جموں//پی ڈی پی کے معروف گوجر لیڈر چودھری ظفر علی کھٹانہ نے اتوار کو یہ کہتے ہوئے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا کہ پی ڈی پی رشوت خوروں کی جماعت بن کر رہ گئی ہے ۔ پارٹی بانی اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی دوسری برسی پر یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھٹانہ نے کہا کہ وہ اپنے حامیوں سمیت پی ڈی پی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہو رہے ہیں کیوں کہ پارٹی مرحوم مفتی محمد سعید کے نظریہ کو چھوڑ کر خوشامدی اور بد عنوان عناصر کا مجموعہ بن گئی ہے ۔ اس موقعہ پر درجنوں حمایتی بھی کھٹانہ کے ساتھ تھے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014میں مرحوم مفتی محمد سعید کی ترغیب پر انہوں نے اس سوچ کے ساتھ پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی تھی کہ وہ گوجر بکروال طبقہ کے مسائل کو حل کرنا چاہتے تھے لیکن 2016میں مفتی سعید کی وفات کے بعد پی ڈی پی مرحوم کی طرف سے پارٹی کیلئے طے کردہ نصب العین سے بھٹک گئی ہے ۔گوجر لیڈر نے مزید کہا کہ ’چند لیڈر جو الیکشن ہار چکے ہیں لیکن اقتدار کے گلیاروں میں ان کا طوطی بولتا ہے ، وہ پارٹی کو اپنی من منشا کے مطابق چلا رہے ہیں نیز مختلف طریقوں سے لوٹ مچا رکھی ہے ۔انہوں نے وزراء اور ان کے رشتہ داروں کی طرف سے بنائی گئی جائیداد وں کی این آئی اے سے تحقیقات کروائے جانے کا بھی مطالبہ کیا ۔ قابل ذکر ہے کہ ظفر علی کھٹانہ گوجر بکروال مشاورتی بورڈ نائب چیئر مین کے عہدہ پر فائز تھے جہاں انہیں وزیر مملکت کا درجہ حاصل تھا لیکن انہوں نے گزشتہ 27دسمبر کو اس عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ایڈوائزری بورڈ سے اپنے استعفیٰ کی وجوہات کا خلاصہ کرتے ہوئے کھٹانہ نے کہا کہ ان کا مشن گوجر بکروال طبقہ کی خدمت کرنا تھا لیکن جب انہیں لگا کہ یہ بورڈ فقط اشک شوئی ہے کیوں کہ وائس چیئر مین بے اختیار ہے وہ طبقہ کے مسائل کے حل کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا تو انہوں نے اس عہدہ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں الزام لگایا کہ حکومت نے خانہ بدوش طبقہ کو تباہ کردیا ہے اور ان کے مسائل کو سننے والا کوئی نہیں۔ قبائلی امور کے وزیر چودھری ذوالفقار علی پر بھاری بھر کم جائیداد بنانے کاالزام لگاتے ہوئے کھٹانہ نے وزیر اعلیٰ سے اول الذکر کیخلاف تحقیقات کرنے کی مانگ کی۔ انہوں نے گوجر بکروال طبقہ کو درپیش مختلف مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہیں نوکریوں کی فراہمی میں نظر انداز کرنے اور ریزرویشن و ترقیوں کے فوائد نہ دئیے جانے کا بھی الزام لگایا۔