ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر،بارہمولہ
وادی کشمیرکویہ اعزازحاصل ہے کہ اس کے اطراف واکناف میںاللہ کے برگزیدہ بندوںنے اسلام کی ترویج واشاعت میںاپناکلیدی کرداراداکیا ہے۔دعوتِ توحید،محبت واخوت،امن وآشتی اورتذکیہ نفس کی تبلیغ ساری زندگی ان کامنشوررہا۔ان ہی باعظمت ہستیوںمیںآج سے سات سو سال قبل ایرانِ ’کبیر‘سے ’ایرانِ صغیر‘ توحیدکی شمع روشن کرنے کے لئے وارد ہونے والے سیدمحمدجانبازولیؒ کااسمِ مبارک انفرادیت کاحامل ہے۔
30جون 2002کا آگ برساتا سورج مشرق کا سفر طے کرکے مغرب کی تسخیر کے لئے برق خرامی سے دوڑ رہا تھا ۔نیلگوں آسمان پر حدت ڈیرا جمائے ہوئی تھی اور اُس کی شدت سے زمین پر رینگتے انسان شوریدہ سری میں مبتلا تھے ۔ہوا سسکیاں بھرتی ہوئی چل رہی تھی اور نگاہیں یاس سے اس ’اداس ‘ منظر کا مشاہدہ کر رہی تھیں ۔دل کسی بچھڑے ہوئے پرندے کی طرح سہما ہوا تھا اور روح بیمار کی کراہ کی طرح اُداس اُداس ۔۔۔مرض مادی نہیں بلکہ رُوحانی تھا۔ رُوح کو ’ طبیبِ حاذِق‘ کی حاجت تھی ۔اس احتیاج نے ہمیں فلاح الدارین (بارہمولہ)سے متعارف کرایا اور اب یہی’ نسخہ‘ہمیں کوہ کے دامن میں بسی بستی ’خانپورہ ‘ لے کر گئی ،جہاںگزشتہ چھ صدیوںسے مذکورہ بزرگ آرام فرماہیں۔دورہ دعوتی نوعیت کاتھاجس کی رودادراقم نے اپنی کتاب’جاگتے لمحے‘ میں قلم ’گھسیٹ ‘کرثبت کی ہے؛یہاںبس اس بزرگ ہستی کی کاوشوں،دین کے لئے ایثاروقربانی اوران کی تعلیمات کومختصراََپیش کرنے کارادہ ہے۔
خانپورہ کی بستی کو دیدئہ شوق رکھنے والے کبھی صرفِ نظرنہیں کرسکتے ۔ایک طرف بلند و بالا کوہ و دمن جیسے اس بستی کو سایہ کیے ہوئے ہوں اور دوسری سمت اس بستی کے پیر دھوتی ہوئی ’جہلم ‘ شب و روز صدیوں سے اپنا غیر مختتم سفر طے کر رہی ہے ۔خشکی و تری کا ایک بہترین امتزاج اس بستی کا احاطہ کئے ہوئے ہیں ۔یہاں طلوعِ آفتاب کی زریں کرنیں پہاڑی چوٹیوں کو جگمگاتی رہتی ہیں ۔قرمزی اور سنہرے بادل دوشِ نسیم پر اڑتے پھرتے ہیںاوردھوپ کے سایے کوہ پر متحرک رہتے ہیں ۔صبح کامنظررُوح پرور اور حیات بخش ہوتا ہے ۔جیسے فضا میں کوئی عمر خیامؔ کی رباعیات پڑھ رہا ہو ۔لحنِ داوئودی سے؛ بآواز ِ بلند ۔
