مانسبل // شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ انچیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے اُن مقامی نوجوانوں سے اپیل کی ہے جو عسکریت پسند کے صفوں میں شامل ہو گئے ہیں، کہ وہ واپس آکر اپنی غلطی کا ادراک کریں۔فوج نے کہا ہے واپس آنے والوں کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا جائیگا۔ مانسبل پارک میں ایک تقریب کا اہتمام 23 لڑکوں کی وطن واپسی کی 23 ویں سالگرہ منانے کے لئے کیا گیا تھا جو "ہتھیار اٹھانے پر مجبور تھے ، لیکن فوج نے گریز سیکٹر میں انہیں بچایا اور بعد میں 1998 میں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا گیا۔ تقریب میںآرمی کمانڈر نے کہا کہ پچھلے چند مہینوں کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ نوجوانوں کے خاندان،عسکریت پسند سے اپیلیں کررہے ہیں کہ وہ بندوق کی سیاست اور تشدد کے چکر کو چھوڑ کر اپنے خاندانوں کے پاس واپس آئیں۔انہوں نے کہا ’’ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ہتھیار ڈالنے کی سہولت دیں یہاں تک کہ آپریشن کے دوران بھی یہی کوشش ہوتی ہے، فوج چاہتی ہے کہ نوجوان مرکزی دھارے میں واپس آئیں اور ہم انہیں کھلے بازوں سے خیر مقدم کریں گے‘‘۔لیفٹیننٹ جنرل جوشی نے کہا فوج اور سول انتظامیہ نہ صرف ان کے ہتھیار ڈالنے میں سہولت فراہم کرے گی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ وہ اچھی طرح مرکزی دھارے میں شامل ہو جائیں۔انکا کہنا تھا کہ فوج کسی بھی نوجوان کو دوسرا موقع دینے کے لئے موجود ہے جو اپنی غلطیاں قبول کرتا ہے اور ہتھیار ڈال کر واپس مرکزی دھارے میں آنا چاہتا ہے، ہم ، وردی پوش فورسز یہاں جانیں بچانے کے لیے ہیں ، جانیں لینے کے لیے نہیں۔پوری انتظامیہ نہ صرف ان کے ہتھیار ڈالنے میں سہولت فراہم کرے گی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ وہ دوبارہ مرکزی دھارے میں شامل ہو جائیں۔لیفٹیننٹ جنرل نے کہا کہ بھارتی فوج انسداد دہشت گردی آپریشن کرتے وقت انسانی حقوق کی پاسداری کو بہت اہمیت دیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا ، "ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہم کم سے کم طاقت کا استعمال کریں اور کم از کم جانی نقصان ہو۔آرمی کمانڈر نے کہا کہ پچھلے 32 سالوں کے تشدد میں ہزاروں والدین کے خواب تباہ ہو گئے ہیں اور یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ، "امن کے دشمنوں نے معصوم بچوں کو جھوٹے خواب دکھائے اور ان کے مستقبل کا سودا کیا، یہ افسوسناک ہے کہ ہمارے ہی ملک کے چند لوگ اس سازش میں شامل ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو ، ہر کشمیری نوجوان ، جس نے غلط راستہ اختیار کیا ہے ، اسے ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کرکے اسے امن کی راہ پر واپس لانا ہوگا۔