یہ ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ پڑھائی میں پیسہ، وقت اور طاقت لگاتے ہیں وہ ترقی کرتے ہیں۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ دنیا میں رہنے کا ایک ہی بہترین راستہ ہے، وہ ہے تعلیم۔ چین، امریکا، برطانیہ، روس اور کئی دوسرے یورپی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے تعلیم کے میدان شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ اب اس کے برعکس اگر جنوبی ایشیا کی بات کریں تویہاں نظامِ تعلیم کی حالت کسی بھی طریقے سے ٹھیک نہیں ہے۔ یہاں پڑھائی نام کی ہے، کام کی نہیں ہے۔ ہاں! اگر یہاں پڑھائی بھی ہوتی ہے، وہ زیادہ تر پیسہ کمانے اور وقت گزارنے کا اچھا ذریعہ ہے۔ اس خطے میں جن مذاہب نے جنم لیا ہے۔ سارے مذاہب تعلیم کو حاصل کرنے پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ سبھی مذاہب کی کتابوں میں یہ کھل کر لکھا گیا ہے کہ اصل ترقی کا راز علم کا حصول اور اس کی ترویج ہے۔ اب ذراہم اس بات پرغوروفکر کریںکہ آخر وہ کونسی وجوہات ہیں،جن کی وجہ سے ہمارے یہاں تعلیم کا رُجحان کم ہوتا جارہا ہے اور طلاب دوسرے غیر ضروری کاموں میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔
پہلا ہے تعلیم کا ناقص تصور:۔ ہمارے یہاں کچھ مخصوص چیزوں کو ہی تعلیم کا نام دیا گیا ہے، مثلاً کسی نامور سکول میں داخلہ حاصل کرنا،جائز یا ناجائز طریقے سےاعلیٰ نمبرات کے ساتھ ڈگریاں حاصل کرنا ،ملازمت میں اچھا عہدہ پانا اور پھر حق و ناحق میں تمیز کئے بغیر پیسے کماکر موٹر گاڑی ،بنگلے اور زمینیں خریدنااور عیش و عشرت کی زندگی گذارنا وغیرہ ، اس کے علاوہ ہمارے یہاںتعلیم کے حصول کا اور کوئی مقصد ہی نہیں ۔چنانچہ جب ایک طالب علم ان ساری چیزوں کو حاصل کرتا ہے، تو اصلی زندگی میں اس کا مقابلہ کچھ اور دوسری چیزوں سے بھی ہوتا رہتا ہے، جو اُس کو پڑھائی کے دوران نہیں سکھائی گئی تھیں، تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے تعلیم یافتہ لوگ ہر کام اور ہر معاملے میں جی چراتے رہتے ہیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کے لائق ہے کہ تعلیم کے حصول ک سلسلہ جنم سے شروع ہوتا ہے اور مرنے دم تک چلتا رہتا ہے۔
دوسرا ہے کرپشن:۔ کرپشن کےناسور نے تو نہ صرف پڑھائی کا نام بلکہ پڑھائی کا حصول بھی بدنام کرکے رکھ دیا ہے۔ جوفرد کسی post کا اہل ہی نہیں ہوتا ہے، وہ پیسوں اور سیاسی دباؤ کے بدولت وہ جگہ حاصل کرلیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ذہین اورمحنت کرنے والے طلاب حیران و پریشان ہوکر، محنت سے جی چراتے ہیں اور دوسرے غیر ضروری کاموں میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔ اس سے اس قوم کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔
تیسرا ہے غیر یقینی سیاسی صورت ِحال:۔اپنے یہاں کا ہر فردِ بشر یہاں کی سیاسی غیر یقینی صورت حالت سے بخوبی واقف ہے خصوصاً گذشتہ پنتیس سال سے جو نا مساعد صورت حال چلی آرہی ہے اُس کی وجہ سےیہاں تعلیم ایک لاحاصل شٔے بن چکی ہے۔ سال بھر یہاں تعلیمی اداریں بند پڑے رہتے ہیں اور امتحانات کے اوقات کھل جاتے ہیں، جس کی وجہ سے تو گورنمنٹ بچ کر نکل جاتی ہے، مگر طلاب کی زندگیوں پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔ کیا فائدہ ہے کہ بچہ ایک جماعت سے دوسری جماعت میں داخل ہو جائے، مگر اس کو اس بات کا کچھ بھی ادراک نہ ہو کہ میں نے اس سال میںکیا پڑھا اور کیا سیکھا ہے؟ اس کے علاوہ طلاب کو خوش رکھنے کے لئے ان کو سلیبس میں چھوٹ دی جاتی ہے، جس کی وجہ سےاُن میں بہت سی خامیاں رہ جاتی ہیں۔ جوخامیاں آگے چل کراُن کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔
