دنیابھر میں پھیلی عالمگیر وباء کووڈ۔19کے دوران کئی نجی شعبوں میں آن لائن کام کاچلن شروع ہو گیاہے ۔نجی کمپنیوںودیگر آرگنائزیشنوںکے کام کاج لیپ ٹاپ اور سمارٹ فونز کے ذریعہ اس مشکل وقت میں انجام دئیے جارہے ہیں ۔گوکہ لاک ڈائون اور وائرس کا پھیلا ئو ختم ہونے کے بعد معمولات دوبارہ سے بحال ہوسکتے ہیںلیکن ان پابندیوں کے دوران ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کو ابھی تک یہ بھی نہیں معلوم کہ وائرس کے برسوں تک رہنے والے اثرات کے دوران ان کا مستقبل کیا ہو گا ۔اس طبقہ کے ذہن میں ہمیشہ ہی ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ اب جب حالات دوبارہ سے معمول پر آئینگے تو اس وقت بھی وہ کلاس روم میں پہلے ہی کی طرح تعلیم حاصل کر سکیں گے یا نہیں ۔پوری دنیا کیساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی طلباء کی پڑھائی بُری طرح سے متاثر ہو چکی ہے لیکن اب انتظامیہ کی جانب سے آن لائن کلاسز شروع کی گئی ہیں تاکہ طلباء کی پڑھائی جاری رکھی جاسکے تاہم ملک بھر میں سبھی طلباء کے پاس اس طرح کی سہولیات ہی میسر نہیں ہیں کہ وہ آن لائن کلاسز سے فائدہ اٹھا سکیں حالانکہ حکومت ہند کا ڈیجیٹل انڈیا پروگرام ان حالات سے نمٹنے اورطلباء کی مشکلات کو کچھ حد تک کم کرسکتا تھا لیکن اس کا ہدف بھی مکمل نہیں کیاجاسکا ۔
ملک میں وائرس کے خطرات سے نمٹنے کیلئے سماجی دوری اوربندشوں کے دوران معاملات زندگی بحال رکھنے کیلئے ’ڈیجیٹل ٹیکنا لوجی ‘کے استعمال کو ہی متبادل کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے اس وقت بزنس شعبہ ،تعلیمی ادارے ،تجزیات ،ڈیٹا مینجمنٹ ‘آن لائن تعلیمی نظام جیسے طریقہ کار کو جلداز جلد اختیار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اورتعلیمی ماہرین ملک بھر میںنظام تعلیم کو ٹیکنا لوجی کی مدد سے مزید معیاری بنانے اور وسعت دینے کیلئے کوشاں ہیں ۔یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ تعلیمی اداروں کے بند ہونے کے دوران ٹیکنالوجی کی ہی مددسے کچھ حد تک اچھے نتائج حاصل بھی کئے جاسکتے ہیں لیکن ان سبھی کوششوں کے باوجود جموں وکشمیر یوٹی کے بچوں کی مشکلات ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھتی ہی جارہی ہیں ۔ 5اگست 2019کو جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے کے ساتھ ہی نئی بنائی گئی یوٹی میں کئی ماہ تک سکولوں میں کام کاج متاثر رہا ۔اس دوران نہ تو بچوں کو آن لائن کلاسز جیسی کو سہولیت میسر تھیں اور نہ ہی ان کی تعلیم کی کوئی پرواہ کی گئی ۔خصوصی درجہ ختم ہونے کیساتھ بند کیا گیا 4جی انٹر نیٹ ابھی تک بحال ہی نہیں ہوا تھا کہ کورونا وائرس کی دستک سے ایک مرتبہ پھر بچوں کو گھروں میں ہی محصورہوناپڑا ۔ان سب معاملا ت کی وجہ سے جموں وکشمیر کے بچوں کی زندگی کا لگ بھگ ایک قیمتی برس سیاست اور وائرس کی نذرہوگیا ہے ۔
