ایجنسیز
بینکاک/جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایٹمی توانائی کے منصوبوں پر دوبارہ غور کر رہے ہیں، جبکہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی فراہمی میں خلل نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔خطے کے کئی ممالک نے پرانے اور معطل ایٹمی منصوبوں کو دوبارہ فعال کرنے اور نئے اہداف مقرر کرنے کا آغاز کر دیا ہے، اور اندازہ ہے کہ اگر یہ منصوبے جاری رہے تو 2030 کی دہائی تک خطے کے تقریباً نصف ممالک ایٹمی توانائی استعمال کر رہے ہوں گے۔اب تک جنوب مشرقی ایشیا میں ایٹمی توانائی سے بجلی پیدا نہیں کی گئی، تاہم ماحولیاتی تبدیلی کے دباؤ اور بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب نے اس سمت میں پیش رفت کو ناگزیر بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ نے ایشیا کی توانائی سپلائی کی کمزوری کو اجاگر کیا ہے، جس کے باعث تیل اور گیس کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی ممالک کو ایٹمی توانائی کی طرف راغب کیا ہے۔اس ہفتے ویتنام اور روس کے درمیان ایٹمی توانائی کے معاہدے میں پیش رفت ہوئی، جبکہ بنگلہ دیش بھی روس کے تعاون سے اپنے ایٹمی پاور پلانٹ کو فعال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق 2035 تک عالمی توانائی طلب میں اضافے کا ایک چوتھائی حصہ جنوب مشرقی ایشیا سے آئے گا، جس کی ایک بڑی وجہ انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، ویتنام اور فلپائن میں قائم 2000 سے زائد ڈیٹا سینٹرز ہیں۔خصوصی طور پر ملائیشیا خود کو اے آئی کمپیوٹنگ کا مرکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور مائیکروسافٹ، گوگل اور اینویڈیا جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کی سرمایہ کاری حاصل کر رہا ہے۔خطے کے پانچ ممالک — انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام اور فلپائن — ایٹمی توانائی کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔ ویتنام دو ایٹمی پاور پلانٹس تعمیر کر رہا ہے، جبکہ انڈونیشیا 2034 تک چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تھائی لینڈ نے 2037 تک 600 میگاواٹ ایٹمی بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔فلپائن، جس نے 1970 کی دہائی میں ایک ایٹمی پاور پلانٹ بنایا تھا مگر اسے کبھی فعال نہیں کیا، اب 2032 تک ایٹمی توانائی کے حصول کا منصوبہ بنا رہا ہے۔دوسری جانب کمبوڈیا، سنگاپور اور برونائی جیسے ممالک بھی ایٹمی توانائی میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں، جہاں ایک معیاری ڈیٹا سینٹر تقریباً ایک لاکھ گھروں کے برابر بجلی استعمال کرتا ہے۔