عوامی اور انتظامی اہمیت کے اہم معاملات پر غور کیا گیا: وزیر اعلیٰ
جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کابینہ کی ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 2فروری کو شروع ہونے والے آئندہ بجٹ اجلاس سے پہلے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب پر تبدالہ خیال کیا گیا۔چیف منسٹر کے دفتر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “وزیر اعلیٰ نے سول سیکرٹریٹ، جموں میں کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں عوامی اور انتظامی اہمیت کے اہم معاملات پر غور کیا گیا۔”کابینہ کے تمام فیصلے لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہوں گے۔عہدیداروں نے بتایا کہ میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری اور وزرا بشمول سکینہ ایتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما نے شرکت کی۔ چیف سکریٹری اتل ڈلو بھی اجلاس میںموجود تھے۔اگرچہ میٹنگ کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، حکام نے بتایا کہ بجٹ اجلاس کے آغاز پر اسمبلی سے لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب کے ساتھ ساتھ سالانہ بجٹ میں بعض فلاحی اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔عبداللہ، جن کے پاس خزانہ کا قلمدان بھی ہے، اپنی حکومت کا دوسرا بجٹ پیش کریں گے۔
پری بجٹ میٹنگیں
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مسلسل تیسرے دِن جل شکتی، زراعت، دیہی ترقی، جنگلات، خوراک و شہری رسدات و اَمورِ صارفین اور کھیلوںسمیت دیگر اہم شعبوں کی پری بجٹ مشاورت میٹنگوں کی صدارت کی تاکہ آئندہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے بجٹ سیشن کے پیش نظر ترجیحات اور ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دِی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے دوران بات چیت شعبہ وار تجاویز، جاری منصوبوں اور اُبھرتے ہوئے چیلنجوںکا جائزہ لیا جبکہ خدمات کی فراہمی اور ترقیاتی نتائج کو مستحکم کرنے کے مقصد سے مرکوز اِن پٹ طلب کئے۔ اُنہوں نے کہا،’’بجٹ مختصات کو معمول کے عمل اَقدامات سے آگے بڑھنا چاہیے اور اِس کی جڑیں عملی ، کارکردگی اور زمینی سطح پر قابل پیمائش اثرات پر مضبوطی سے جڑی ہونی چاہئیں۔اُنہوں نے حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بجٹ میں شامل تجاویز قابل عمل ہونی چاہئیں، معین وقت میں نافذ کی جا سکیں اور لوگوں کو واضح فوائد فراہم کریں۔ اُنہوں نے کہا،‘‘بجٹ کی تجاویز ایسی ہونی چاہئیں جو حقیقت میں زمینی سطح پر نافذ کی جا سکیں۔‘‘وزیر اعلیٰ نے محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ کاموں کی تکرار سے بچا جا سکے اور وسائل کا زیادہ سے زیادہ مؤثر اِستعمال یقینی بنایا جا سکے۔