطابق ،’’یہ اصلاحات انتظامی کونسل کی میٹنگ جولیفٹینٹ گورنر کی صدارت میںحال ہی میں منعقد ہوئی، کے سامنے رکھے گئے تھے اور کونسل نے تبادلہ خیال کے بعد انہیں منظوری دیدیْ جس میں ڈائریکٹر لٹگیشن ،ایڈوکیٹ آن ریکارڈس ،لاافسران،سرکاری وکیلوں کے کاموں کومخصوص کیاگیااورآفیسرانچارج لٹیگیشن کی تقرری کی سفارش کی گئی۔ فی الوقت 65885کیس جموں کشمیرہائی کورٹ،16015معاملے مرکزی انتظامی ٹریبونل میںاور185755 کیس مرکزی زیرانتظام علاقہ کی مختلف عدالتوں میں التواء میں ہیں۔زیرالتواء کیسوں کی کثیرتعدادمیں سروس،مال کے معاملات،اراضی کاحصول،فوجداری معاملے،ثالثی کے کیس اور مفاد عامہ کی عرضیاں شامل ہیں۔سرکاری عہدیدارکے مطابق اس بات کا بھی مشاہدہ کیا گیا کہ زیرالتواء معاملوں کی بڑی تعدادعدالت میں اعتراضات جمع نہ کرنے کی وجہ سے پڑے ہیں اور تاخیر کی وجوہات کی بھی وضاحت نہیں کی جارہی ہیں اورمختلف سطحوں پرمقدموں کی مناسب نگرانی نہیں ہورہی ہے اورسرکاری وکیل اور محکمے کے درمیان تال میل بھی نہیں ہے ۔ لٹگیشن سیلوں کی نگرانی،ثالثی سیلوں کی تشکیل،لٹگیشن مانیٹرنگ سسٹم سافٹ وئرکی تیاری کے باوجود بھی التواء میں پڑے معاملات میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد لٹگیشن میں اصلاحات کی ضرورت محسوس کی گئی۔اس وجہ سے محکمہ قانون نے سفارش کی کہ دونوں جموں اورکشمیر کے ڈائریکٹرلٹگیشنزکے کام کو واضح کیا جائے۔انتظامی کونسل نے اسی طرح ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ،سرکاری وکیلوں ،اور لا ء افسران کے رول کوبھی اصلاحات میں تفصیل کے ساتھ واضح کیاگیاجبکہ قانون کے سیکریٹری کومقدمات کے بروقت نپٹارے کیلئے وقفہ وقفہ سے جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی۔عہدیدار کے مطابق سیکریٹری کوفرائض میں کوتاہی برتنے پرکارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ڈائریکٹر لٹگیشن (فوجداری اوردیوانی)مقدمات کی صوبائی سطح پرنگرانی کریں گے اورذیلی عدالتوں اور ہائی کورٹ میں التواء میں معاملوں کامکمل ریکارڈبنائے رکھیں گے۔اس دوران آفیسرانچارج(لٹیگیشن) کی تقرری کی سفارش بھی کی گئی تاہم آفیسرانچارج انڈرسیکریٹری کے رتبے سے کم نہیں ہوناچاہیے۔ایک حاکم نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ آفیسرانچارج تمام محکموں ثالثی کے معاملوں سمیت کی نمائندگی کرے گااورایک کیس میں ایک آفیسرانچارج ہوگا تاہم حکومت ایک سے زیادہ آفیسرانچارجوں کا خاص معاملوں میں تقرر کرسکتی ہے۔ افسر نے کہا کہ آفیسرانچارج محکمہ اور سرکاری وکیل کے درمیان تال میل بنائے رکھے گا۔اصلاحات میں لاافسر اور ایڈوکیٹ جوسرکاری مقدموں کی پیروی کررہے ہوں ،کے رول اورذمہ داریوں کی بھی سفارش کی گئی ہے۔افسر کے مطابق لاآفیسرعدالتوں میں محکمہ کے زیرالتواء معاملات کی مکمل تفصیل رکھے گا۔انہوں نے سپریم کورٹ میں دیوانی اور فوجداری معاملوں کا انچارج ایک یا حکومت کی طرف سے وقت وقت پرمقرر کئے گئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوں گے۔قانون کے سیکریٹری لاافسروں،سرکاری وکیلوں اورڈائریکٹر لٹگیشن کی کارکردگی کاجائزہ لے کرانہیں جوابدہ بنائیں گے۔