سرکاری اعداد و شمار نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، بڑھتے واقعات کے پیش نظر نگرانی اور حفاظتی اقدامات مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور
عظمیٰ نیوز سروس
جموں// جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار نے خطہ جموں میں جنگلاتی آگ کی سنگین صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق مالی سال24/ 2023 سے جنوری 2026 تک گزشتہ تین برسوں میں جموں ڈویژن میں مجموعی طور پر 1,763 جنگلاتی آگ کے واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں 4,195.24 ہیکٹر سے زائد قیمتی جنگلاتی رقبہ متاثر ہوا۔محکمہ جنگلات و ماحولیات کے مطابق یہ واقعات خطے کے 19 مختلف فاریسٹ ڈویژنوں میں درج کئے گئے، جس سے نہ صرف سبزہ اور قدرتی وسائل کو شدید نقصان پہنچا بلکہ ماحولیاتی توازن، جنگلی حیات اور مقامی آبادی بھی متاثر ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک موسم، بڑھتا درجہ حرارت اور انسانی لاپرواہی ایسے واقعات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 میں 281 آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں تقریباً 371.49 ہیکٹر جنگلاتی زمین متاثر ہوئی، تاہم اگلے ہی سال صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ گئی۔ مالی سال 2024-25 میں واقعات کی تعداد بڑھ کر 1,135 تک پہنچ گئی اور تقریباً 3,154.90 ہیکٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔رواں مالی سال 2025-26 میں بھی خطرہ کم نہیں ہوا۔ جنوری 2026 تک 419 واقعات درج کئے جا چکے ہیں، جن سے 668.85 ہیکٹر جنگلات متاثر ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والے گرم مہینوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ڈویژن وار تفصیلات کے مطابق 2024-25 میں مشرقی جموں ڈویژن سب سے زیادہ متاثر رہا جہاں 488 واقعات میں تقریباً 1,786.56 ہیکٹر جنگلات جل گئے۔ اس کے بعد مغربی جموں ڈویژن میں 326 واقعات کے ذریعے 875.03 ہیکٹر جبکہ چناب ڈویژن میں 321 واقعات کے باعث 493.31 ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا۔سال 2025-26 میں اب تک مغربی جموں ڈویژن سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بن کر سامنے آیا ہے جہاں 171 واقعات میں 331.95 ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا۔ مشرقی جموں میں 98 واقعات کے ذریعے 147.7 ہیکٹر جبکہ چناب ڈویژن میں 150 واقعات سے 189.2 ہیکٹر جنگلاتی زمین متاثر ہوئی۔جموں، ادھم پور، رام بن، بٹوت، ریاسی اور راجوری جیسے علاقوں میں مسلسل زیادہ واقعات رپورٹ ہونا حکام کے لئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، جبکہ سانبہ، بلاور اور این ایچ آئی اے بٹوت میں نسبتاً کم واقعات سامنے آئے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے جنگلاتی آگ کے واقعات ایک بڑے ماحولیاتی چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس سے نمٹنے کے لئے جدید نگرانی نظام، فوری ریسپانس ٹیمیں، عوامی بیداری اور مقامی سطح پر مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو نہ صرف جنگلات بلکہ پورا ماحولیاتی نظام شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