جموں // ہزاروں میلوںکی مسافت طے کرنے کے بعد مہاجر پرندے یہاںرنبیر سنگھ پورہ سیکٹر میں ہند پاک بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع گھرانہ آبگاہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ پرندے عام طور پر سائبیرین پرندوں اور امن کے پیام رساں پرندوں کے نام سے موسوم ومعروف ہیں ۔ سائبیریا، وسطی ایشیا، چین، مشرقی یورپ اور نیوزی لینڈ سے آنے والے مہاجر پرندوں کی آجگاہ ہونے کے باعث ’گھرانہ آبگاہ ‘ ماہ دسمبر سے ماہ فروری یعنی دو مہینوں تک سیاحوں کے لئے دلچسپی اورکشش کے مرکز کی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ متعلقہ محکمہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 1000سے1500 اقسام کے مہاجر پرندے،جن میں 310آبی پرندے شامل ہیں،گھرانہ آبگاہ میں جمع ہوچکے ہیں۔ رنبیر سنگھ پورہ سیکٹر میں واقع گھرانہ آبگاہ موسم سرما میں سینکڑوں مہاجر پرندوں کے لئے باعث کشش رہتا ہے جن میں لمبی گردن والے ہنس بھی ہوتے ہیں جو یہاں اپنے قیام کے دوران ہمالیہ کی اونچی پہاڑیوں یہاںتک کہ موئنٹ ایوریسٹ پر بھی پرواز کرتے ہیں ۔ مہمان پرندوں کی بہتات کا ’گھرانہ آبگاہ‘ میں جمع ہونے کی کشش کا باعث یہاں کی جمادات ونباتات کاماحولیاتی تغیر ہے۔ ’گھرانہ آبگاہ ‘کو شمالی کارڈینل ،جو اپنے سرخ گئیر اور نارنگی چونچ کے لئے مشہور ہیں ، کے لئے ’وینٹر ہوم‘ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایاکہ راج ہنس سردی کی شدت سے بچنے کے لئے وسطی ایشیا سے کوہ ہمالیہ کی سربفلک چوٹیوں سے پرواز کرکے جموں پہنچ جاتی ہیں اور یہاں کے گرم موسم میں بودوباش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ ابتدائی ایام میں سرحدی علاقوں کے باشندگان ان مہاجر پرندوں کو،یہ کہہ کر ایک جگہ اکھٹے ہونے سے روکنے کے لئے پٹاخوں کا استعمال کرتے تھے یا ہوا میں گولیاں چلاتے تھے،کہ یہ پرندے ان کی کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچاتے تھے تاہم ریاستی ہائی کورٹ نے اس میں مداخلت کی جس کی بنا پر ان مہمان پرندوں کو گھرانہ آبگاہ میں اکٹھا ہونے کی باقاعدہ اجازت دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ طیوری پرندوں کی کئی منفرد اقسام یہاں مستقل طور پر سکونت اختیار کرتے ہیں اور یہیں انڈے سیتے ہیں۔ دریں اثنا سیاحوںبالخصوص اسکولی بچوں ،جنہیں ان مہاجر پرندوں کا نظارہ دیکھنے کے لئے یہاںلایا گیا، نے آبگاہ میں سہولیات کے فقدان پر اظہار نارضگی کرتے ہوئے کہا کہ اس آبگاہ تک پہنچنے کے لئے سڑک جیسی بنیادی اور اہم سہولیت بھی میسر نہیں ہے۔ آبگاہ پر تعینات ایک مقامی باشندے نے کہا کہ آبگاہ کے پاکستانی سرحد سے کافی نزدیک ہونے کی وجہ سے ہم خاطرخواہ انتظامات بہم رکھنے سے قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے بہ یک وقت رش کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی ہم کوشاں ہیں تاکہ سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