اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے، لیکن سانحۂ کربلا کے بعد جب بھی محرم الحرام کا نام آتا ہے تو فوراََ تذکرہ شہدائے کربلاؓ اور حضرت امام حسینؓ کا پاکیزہ نام دل و دماغ میں گونجنے لگتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت نے ضمیروں کو بیدار کیا، دلوں کو بدلا،ذہنی انقلاب کی راہیں ہموار کیں اور انسانی اقدار کی اہمیت کو متعارف کرایا۔ کوئی بھی بندۂ مومن ایسا نہیں جو واقعہ کر بلا کو سن کرآ بدیدہ نہ ہو ۔آپؓ کی قربانیوں کی بدولت آج پرچمِ اسلام سربلند ہے۔ حضرت امام حسینؓ نہایت عبادت گزار تھے۔ آپؓ کے طرزِ زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار نمایاں تھا۔ آپؓ نے جو کچھ بھی کیا، وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا۔ آپؓ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بادشاہوں کی بدترین صفات یہ ہیں کہ دشمنوں سے ڈریں، بے سہارا اور ناداروں پر رحم نہ کریں اور عطا و بخشش کے وقت بخل سے کام لیں۔
حدیث شریف میں ہے،سرور کائنات ﷺ نے فرمایا : حضرت ہارونؑ نے اپنے بیٹوں کا نام شّبروشبّیر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کانام ان ہی کے نام پر حسن اور حُسین رکھا ۔ اسی لیے حسنین کریمین ؓکو شبّر و شبّیر کے نام سے بھی یاد کیا جا تا ہے۔ سرُیانی زبان میں شبّروشبّیر اور عربی زبان میں حسن وحسین دونوں کے معنیٰ ایک ہیں۔ حدیث میں ہے کہ حسنؓ اور حُسینؓ جنتی ناموں میں سے دونام ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین کریمینؓ کے بارے میں گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’حسنؓ اور حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘(ابن ماجہ)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’حسنؓ اور حسینؓ دنیا کے میرے دو پھول ہیں۔‘‘ (مشکوٰۃ) حضرت علی ؓ بیا ن فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسنؓ اور حسینؓ پیدا ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا: مجھے ان کے نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، میں نے عر ض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں، پس آپ ﷺنے ان کے نام حسنؓ و حسینؓ رکھے۔(مسند ا حمد بن حنبل)
حضرت ابو سعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضر ت حسن ؓ اور حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔(تر مذی شریف)حضرت یعلیٰ بن مر ہؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے ار شا د فر مایا: حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں ۔(ترمذی شریف)حضر ت سلما ن فا رسی ؓسے ر و ا یت ہے، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے ان دونوں یعنی حسنؓ و حسینؓ کے نام ہارون علیہ ا لسلام کے بیٹوں شبر اور شبیر کے نام پر رکھے ہیں۔(ابن ابی شیبہ) حضر ت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضو ر ا کر م صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپﷺنے حسنؓ و حسینؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ میرے بیٹے ہیں۔ (حاکم،ا لمستدرک)حضرت سیدہ فاطمہؓ فرماتی ہیں، ایک ر و ز حضو ر ؐ میرے پاس تشریف لا ئے اور فرمایا، میرے بیٹے کہاں ہیں؟ میں نے عر ض کیا، علی ؓ انہیں ساتھ لے کرگئے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ا ن کی تلاش میں متو جہ ہوئے تو انہیں پانی کی جگہ پر کھیلتے ہو ئے پایا۔ آپ ؐ نے فرمایا: اے علیؓ، خیال رکھنا، میرے بیٹو ں کو گرمی شروع ہونے سے پہلے واپس لے آنا۔ (ترمذی شریف)
حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں دربار رسالتؐ میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسینؓ کو اپنی پشت مبارک پر سوار کر رکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل تشریف لے جا رہے ہیں، جب میں نے یہ شان دیکھی تو عرض کیا۔ ’’اے ابوعبداللہ، آپ نے سواری تو بڑی اچھی پائی ہے۔‘‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’عمرؓ، سوار بھی تو بہت اچھا ہے۔‘‘
حضرت اسامہ بن زیدؓ ارشاد فرماتے ہیں، ایک رات میں سرور کائنات ؐ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا‘ آپؐ باہر تشریف لائے تو کچھ اٹھائے ہوئے تھے، جسے میں نہیں جان سکا۔ دریافت کیا’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اٹھائے ہوئے ہیں؟‘‘ آپ ﷺ نے چادر مبارک اٹھائی تو میں نے دیکھا کہ آپؐ کے دونوں پہلوئوں میں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ’’اے اللہ، میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں، تُو بھی انہیں محبوب رکھ اور جو ان سے محبت کرتا ہے، انہیں بھی محبوب رکھ۔‘‘(ترمذی شریف)حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺمسجد میں تشریف لائے اور فرمایا:چھوٹا بچہ کہاں ہے ؟ حضرت امام حسین ؓ دوڑتے ہو ئے آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے اور اپنی انگلیاں آپؐ کی داڑھی مبارک میں داخل کر دیں۔ حضور ﷺنے ان کا بوسہ لیا، پھر فرمایا:’’اے اﷲ،میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے بھی محبت فرماکہ جو اس سے محبت کرے۔‘‘(نورالابصار)
حضرات حسنین کریمین ؓمیں سے کوئی بیت اللہ کے طواف کے لیے نکلتا تو آپ سے سلام و مصافحہ کے لیے لوگ پروانہ وار ٹوٹ کر گرتے کہ ڈرلگتا کہ کہیں انہیں تکلیف نہ پہنچے۔ ایک موقع پر حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسین ؓ سے ہوں جو حسین ؓ سے محبت کرے، اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائے گا،حسینؓ میری اولاد کی اولاد ہے۔(ترمذی)
حضرت ابو بکر صدیق ؓ،سیدنا حضرت عمر فاروقؓ اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورینؓ سمیت تمام صحابہ کرام ؓ کو بھی حسنین کریمین ؓ اور خاندانِ نبوت سے بہت زیادہ عقیدت و محبت اور اُلفت تھی۔ حضرت حسین ؓ جب بچپن میں پہلی مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے سامنے آئے تو آپ نے بے اختیار عقیدت و محبت میں فرمایا ’’بیٹا علیؓ کا ہے، مشابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہے۔‘‘
حضرت امام حسینؓ کی ولادت کی خوش خبری سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے،نومولود کے کان میں اذان کہی، ولادت کے ساتویں دن حضرت علیؓ نے آپ کا نام حرب تجویز فرمایا جسے بعد میں حضور اکرم ﷺ نے تبدیل کرکے حسینؓ رکھ دیا۔ حضور اکرمؐ کی محبت کا عالم تو دیکھیے ،سرور کائناتﷺمسجد نبوی میں خطبہ فرمارہے ہیں۔
حضرت امام حسینؓ نیا لباس زیب تن کیے مسجد میں داخل ہوئے،حضرت امام حسین ؓ کا پائوں کُرتے میں اُلجھ گیا، جس کی وجہ سے آپ گر پڑے۔ ذرا تصور کیجیے۔ کائنات کی معتبر ہستی فخرِ کائنات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خطبہ روک کر آپ کے پاس آئے، اٹھایا ، آپؓ کو اپنی گود میں بٹھایا اور فرمایا:’’حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسینؓ سے ہوں۔‘‘کربلا میں حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے دین کو جس انداز میں بچایا۔اسلامی تاریخ میں وہ ایک روشن مثال ہے۔