بلال فرقانی
سرینگر// جھیل ڈل کا پانی جھیل میں موجود آبی حیات کی بقاء کیلئے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے کیونکہ جھیل کے ماحولیاتی تحفظ کیلئے قائم سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹوں (ایس ٹی پیز) سے نکلنے والے پانی میں ایسے کیمیکل موجود ہیں نہ صرف آبی خوراکی نظام بلکہ جھیل کی ماحولیاتی صحت کو بھی مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔
اعدادوشمار
ستمبر 2025کے دوران مختلف ایس ٹی پیزکے تجزیاتی اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ صفائی کے بعد بھی سیوریج کا پانی ماحولیاتی معیارات پر پورا نہیں اتر رہا اور جھیل کی نازک ماحولیاتی صحت مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔یہ اعداد وشمار کسی دوسری ایجنسی کے نہیں ہیں بلکہ ڈل جھیل کے تحفظ کیلئے قائم جموں و کشمیرلیکس کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کےر یسرچ اینڈ مانیٹرنگ ڈویژن کے ہی ہیں ۔مذکورہ ڈویژن کے جون 2025سے ستمبر 2025تک مختلف ایس ٹی پیز کے تجزیاتی اعداد و شمارکے مطابق حضرت بل 7.5ایم ایل ڈی، حبک 3.2ایم ایل ڈی، لام4.5ایم ایل ڈی، براری نمبل 16.1ایم ایل ڈی، براری نمبل 17ایم ایل ڈی اور نالہ امیر خان 5.4ایم ایل ڈی میں داخلی اور اخراجی پانی کے معیار میں اگرچہ بہتری دیکھی گئی، تاہم کئی اہم اشاریے اب بھی مرکزی پولیویشن کنٹرول بورڈ اور نیشنل گرین ٹریبونل کے مقررہ معیار سے تجاوز کر رہے ہیں۔ ستمبر کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بائیو کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ کی سطح خام پانی میں 98سے 174ملی گرام فی لیٹر تک ریکارڈ کی گئی، جبکہ صفائی کے بعد بھی یہ 19سے 61ملی گرام فی لیٹر کے درمیان رہی، جو کہ مرکزی پولیویشن کنٹرول بورڈکے مقررہ 10ملی گرام فی لیٹر سے کہیں زیادہ ہے۔اسی طرح کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ کی سطح میں کمی کے باوجود کئی ایس ٹی پیزمیں یہ 50ملی گرام فی لیٹر کی حد سے تجاوز کرتی رہی، جو کہ ناکافی کیمیائی صفائی کی نشاندہی کرتی ہے۔ خام سیوریج میں حل شدہ آکسیجن کی مقدار 0.2سے 0.4ملی گرام فی لیٹر رہی، جو ماحولیاتی لحاظ سے نہایت خطرناک ہے۔ اگرچہ صفائی کے بعد یہ مقدار 2.4 سے 4.4ملی گرام فی لیٹر تک پہنچی، تاہم ماہرین کے مطابق یہ سطح آبی حیات کے لیے ناکافی ہے۔یکم ستمبر 2025کے ڈیٹا میںامونیاکل نائٹروجن، نائٹریٹ نائٹروجن اور فاسفورس کی نمایاں موجودگی سامنے آئی، جو کہ ڈل جھیل میں ’کائی ‘اور جڑی بوٹیوں کی بے تحاشا افزائش کا سبب بن رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق چند ایک ایس ٹی پیزمیں صفائی کے بعد بھی فیکل کولیفارم کی مقدار 650سے 3700ایم پی این/100ملی لیٹر تک ریکارڈ کی گئی، جو نہ صرف ماحولیاتی بلکہ صحت عامہ کیلئے بھی شدید خطرہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مقامی آبادی اور سیاح جھیل کے پانی سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
پالیسی کنسلٹنٹ اور ماحولیاتی سائنسدان مطہرہ عابدہ دیوانے کہا کہ فاسفورس ڈل جھیل اور دیگر آبی ذخائر کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے یوٹروفیکیشن، الگل بلوم، پانی میں آکسیجن کی کمی اور مچھلیوں کی اموات جیسے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ’ امونیکل نائٹروجن‘ کی بلند مقدار آبی حیات کےلئے نہایت خطرناک ہے اور یہ مچھلیوں کے لارئوں اور پلینکٹن(پانی میں پائے جانے والے نہایت باریک جاندار یا نباتات، جو آبی خوراکی زنجیر کی بنیاد ہوتے ہیں) کیلئے مہلک ثابت ہو رہی ہے، جس سے آبی خوراکی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ مطہرہ عابدہ دیواکے مطابق بائیو کیمیکل اور کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ میں اضافہ شدید نامیاتی و زہریلی آلودگی کی نشاندہی کرتا ہے، جو جھیلوں میں آکسیجن کی کمی، بدبو اور مچھلیوں کی ہلاکت کا سبب بن رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی میں معلق ذرات اور ’فیکل کولیفارمز ‘کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سیوریج کا گندا پانی بغیر مناسب صفائی کے آبی ذخائر میں شامل نہیں ہو رہا ہے، جس سے پانی عوامی استعمال اور سیاحت کیلئےغیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ بیشتر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ نیشنل گرین ٹریبونل کے معیار پر پورا نہیں اترتے اور یہی وجہ ہے کہ ڈل جھیل، دریائے جہلم اور دیگر آبی ذخائر شدید ماحولیاتی بحران سے دوچار ہیں۔ حکام کا موقف کشمیرعظمیٰ نے اس سلسلے میںلیکس کنزرویشن مینجمنٹ اٹھارٹی کے حکام کا موقف جاننے کی کوشش لیکن حیران کن طور پر اتھارٹی کے حکام نے صورتحال کی سنگینی سے پلو جھاڑتے ہوئے ذمہ داری ایک دوسرے کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش کی ۔وائس چیئرمین سے رابطہ نہ ہوسکا تاہم دیگر جن کئی عہدیداروں سے رابطہ کیاگیا تو انہوںنے کہا کہ یہ معاملہ ان کے حد اختیار میں نہیں آتا ہے اور جن عہدیداروں کو اس معاملہ کی نسبت جواب دینے کیلئے موزون قرا ر دیتے تھے،وہ بھی معاملہ سے لاتعلقی کا اظہار کررہے تھے ۔تاہم اتھارٹی کے ایک سنیئر انجینئر نے بتایا کہ موجودہ سوریج ٹریٹمنٹ پلانٹوں کو نیشنل گرین ٹریبونل کے برعکس سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے تجویز کردہ معیارات کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریڈنگس نیشنل گرین ٹریبونل معیارات سے کہیں کہیں میل نہیں کھاتی ہیں ۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ایس ٹی پیز‘ میں بہتری لائی جا رہی ہے اور انہیں این جی ٹی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں جس سےآنے والے دنوں میں یقینی طور پر پانی کی آلودگی کو ختم کرنے میں مزید بہتری آئے گی۔