جموں//جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ، جسٹس گیتا متل نے جموںوکشمیر محکمہ جنگلات اور جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی کی جانب سے منعقدہ ’’جنگلات ، وائیلڈ لائف اور ماحولیات سے متعلقہ قوانین‘‘ کے عنوان پر آن لائین ورکشاپ کا جسٹس سنجے دھر ، پرنسپل چیف کنزرویٹرس فارسٹس جے اینڈ کے ڈاکٹر موہت گیرا ، چیف کنزویٹر فارسٹس سینٹرل ٹی۔ربی کمار اور محکمہ جنگلات کے دیگر اعلیٰ افسران کی موجودگی میں ای۔ اِفتتاح کیا۔جنگلات ، وائیلڈ لائف اور ماحولیات سے متعلقہ قوانین پر سہ روزہ آن لائین ماڈیول چیف جسٹس اور محکمہ جنگلات کی پہل پر مرتب کیا گیا جس میںملک بھر کے جنگلات و ماحولیاتی قوانین کے ماہرین اور جموںکشمیر محکمہ جنگلات کے عملی تعاون سے تیار کیا گیا۔آن لائین ورکشاپ جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی کے اشتراک سے جوڈیشل افسران ، تلنگانہ کے ٹرینی جوڈیشل افسران اور جموں،کشمیر و لداخ کے پبلک پراسکیوٹروں اور لأ افسران کے لئے منعقد کیا جارہا ہے۔جسٹس گیتا متل نے آن لائین ورکشاپ کا اِفتتاح کرتے ہوئے جنگلات و ماحولیات کے تحفظ پر مختلف قوانین پر جوڈیشل افسران اور دیگر متعلقین کو اِنصاف کی فراہمی کے نظام سے متعلق آگاہی اور بااختیاری پر روشنی ڈالی ۔اُنہوں نے جوڈیشل افسروں میں مختلف اہم معاملات بشمول پائیدار ترقیاتی اہداف ، گلوبل ورمنگ ، کاربن پرنٹ،سی اے ایم پی اے اور اس سے متعلق اصطلاحات بشمول سی اے اور این پی وی اور دیگر قوانین جیسے کہ ایکٹ برائے جانوروں پر ظلم و تشدد کی روکتھام 1960 ، جنگلی جانوروں کے تحفظ متعلقہ ایکٹ 1972وغیرہ ۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں متنوع حیاتیات سے مالا مال ہے جس کا تحفظ لازمی ہے۔اُنہوں نے اس قدرتی وسائل کے تحفظ کے لئے محکمہ جنگلات کی کاوشوں کو سراہا ۔اُنہوں نے اس نوعیت کے مزید پروگراموں کے اِنعقاد پر زور دیا جو ماحولیات اور حیاتیات سے متعلق بنیادی مسائل کے ازالہ کے لئے کافی اہم ہے ۔اُنہوں نے آنے والے نسلوں کے لئے ماحولیات کے تحفظ کے لئے تمام متعلقین اور معاشرے کی مشترکہ کوششو ں پر زور دیا۔اِس موقعہ پر پرنسپل چیف کنزرویٹر فارسٹس ، چیف کنزرویٹر فارسٹس سینٹر ل نے بھی اپنے خیالا ت کا اظہار کیا۔پروگرام مزید دو دِن ( 3اور4؍ جولائی ) تک جاری رہے گا۔