غور طلب
ڈاکٹر شگفتہ خالدی
جموں و کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی دلکش وادیوں اور پُرسکون فضا کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، لیکن افسوس! یہاں کے شہری علاقوں خاص طور پر سری نگر اور اس کے مضافات میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات نے ایک تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ آئے روز سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات میں جہاں انسانی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے،وہیں معاشرے میں خوف اور بے چینی بھی پھیل رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اُبھرآتا ہے کہ آخر اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟
اگر سڑکوں کی حالت کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ کئی علاقوں میں سڑکیں یا تو تنگ ہیں یا ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی۔ زیادہ تر سڑکوں کے کنارو ں اور فُٹ پاتھوں پر دکانداروں ، چھاپڑی فروشوں اور ریڑی لگانے والوں کا قبضہ عام ہوچکاہے۔ یہ تجاوزات نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہیں بلکہ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ جس سے حادثات کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اس حوالے سے مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھتے ہیں کیونکہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ظاہر ہے کہ ٹریفک پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے، لیکن اکثر اہم چوراہوں اور سڑکوں پر ٹریفک اہلکاروں کی غیر موجودگی دیکھنے میں آتی ہے۔ جہاں اہلکار موجود ہوتے بھی ہیں ،وہاں قوانین پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
مزید ٹریفک ڈیپارٹمنٹ میں افرادی قوت کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پورے شہر کے ٹریفک نظام کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنا مشکل بن چکا ہے۔
ٹریفک سگنلز کی خرابی یا عدم دستیابی بھی حادثات کی ایک وجہ ہے۔ کئی اہم چوراہوں پر سگنلز یا تو کام نہیں کرتے یا ان کی مرمت بروقت نہیں کی جاتی۔ نتیجتاً ٹریفک بے ہنگم ہو جاتی ہے اور ڈرائیور اپنی مرضی کے مطابق گاڑیاں چلاتے ہیں، جس سے تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ٹریفک سگنلز کو فعال اور مؤثر بنایا جائے تو ٹریفک کے نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ایک اور اہم مسئلہ جعلی یا غیر قانونی ڈرائیونگ لائسنسز کا اجرا ہے۔ ایسے افراد جو مکمل تربیت کے بغیر ڈرائیونگ کرتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ لائسنس کے اجرا کے نظام میں شفافیت اور سختی کی کمی اس مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اگر اس نظام کو بہتر بنایا جائے اور صرف اہل افراد کو ہی لائسنس جاری کئے جائیں تو حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔تاہم ان تمام عوامل کے باوجود عوام کی اپنی ذمہ داری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جموں و کشمیر کے شہری علاقوں میں اکثر لوگ ٹریفک قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں۔ تیز رفتاری اشاروں کی خلاف ورزی بغیر ہیلمٹ یا سیٹ بیلٹ کے سفر اور غلط سمت میں گاڑی چلانا عام رویہ بن چکا ہے۔ نوجوانوں میں تیز رفتاری کا رجحان بھی حادثات کی ایک اہم سبب ہے۔نیز عوام میں ٹریفک شعور کی کمی بھی پائی جاتی ہے، اکثر لوگ ٹریفک قوانین سے واقف ہی نہیں ہوتے یا انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے آگاہی مہم چلائیں تاکہ لوگوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔
لہٰذا یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ جموں و کشمیر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کسی ایک فرد یا ادارے کی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ غفلت کا مظہر ہیں۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ سڑکوں کی بہتری تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک سگنلز کی درستگی کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ٹریفک پولیس کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ اسی طرح لائسنس کے اجرا کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ٹریفک قوانین کی پابندی صبر و تحمل کا مظاہرہ، اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اس پر عمل کرے تو حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔اگر ہم واقعی جموں و کشمیر کو ایک محفوظ اور پُرامن خطہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اجتماعی طور پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
[email protected]
�����������������