ایسے پرکیف لمحوں میں ذاکر فکر و سخن میں مستغرق رہتا ہے اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ۔اسے ایک لمحہ فرصت نہیں کہ دریچہ سے جھانک کر اپنے دل پسند ماحول سے لطف اندوز ہوسکے اور جب کہ کوہستان کے دامن میں آفتاب غروب ہو رہا ہو ؛اُفقی بادلوں کو خونی رنگت دیتا اور کائنات کو الوداعی نگاہوں سے تکتا ہو ۔مغرب کی سرد ہوا پتوں کو سرسرارہی ہو اور پرندوں کے جھنڈ آسمان پر اڑتے ہوئے اپنے مسکن کو آباد کرنے جارہے ہوں ۔وہ منظر مسرور کُن ہوتاہے اور پرسکون بھی۔۔۔بستی کے بیچوں بیچ اس’ غریب الدّیار‘ بزرگ حضرت سید جانباز ولی ؒ کی خستہ زیارت ،اس بات کا عندیہ ہے کہ کہ مرحوم نے بارہمولہ میں دعوتِ دین اور رُوح کے معالج کے بطور خانپورہ کا ہی انتخاب کیا تھا ۔
حضرت سیدمحمد جانباز ولیؒ ایران کے مشہورشہراصفہان میں735ھ بمطابق1329ء کوپیداہوئے۔اصفہان اُس زمانے میںتجارت ،پیداوار ،علم وعرفان اورتہذیب وتمدن کامرکزتھا۔ تاریخ کے اوراق پریہ ثبت ہے کہ جانبازولی ؒ1420ءکو سلطان زین العابدین المعروف بڈشاہ کے عہدِحکومت میںہی واردِ کشمیر ہوئے۔موصوف شوپیان کے راستے سرینگر پہنچے۔ سرینگر میں انہوں نے دوسال تک قیام کرکے اسلام کی تبلیغ کی۔شاہ وگدااُن سے فیضیاب ہوتے رہے۔لوگ مرحوم کی خلوت میںمخل ہورہے تھے؛ اس لئے انہوںنے گوشہ نشین ہونے کاتہیہ کرلیا۔سلطان زین العابدین کواس کاعلم ہواتوانہوںنے تفننِ طبع کے لئے جانبازولیؒ کودریائے جہلم کی سیرپرآمادہ کرلیا۔سلطان خودبڑی عقیدت سے اس سیرمیںشریک رہے۔دریائے جہلم سے ہوتے ہوئے انہوںنے جھیلِ وُلرکارُخ کیا۔وُلرکے گردونواح کاپُرکیف وروح پرورمنظرانہیںمحظوظ کئے بنانہ رہا۔جھیلِ وُلرسے گزرکرکشتی سوپورکی حدودمیںداخل ہوئی اورقصبہ بارہمولہ میںجانبازپورہ کے مقام پردریاکے کنارے لگ گئی۔جانبازپورہ اُس زمانے میںایک وسیع چراگاہ تھا۔کوئی بستی نہ تھی۔جانبازولی ؒ کی مناسبت سے اس چراگاہ کانام ’جانبازپورہ‘پڑا۔کچھ مدت وہاںعبادت وریاضت کرکے موصوف نے کشتی میںرخت ِ سفرباندھااورکشتی موجودہ ’خانپورہ‘ کے پاس کنارے لگ گئی۔خانپورہ میںبھی تب کوئی بستی نہیںتھی ۔مئورخین کے مطابق وہاںایک گھناجنگل تھا۔جانبازولیؒنے اپنے مریدوںکے ہمراہ جنگل کارُخ کیا ؎
ہم ازبارہمولہ دل اورمید ازآںجابکہسارجنگل دید
بستی بستے بستے بس گئی۔جانبازولیؒ دعوتِ دین کے کام میںمصروف رہے۔قرب وجوارسے مسلم وغیرمسلم اُن سے فیض حاصل کرنے اس نوآباد شدہ بستی کارخ کرنے لگے۔آپ کے ہاںدرجنوںافرادحصولِ تعلیم اورمنازلِ سلوک طے کرنے کے لئے موجودرہتے ۔مہمانوںاورمریدوںکی آمدورفت کی مناسبت سے ’خوان‘ کااہتمام بھی رہتاتھا،جس سے قُرب وجوارسے آنے والے معتقدین اپنی بھوک مٹاتے تھے۔اسی وجہ سے اس بستی کانام’خوان پورہ‘پڑا۔رفتہ رفتہ یہی نام ’خانپورہ‘میںتبدیل ہوا۔حضرت سیدمحمدجانبازولیؒ 24ربیع الاول840ھ بمطابق1433ء کو اس جہانِ فانی سے کُوچ کرگئے اورخانپورہ بارہمولہ میںہی آسودئہ خاک ہوئے۔جہاںبعدازاںاُن کی یادمیں زیارت تعمیرکی گئی۔