وزیر اعظم ہندکی جانب سے اعلان کردہ لاک ڈائون کا تیسر مرحلہ بھی جاری ہے لیکن جموں وکشمیر کے طلباء کی پڑھائی نہ متاثر ہو، اس کیلئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا یا گیا ہے ۔کئی تعلیمی ادارو ں کی جانب سے نصاب مکمل کروانے کیلئے آن لائن کلاسز کا عمل شروع کر دیا گیا ہے لیکن مرکزی زیر انتظامیہ جموں وکشمیر میںانٹر نیٹ کی پوری طرح سے بحالی نہیں ہوسکی اور اسی وجہ سے شروع کردہ آن لائن کلاسز بھی ان لا چار طلباء کیلئے فائدہ مندثابت نہیں ہو رہی ہیں ۔تعلیمی ادارے بچوں کی مدد کیلئے کوششیں بھی کر رہی ہیں لیکن ان کے پاس بھی وسائل اس قدر محدود ہیں کہ وہ بھی بے بس نظر آرہے ہیں ۔انٹر نیٹ کی رفتار اس قد رکم ہے کہ سوشل میڈیا پر تصویریں کھولنے کیلئے بھی کا فی وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے ۔
جموں وکشمیر میں مڈل سکول سطح تک بچوں کو پڑھائی سے وابستہ رکھنے،طلباء کا نصاب مکمل کروانے اور گرمائی زون میں آنے والے طلباء کی پڑھائی کو متاثر ہو نے سے بچانے کیلئے ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کی جانب سے 25مارچ سے آن لائن کلاسز کی مہم شروع کی گئی ہے۔اس مہم کو زمینی سطح پر کامیاب بنانے کیلئے ’سکول ایجوکیشن کوالٹی مینجمنٹ سیل ‘کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ سٹاف ممبران کی جانب سے یوٹیو ب اور ٹیلی گرام پر چینل بھی بنائے گئے ہیں جن کی مدد سے طلباء تک ویڈیو لیکچر پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔اس مہم کے تحت ہر ایک شعبہ کے ماہر ٹیچر سے نصاب کے مطابق ویڈیو تیار کروا کر ڈائر یکٹر سکول ایجوکیشن کی ویب سائٹ پر لوڈ کرنے کیساتھ ساتھ چیف ایجوکیشن آفیسر اور زونل ایجوکیشن آفیسرا ن پر مشتمل وٹس ایپ گروپوں میں بھی بھیجی جارہی ہیں تاکہ سکولوں اور طلباء تک یہ ویڈیو پہنچائی جاسکیں لیکن خطہ پیر پنچال ،چناب ،جموں صوبہ کے دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ وادی میں ان ویڈیو سے کس قدر طلباء فائدہ اٹھا رہے ہیں، س سب کا اندازہ انٹر نیٹ کی رفتارسے ہی کیا جاسکتا ہے ۔جموں وکشمیر کی ایک بڑی آبادی خطہ افلاس سے نیچے بھی زندگی بسر کر رہی ہے جن کے ہزاروں بچے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور ان والدین کے پاس سمارٹ فونز اور ٹی وی بھی موجود نہیں ہیں حالانکہ ڈائر یکٹر سکول ایجوکیشن کی جانب سے ’ہوم کلاسز ‘ویڈیوز اور ٹیلی کلاسز کا عمل شروع کیا ہوا ہے تاہم کم انٹر نیٹ سپیڈ کو ذہن میں رکھتے ہوئے پی ڈی ایف فائلز بھی بچوں کو دستیاب کروانے کیلئے مہم شروع کی گئی ہے ۔ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کے اقدمات کچھ حد تک معیاری ہیں لیکن نئے تعلیمی برس کا آغاز اور بچوں تک مفت کتابوں کی رسائی کے بعد ہی وہ اپنے نصاب کے سلسلہ میں جانکاری حاصل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ ’’آئو بات کریں ‘جیسے اقدمات سے بچوں کی پڑھائی کو متاثر ہونے سے بچانے کی ایک کوشش کی جارہی ہے۔
