جموں//جموں کشمیرمیں کمیٹیوں کی نامناسب تشکیل اورلوگوں میں نوٹیفیکیشن کی غیر موجودگی میں قبائیلوں اور جنگلات میں رہنے والوں سے ’’دعویٰ وصول کرنے اورآخری تاریخ‘‘سے متعلق ابہام کی وجہ سے جنگلات کے حقوق سے متعلق قانون2006کی عملدرآمد میں تاخیر ہوسکتی ہے ۔مرکزی حکومت نے مرکزی زیرانتظام علاقہ میں جنگلات کے حقوق سے متعلق قانون کی عملدرآمد کیلئے مارچ2021 کو مقرر کیاتھا تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر اس میں تاخیر ہوسکتی ہے ۔ایک سینئر قبایلی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابہام اس وجہ سے پیداہوا کیوں کہ قبائیلی امور کی وزارت کی طرف سے کوئی نوٹیفیکیشن نہیں آئی ہے کہ کب دعوئوں کے فارموں کو قبائیلوں اورجنگلات میں روایتی طوررہنے والوں سے وصول کرنا ہے اور اس سلسلے میں آخری تاریخ کیا ہے۔لوگوں کی اکثریت کو معلوم ہی نہیں ہے کہ جنگلات کے حقوق کاقانون کیا ہے۔ایک سینئرافسر نے بتایا کہ قبائیلی رہنمائوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نامناسب طریقے پرکمیٹیوں کو تشکیل دینے سے ابہام مسلسل طور موجود ہے اور ان کمیٹیوں میں قواعد کے تحت مناسب ارکان بھی نہیں ہیں ۔میونسپل علاقوں میں کوئی جنگلات کے حقوق کی کمیٹی نہیں بنائی گئی ہے ۔ٹرائبل ریسرچ کلچرل فائونڈیشن کے بانی جاویدراہی کے مطابق ہمیں پورے جموں کشمیرسے متعدد مقامات پر کمیٹیوں کی نامناسب تشکیل کی شکایات موصول ہورہی ہیں اور ہم قبائیلیوں کی اس سلسلے میں جنگلات کے حقوق سے متعلق قانون کے مطابق مناسب رہنمائی کے ذریعے مدد کررہے ہیں ۔جاوید کے مطابق ان کی ٹیمیں متعدد بلاک ڈیولپمنٹ افسروں سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں اورانہیں درخواست کررہے ہیں کہ شکایات جیسے کمیٹیوں کی نامناسب تشکیل ،کاازالہ کیاجائے۔انہوں نے کہا اکثر شکایات میں گرام سبھامیں50فیصد اراکان کی کمی ہے یا دوتہائی نمائندگی درج فہرست قبائیل کو نہیں دی گئی ہے۔تاہم ہم حکومت اورقبائیلیوں کے درمیان خلیج کو پاٹنے کیلئے کام کررہے ہیں.۔انہوں نے مزیدکہا کہ ہمیں تین طرح کی شکایات موصول ہورہی ہیں جیسے ارکان کی کمی،کمیٹیوں میںدرج فہرست قبائیل کی دوتہائی نمائندگی نہ ہونا اور پنچوں اور سرپنچوں کی غیرضروری مداخلت ۔تاہم ہم ان شکایات کو بلاک ڈیولپمنٹ افسروں کو بھیج رہے ہیں.۔ قبائیلی امور کے محکمہ کے سیکریٹری ریحانہ بتول نے کہا کہ جنگلات کی اراضی پردعوئوں کی وصولی کا عمل شروع ہوا ہے ۔اس سلسلے میں ہم نے متعلقہ ڈپٹی کمشنروں سے تفصیلات طلب کی ہیں اورڈپٹی کمشنران تفصیلات کو جمع کرکے ہمیں فراہم کریں گے ۔بتول نے کہا کہ ہم نے پنچایت اراکین اور بلاک ڈیولپمنٹ کونسلوں کی مدد سے اس سلسلے میں جنگلات کے حقوق سے متعلق بہت سے بیداری پروگرام کئے ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرامنیم جنگلات کے حقوق کے2006کے قانون کی عملدآوری کی نگرانی کررہے ہیں ۔چیف سیکریٹری نے محکمہ قبائیلی امور کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنروں سے پورے جموں کشمیرمیں ہر ہفتے دوبار اس سلسلے میں تفصیلات طلب کریں اوراس سے مرکزی وزارت امور حکومت ہند کو روانہ کریں۔