بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں لڑکیوں کی تعلیم کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں جبکہ ماہرین تعلیم نے اسے معاشرتی خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔سرکاری رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں تعلیم سے محروم نوعمر لڑکیوں کی تعداد میں گزشتہ5برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2021-22میں جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 9,045 تعلیم سے محروم بچیوںکی نشاندہی کی گئی جبکہ سال 2025-26کی عبوری رپورٹ میں یہ تعداد بڑھ کر 16,900 ہوگئی ہے۔سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023-24کے دوران بھی صورتحال تشویشناک رہی جب 25,393 بچے تعلیم سے محروم پائے گئے، جن میں 13,508 لڑکیاں تھیں۔ اگرچہ 2024-25 میں تعداد کم ظاہر کی گئی، تاہم اس سال جموں و کشمیر کی جانب سے’پربند‘پورٹل پر مکمل ڈیٹا اپلوڈ نہیں کیا گیا، جس کے باعث اصل صورتحال سامنے نہیں آ سکی ۔مرکزی وزارت بہبود خواتین کے مطابق لڑکیوں کے تعلیم سے محروم ہونے کی بڑی وجوہات میں غربت، گھریلو ذمہ داریاں، نقل مکانی، بچوں سے مزدوری کروانا اور سماجی مسائل شامل ہیں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں، دور دراز بستیوں اور سماجی و اقتصادی طور پر کمزور خطوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہورہا ہے، جس میں جموں و کشمیر بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سَمَگرا شکشا سکیم کے تحت نئے اسکولوں کا قیام، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، کستوربا گاندھی بالیکا ودھیالیہ کے ذریعے رہائشی سہولتیں، مفت کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ الاؤنس اور خصوصی تربیتی مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ تعلیم سے محروم بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کیا جا سکے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں لڑکیوں کی تعلیم کے شعبے میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم بہتری کی مزید گنجائش بھی موجود ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تعلیمی سال 2023-24کے دوران جموں و کشمیرمیں مجموعی طور پر 10,50,353 لڑکیاں سکولوں میں زیر تعلیم تھیں۔ ان میں سے 5,08,287 طالبات پرائمری و مڈل سطح پرجبکہ 2,70,040 لڑکیاں اپر پرائمری، 1,62,820 سیکنڈری اور 1,15,202 ہائیر سیکنڈری سطح پر تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ تعلیمی ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں لڑکیوں کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے، مگر قومی اوسط سے کچھ اشاریہ اب بھی پیچھے ہیں۔سال 2021-22کے دوران پرائمری سے لے کر ہائیر سیکنڈری سطح تک 11,05,471 طالبات سکولی تعلیم میں داخل رہیں ۔اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سال 2020-21کے دوران جموں و کشمیر میں 2,05,378 طالبات نے مختلف تعلیمی اداروں میں داخلہ لیا۔ اعلیٰ تعلیم میں لڑکیوں کا مجموعی داخلہ اوسط (بچیوں کا اندراج تناسب) 27.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا ، جو کہ قومی اوسط 27.9 فیصد سے معمولی کم ہے۔ماہر تعلیم اور سابق کنٹرولر امتحانات کشمیر یونیورسٹی پروفیسر پیرزاہ محمد امین نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 16,900 نوعمر بچیوں کا تعلیمی نظام سے باہر ہونا ایک نہایت سنگین سماجی مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا’’ بحیثیت سماجیات کے استاد، میں اسے صرف تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ تعلیمی نظام کی ساختی کمزوریوں، بالخصوص لڑکیوں کیلئے سہولیات کی کمی کا مظہر سمجھتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں فاصلے، تحفظ کے خدشات، ناقص تعلیمی معیار اور معاشی دباؤ والدین کو بچیوں کی تعلیم ترک کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں تعلیمی اخراجات اور معاشی عدم مساوات بچیوں کی تعلیم کو مڈل سکول تک محدود کر دیتے ہیں۔کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کے سابق سربراہ نے کہا’’نوعمر بچیوں کا تعلیم سے محروم ہونا سماجی ترقی اور صنفی مساوات کے لیے ایک نسلی نقصان ہے اور ہمیں صرف داخلوں کے اعداد و شمار پر اکتفا نہیں بلکہ باعزت انداز میں تعلیمی تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے محفوظ ٹرانسپورٹ، بہتر انفراسٹرکچر اور کمیونٹی سطح پر مشاورت کو فروغ دینا ہوگا۔‘‘ ان کا کہنا تھادیہی اور شہری فرق کو ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ایک مقامی اور صنفی حساس تعلیمی پالیسی اپنائی جائے جو بچیوں کی تعلیم کو جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کی بنیاد سمجھے۔