ایجنسیز
سیول//جنوبی کوریا نے دنیا کے تیزی سے عمر رسیدہ ممالک میں ڈاکٹروں کی کمی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے 2027 سے 2031 تک میڈیکل کالجوں میں داخلوں کی تعداد 3,340 سے زائد بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے، حکومت نے منگل کو بتایا۔یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب حکام نے طویل ڈاکٹروں کی ہڑتال کو ختم کرنے کے لیے سابق قدامت پسند حکومت کے زیادہ بڑے اضافے کے منصوبے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم کم اضافے کی تجویز پر بھی ڈاکٹروں کی تنظیموں نے تنقید کی اور اعلان سے قبل نئی ہڑتال کی دھمکی دی۔وزارت صحت کے سینئر عہدیدار کواک سون ہْن نے بتایا کہ کورین میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ہیلتھ کیئر پالیسی اجلاس میں شریک ہوئے لیکن داخلوں میں اضافے کی منظوری کے ووٹ کے بائیکاٹ کے طور پر جلد اجلاس چھوڑ گئے۔ ڈاکٹروں کی تنظیم نے فوری طور پر اس منصوبے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔وزیر صحت جیونگ اْن کیونگ نے کہا کہ میڈیکل کالجوں میں سالانہ داخلوں کی حد موجودہ 3,058 سے بڑھا کر 2027 میں 3,548 کر دی جائے گی، جبکہ بعد کے برسوں میں مزید اضافہ کر کے اسے 2031 تک 3,871 تک پہنچایا جائے گا۔ پانچ سالہ مدت میں اوسطاً ہر سال 668 طلبہ کا اضافہ ہوگا، جو سابق صدر یون سک یول کی حکومت کے مجوزہ سالانہ 2,000 اضافے سے کہیں کم ہے، جس کے باعث ہزاروں ڈاکٹروں نے مہینوں طویل ہڑتال کی تھی۔جیونگ نے کہا کہ اضافی تمام طلبہ کو علاقائی ڈاکٹر پروگرامز کے تحت تربیت دی جائے گی تاکہ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی تعداد بڑھائی جا سکے جہاں آبادیاتی دباؤ زیادہ ہے۔ ہر میڈیکل کالج کے لیے مخصوص داخلہ کوٹہ اپریل میں طے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی تربیت کے پیمانے پر اختلافات کے باعث عوام اور طبی عملے کو پیش آنے والی مشکلات سب کو یاد ہیں۔