سیدجانبازِولیؒعقائدکی اصلاح اورشریعت کی پابندی پربے حدزوردیتے تھے۔شبہات کے گڑھوںاوربدعت وشرک کی تاریکی سے محفوظ رہنے کے لئے وہ تمسُک بالقرآن والسّنہ کولازمی قراردیتے تھے۔آپ کے فیض ِ تربیت سے سینکڑوںافرادتوحیدِالٰہی سے آشنااوردولتِ اسلام سے فیضیاب ہوئے۔سیدؒکی تعلیمات کاغالب حصہ دیگراولیائے کرام کی مانند؛ عقیدہ توحیدپرقائم ہے۔ان کامانناتھاکہ اللہ کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں۔اللہ کی معرفت یہ ہے کہ انسان اپنے دل کواللہ کی یادسے تازہ رکھے،وہی اس کا نگہبان ومحافظ ہے۔اس کی بادشاہی میںاس کاکوئی شریک نہیں۔وہ اپنے وعدے کاسچاہے۔وہ ثواب وعذاب کامالک ہے۔اس کاکوئی شبیہہ ہے نہ ہی مِثل۔وہ کفایت کرنے والا،سننے والا،بخشنے والا،عطاکرنے والا،رحم کرنے والااور جاننے والاہے۔وہی غالب وحکیم ہے۔ان تعلیمات پرغورکریں؛ان میںقرآن کے پیغام کاعکس ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے سیدجانبازولیؒ کی اصل وحقیقی تعلیمات کوفراموش کردیاہے۔
خانپورہ بارہمولہ میں اُن سے منسوب تاریخی زیارت ہے جس کی عمر کم و بیش چھ سو سال ہے ۔پندرہ سال قبل وقف بورڑ نے مذکورہ زیارت کو اپنی تحویل میں لے لیا لیکن عمارت کی ’زبوں حالی ‘ ’خستہ مزاجی ‘ وقف بورڈ کی بے حسی پر ببانگ دہل ’احتجاج ‘کر رہی ہے ۔ہندوئوں، سکھوں، عیسائیوں اور یہودیوں نے جہاں بھی اپنے معبدوں اور مذہبی عمارتوں کا نظم و نسق سنبھالا ،انہوں نے اُن مقامات کی آمدن کو انسانیت کی بھلائی کے لئے خرچ کیا ۔ہسپتال ، بازار،سکول ،کالج اور یونیورسٹیاں قائم کیں ۔مسافروں کے لیے دورانِ سفر اکل و شرب اور آرام میں کوئی دِقت نہ ہو اُس کے لیے قرونِ وسطیٰ کے مسلمانوں نے جگہ جگہ کاروان سرایے تعمیر کرائے تھے اور آج ہم اپنے ماضی سے غافل،حال سے لاتعلق اورمستقبل سے بے پرواہ اسیر ِہَواہوکرزندگی ’جی‘رہے ہیں۔ وہیںدوسری طرف فلاحی کام دیگر مذاہب کے پیروکار سر انجام دے رہے ہیں۔وقف بورڈنے تاحال ایسا کوئی کارنامہ ’انسانیت ‘ کے لئے اس آمدن سے انجام نہیں دیا کہ ہمارا سر بھی فخر سے بلندرہتا؛ مفلوک الحال طبقہ کے لئے آسائش کا سامان ہوتا اوران بزرگانِ دین کی روح کوبھی تسکین ملتی کیونکہ ان کی دعوت و جہد کامقصدانسانیت کی خدمت اورسماجی اصلاحات کرکے درجہ ’احسان‘پرفائزہوناتھا۔