مینڈھر //ممبراسمبلی مینڈھر و این سی لیڈر جاوید رانا نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی پر فرقہ وارانہ ایجنڈے پر گامزن ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ جموں میں ناجائز تجاوزات کے نام پر ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایاجارہاہے ۔اپنے ایک پریس بیان میں رانا نے اس کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سدھرا جموں میں مکانات کو گراکران کے مکینوں کو بے سروسامان بنادیاہے اور یہ کارروائی بغیر کوئی نوٹس دیئے کی گئی ہے جو سراسر زیادتی ہے ۔رانا کاکہناہے کہ پولیس اور جے سی بی مشینوں کے ساتھ گھروں کو نشانہ بنایاگیااور جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اپنے کو جموں کی تعمیر کے بجائے جموں کی تباہی کے طور پر منوایاہے ۔این سی لیڈر نے کہاکہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ریاست مذہب اور علاقے کے نام پر تقسیم کے درپہ ہے اوریہ سب کچھ صرف اس لئے ہورہاہے کہ کچھ سیاسی جماعتیں جموں و کشمیر کو طبقوں اور مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ان جماعتوں نے عوام میں خوف کی فضا پیدا کی ہوئی اور بقائے باہمی کو خطرہ لاحق ہے ۔ رانانے کہاکہ پچھلے تین برسوں سے انتظامیہ اس طرح کی سیاست کو مبینہ طور پر مدد فراہم کررہی ہے اوردائیں بازو کے نظریہ کی ہدایات پر عمل پیراہے ۔انہوں نے کہاکہ جس انتظامیہ کو لوگوں کو انصاف فراہم کرناچاہئے ، وہ فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ۔انہوں نے جے ڈی اے پر الزام عائد کیاکہ وہ مخصوص طبقہ کے خلاف کارروائی کررہی ہے جبکہ جموں میں اپنی ناک تلے غیر قانونی کالونیوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل نہیں لارہی ۔رانا نے کہاکہ پہلے سے ہی قائم ہوئی کالونیوں کو باقاعدہ بنانے کے بجائے جے ڈی اے کی طرف سے مکان گرائے جارہے ہیں جبکہ اس ادارے کا قیام اس مقصد کیلئے عمل میں نہیں لایاگیا۔انہوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ وہ اس ادارے کی کارروائیاں کو جائزہلیں کیونکہ یہ ادارہ اب صرف فرقہ پرستوں کے ہاتھوں کھیل رہاہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اگر اسی طرح کی کارروائی اوقاف محکمہ کی طرف سے کی جائے گی تو انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے اسے مدد فراہم نہیں کی جائے گی جو حیران کن امر ہے۔این سی لیڈر نے کہاکہ دو روز قبل آر ایس پورہ میں زعفرانی گروپ نے 1947سے قبل کے قبرستان کے مقام پر دنگل کا اہتمام کیاباوجود کہ اس کی اوقاف انتظامیہ نے مخالفت کی ۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ نے دہرا معیار اختیار کیاہواہے ۔انہوں نے کہاکہ امن و بھائی چارے کی بحالی کیلئے توازن رکھنا لازمی ہے جس کیلئے ریاستی گورنر فوری طور پر اقدامات کریں اور سیول انتظامیہ میں توازن رکھنے کیلئے تبادلے عمل میں لائے جائیں ۔