لیکن سکینڈی ،ہائر سکینڈری ،کالجوں کے علاوہ جموں وکشمیر میں آنے والی یونیورسٹیوں و ملک کی دیگر یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مختلف شعبوں میں زیر تعلیم طلباء کی بڑی تعداد ایسی ہے جن کو پی ڈی ایف فائلز پہنچانے اور آن لائن کلاسز کے بجائے براہ راست انٹر نیٹ پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے ۔جموں یونیورسٹی کے علا وہ دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں و کالجوں کی جانب سے آن لائن کلاسز ،سمپوزیم ،مشاعرے اور دیگر پروگرام شروع کئے گئے ہیں لیکن ان سب میں انٹرنیٹ کی کم رفتار بچوں کیلئے مشکل کا باعث بنی ہوئی ہے ۔پڑھائی کے سلسلہ میں آن لائن ویڈیو دیکھنے او ر مختلف سائٹس پر سے پی ڈی ایف کی شکل میں فائلز لوڈ کرنے کیلئے گھنٹو ں درکار ہیں ۔تعلیمی اداروں میں رجسٹرڈ شدہ طلبا ء کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں اپنی تعلیم مکمل کر چکے بے روز گار نوجوانوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس وقت گھروں میں انٹرنیٹ کی ہی سہولیات کے ذریعہ نوکریوں کیلئے لئے جانے والے امتحانات کی تیار یوںکر رہے ہیںجن کو مختلف شعبوں کی پڑھائی کیلئے انٹر نیٹ کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے لیکن شہروں کے بجائے دیہات میں انٹر نیٹ کی موجودہ رفتار سے کو ئی سائٹ کھل نہیں سکتی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پیدا شدہ صورتحال کے دوران ’ڈیجیٹل ایجوکیشن ‘کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے لیکن جموں کشمیر میں آن لائن نظام تک رسائی ،بچوں کے پاس لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ ،ایجوکیشنل ٹول ودیگر سہولیات تو دور کی با ت، معیاری مواصلاتی نظام تک رسائی ہی ممکن نہیں حالانکہ مرکزی حکومت کیساتھ ساتھ کئی اعلیٰ تعلیمی اداروں کی جانب سے ’SWAYAM‘آن لائن کورسز ،’ای -پی جی پاٹشالہ ‘نیشنل ڈیجیٹل لائبریری ‘گو گل کلاسز روم ’فری اینڈ اوپن سورس سافٹ وائیر فا ر ایجوکیشن (FOSSEE)’نیشنل مشن فار ایجوکیشن کے علاوہ سائنس ،ریاضی ودیگر شعبوں کیلئے یوٹیوب چینل ودیگر سہولیات و پروگرام شروع کئے ہوئے ہیں جن تک جموں وکشمیر کے طلبا ء کی رسائی گزشتہ برس 5اگست کے بعد ممنوع ہوچکی ہے ۔جموں وکشمیر ریاست کو یوٹی بنانے کے عمل سے لے کر کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں تک طلباء اور بے روز گار نوجوانوں کو اپنا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ کا استعمال مثبت سمت میں اور ملکی تعمیر وترقی کیلئے کرنا ہر ایک کا فرض ہے لیکن اس کے غلط استعما ل کے خدشات کی وجہ سے ایک نسل کا مستقبل دائو پر لگا دیا گیاہے جوکہ افسوس ناک عمل ہے ۔انتظامیہ کو چاہئے کہ پیدا شدہ حالات کے دوران جموں وکشمیر کے طلباء کے مسائل کو سنجیدگی سے لے کر ان کو بھی مختلف سکیموں اور آن لائن کلاسز سسٹم کا فائدہ اٹھانے کے اہل بنایا جائے۔
رابطہ:9419952597
ای میل:[email protected]