جموں //جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے ضلع مجسٹریٹ جموں کو ہدایت دی ہے کہ جموں اینڈ کشمیر سینما (ریگولیشن)رولز1975کی من وعن سے عمل آوری کو یقینی بنایاجائے۔ یہ ہدایات ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے سدھارتھ آنند اور بھونیشا سدن نامی وکلاء کی طرف سے دائر ایک مفاد عامہ عرضی(پی آئی ایل)میںجاری کیں۔ بنچ کے سامنے مفاد عامہ عرضی کی سماعت کے دوران متعدد سینما ہالوں کے مالکان کے وکلاء بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ اس دوران سنیئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل حسین احمد صدیقی پیش ہوئے جنہوں نے فاضل عدالت سے عذرات دائر کرنے کے لئے وقت مانگا لیکن کورٹ نے کہاکہ اس میں جوابی دعویٰ فائل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ رولز جوکہ پہلے سے موجود ہیں ، ان کی سختی سے عمل آوری کی جائے۔ عدالت عالیہ نے ضلع مجسٹریٹ جموں کو ایک ماہ کے اندر اندر ان ہدایات کو عمل جامہ پہنانے کا وقت دیا ہے۔ ایڈووکیٹ آدتیہ نے بتایاکہ عدالت کی سخت ہدایات ہیں، اگراس پر عمل نہ ہوا توایک ماہ کے بعد وہ حکم عدولی(توہین)کی عرضی عدالت میں دائر کریں گے۔ مفاد عامہ عرضی میں عدالت عالیہ سے استدعا کی تھی ہے کہ سرکار کو ہدایات جاری کی جائیں کہ جموں اینڈ کشمیر سینما(ریگولیشن)رولز1975پر سختی سے عمل آوری کو یقینی بنایاجائے۔ضلع مجسٹریٹ کو ان قواعدپر عمل آوری کو یقینی بنانا ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا۔ ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی کوئی یکسانیت نہیں۔ جموں شہر میں موجود سینماہال کے مالکان اپنی مرضی ومنشاء کے مطابق پیسے وصول کر رہے ہیں۔ باہر سے کوئی بھی کھانے پینے کی اشیاء لے جانے کی اجازت نہیں جس سے بزرگ شہری جوکہ کسی امراض کا شکار ہیں اور انہیں تین گھنٹے ہال میں بیٹھنے کیے دوران مقوی غذاکی ضرورت ہے ، وہ اس سے محروم ہوجاتے ہیں۔انہیں بھی دوگنی چوگنی قیمتوں پر جنک فوڈ کھانے خریدنے پر مجبور کیاجاتاہے۔مفاد عامہ عرض میں مزید کہاگیاہے کہ سکولی اوقات کے دوران یعنی3بجے سے پہلے13 سال سے کم عمر کے بچوں کو سیمینا ہال میں جانا منع ہے مگر اس پر بھی عمل نہیں ہورہا۔ سینماگھروں میںلوگوں کوباہر کھانے پینے کی اشیاء نہیں لے جانے دیاجاتا انہیں سیمینار گھروں کے اندر سے ہی اشیاء خوردونوش جس میں مشروبات ، فاسٹ فوڈ وغیرہ شامل ہیں ، خریدنے پر مجبور کیاجاتاہے جہاں پر چار گناہ زیادہ قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔،ٹکٹوں کی قیمتوں میں کوئی یکسانیت نہیں۔اگر چہ سینما گھروں کے لئے جموں اینڈ کشمیر سینما(ریگولیشن)رولز1975قواعد وضوابط روبہ عمل ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہورہا جس سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔سیمینار گھروں کی اس لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے اب فلمیں دیکھنے جانے والے شائقین کی تعداد بھی قدر کم دیکھنے کو مل رہی ہے۔رولز کے مطابق سبھی سینما ہالوں میں ٹکٹ کی قیمت یکساں ہوگی، سکولی اوقات(ورکنگ ٹائم)کے دوران 18سال سے کم عمر کے بچوں کو فلم نہیں دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، سینماہال والے پاپ کارکن، سینڈ وِچ، ہاٹ ڈاک، کولڈرنک وغیرہ کی زیادہ قیمتیں وصول نہیں کرسکیں گے۔ یو این آئی