لیفٹیننٹ گورنر نے ہندو ایجوکیشن سوسائٹی کشمیر کے رسالہ ’’سنگرمال‘‘ کے خصوصی شمارے کا اجرا کیا
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز گاندھی میموریل کیمپ کالج، رائے پور جموں میں ہندو ایجوکیشن سوسائٹی کشمیر کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے رسالہ ’’سنگرمال‘‘ کے خصوصی شمارے کا اجرا کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے سماجی ہم آہنگی پر زور دیا اور کہا کہ ثقافتی و روحانی وراثت اور تعلیم کو ایک مضبوط ربط کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک خوشحال مستقبل کا خاکہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے برادری کے رشتوں کو مضبوط بنانے کےلئے رحم دلی، انکساری اور حوصلہ جیسے اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’تیز رفتار تکنیکی ترقی اور عالمگیریت کے اس دور میں ہماری قدیم روحانی اور ثقافتی وراثت، مشترکہ عقائد، روایات، فنون، رسومات اور اقدار معاشرے کی تشکیل کریں گے اور قوم کی ہمہ جہت ترقی کو تقویت دیں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی قدیم ثقافتی وراثت اور روحانی دانش وہ غیر مرئی قوت ہے جو سماجی ترقی کو آگے بڑھائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’جموں و کشمیر کی بھرپور روحانی وراثت ایک متحرک اثاثہ ہے۔ ویدک دور سے ہی روایتی اقدار ہماری رہنمائی کرتی رہی ہیں، جنہوں نے مجموعی ترقی کے لیے اخلاقی بنیاد فراہم کی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ شہری جدت طرازی کو اپنائیں، فکری نشوونما پر توجہ دیں تاکہ تحقیق و ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکیں، تخلیقی صنعتوں کو فروغ دیا جائے اور ثقافتی وراثت میں سرمایہ کاری کی جائے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ہندو ایجوکیشن سوسائٹی کشمیر کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی ثقافت، سماجی ذمہ داریوں اور تعلیم کی انقلابی طاقت کے حوالے سے عوامی بیداری پیدا کرنے میں قابلِ تحسین کردار ادا کر رہی ہے۔اس موقع پر پدم شری ڈاکٹر کے این پنڈتا، چیف سیکریٹری اتل ڈلو، پروفیسر بی ایل زوتشی (صدر، ہندو ایجوکیشن سوسائٹی کشمیر)،رام نواس شرما (کمشنر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن)، سوسائٹی کے عہدیداران اور مختلف شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات موجود تھیں۔تقریب میں ڈاکٹر اشوک بھان (رکن، شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ)، پروفیسر (ڈاکٹر) پراگتی کمار (وائس چانسلر، ایس ایم وی ڈی یو)، کلدیپ کھوڑا (سابق ڈی جی پی)، ڈاکٹر اروند کاروانی (کمشنر ریلیف و بحالی) اور دیگر سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