چوتھا ہے ہمارا روایتی رویہ:۔ہمارے معاشرے میں بیشتر لوگوں کا آج بھی یہی خیال ہے کہ تعلیم ایک فضول چیز ہےاور وہ تعلیم کو زیادہ اہمیت بھی نہیں دیتے ہیں۔ اس کے بھی بہت سارے وجوہات ہیں۔اُن کا کہنا ہے معاشرے میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو بغیر تعلیم کےاچھی ،خوشحال اور پُر سکون زندگی گذررہے ہیں اورمعاشرے میں باعزت ،معزز شہری بھی کہلاتے ہیں جب کہ بہت سارے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اُن کے دفتروں ،کارخانوں،یا فیکٹریوںمیں ملازمت کرکے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی زندگی کا گذر بسر کرتے ہیں ۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ شروع سےہمارے یہاں تعلیم کو فروغ دینے کے لئے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی ہے۔ عام لوگ اس بات کے قائل ہوچکے ہیں کہ تعلیم کچھ مخصوص لوگوں کی قسمت میں ہے۔ ہمار آباو اجداد محنت و مزدوری کررہے تھے اورہمیں بھی تو مزدوری ہی کرنی ہے۔
پانچواں ہے موبائل فونس کی بھرمار:۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میںاب جبکہ موبائل فونز انسان کی زندگی کا ایک لازمی جُز کی شکل اختیار کر چکا ہے،تو معاشرہ کا ہر فرد،یہاں تک کہ ہمارےچھوٹے چھوٹے بچے تکاس کے عادی ہوچکے ہیں،درسی کتابوں سے زیادہ فونز میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت اسی کے ساتھ صرف کرتے ہیں جس کے نتیجہ میںاُن کی تعلیمی اداروں سے دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔ظاہر ہے ان فونز کے ذریعے انہیں ہر قسم کا مواد چوبیس گھنٹے ملتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے طلاب اس کی طرف زیادہ مائل ہوجاتے ہیں۔ ایسی اور بھی کئی وجوہات ہیںجس سے طلاب کی حصول ِ علم سے رغبت کم ہوتی جارہی ہے۔
اب اگرہم تدارک کی بات کرتے ہیںتو پہلا کام ہے تعلیم کو زندگی کا بنیادی جُز بنایا بنائے۔ مطلب یہ ہے کہ علم کو ہر جگہ پہنچایا جائے، گھر میں اور گھر سے باہر بھی۔ مزید یہ کہ اس تعلیم سے زندگی کے مسائل حل ہوں، غربت کم ہو، سماج کو آرام میسرہو، تاکہ لوگوں میںطلاب کو دیکھ کر جینے اور آگے بڑھنے کی خواہش بڑھ جائے۔ دوسرا ہے کرپشن کا قلع قمع کرنا۔ اس سے محنت کرنے والے طلاب اور زیادہ محنت کریں گے، اصل علم کا فروغ ہوجائے گا۔ نا اہل بھی قابل طلاب کی طرح بننے کی کوشش کریں گے، جس سے سماج ترقی کی راہوں پر گامزن ہوگا، ایک علمی ماحول پیدا ہو جائے گا، جہاں خوب سے خوب تر بننے کی کوشش ہوگی۔ لوگ اپنا پیسہ، وقت اور طاقت پڑھائی پر خرچ کرتے جائیں گےتو فضول رسموں کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔ تیسرا ہے طلاب کی حوصلہ افزائی: جتنا ہم طلاب کی تعریفیں کریں گے، اتنا ہی وہ پڑھائی کے قریب آتے جائیں گے۔ اس سے دوسرے بچوں میں بھی علم کی تڑپ بڑھ جائے گی اور وہ اس دوڑ میں شامل ہونا پسند کریں گے۔ مغربی ممالک میں یہ عام سا چلن ہے کہ طلاب کو تعریفوں کی بارش کی جاتی ہے جس سے اُن میں پڑھنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ چوتھا ہے علم کو عبادت کی غرض سے حاصل کرنا: اس سے ایک طالب علم اس بات کا خیال رکھے گا کہ میں خوب سے خوب ترین کرنے کی کوشش کروں۔ اس سے اللہ بھی خوش ہوگا اور ایک طالب علم بھی ہوشیار رہے گا۔
تعلیم کو مقدس چیزبرقرار رکھنےکے لئے ہم سب کو آگے آنا چاہیے۔ یہ انبیاء کی میراث ہے۔ قیامت کے دن اُس قوم کا سر اونچا ہوگا جنہوں نے پڑھائی میں اپناوقت صرف کیا ہوگا۔ اللہ کی وسیع کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی ہوگی۔ اس کو مسخر کرنے کی جدوجہد میں رہے تھے۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے کے مصداق مزید حاصل کرنے کی کوشش کرتےرہے۔ جو علم پایا تھا اُس سے زیادہ علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے، یہی کامیابی کا راز ہے۔ آئیے! تعلیم کی دوڑ میں آگے دوڑے۔ طلاب کو پڑھائی کی طرف مائل کریں اور ان کا آنے والا کل سنبھالیں۔
(مدرس حسینی پبلک ہائی اسکول ایچ، ایم، ٹی۔ سرینگر)