بی جے پی کیلئے تاریخی مینڈیٹ عوام کا وزیر اعظم مودی پر اعتماد کا مظہر:ست شرما
عظمیٰ نیوزسروس
جموں //جموں و کشمیر بی جے پی نے مغربی بنگال، آسام، پڈوچیری، تمل ناڈو اور کیرالامیں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی نمایاں کامیابیوں کا جشن بی جے پی ہیڈکوارٹر، تریکوٹہ نگر جموں میں منایا۔بی جے پی رہنماؤں اور کارکنوں نے رقص کیا، مٹھائیاں تقسیم کیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی، جسے انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت اور بی جے پی کے عوامی فلاحی طرزِ حکمرانی کی’’تاریخی توثیق‘‘ قرار دیا۔تقریبات کی قیادت جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ست شرما، جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما، اور بی جے پی کے قومی سیکریٹری و ایم ایل اے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے کی۔اسی طرح کشمیر میں بھی بی جے پی کے سینئررہنما اشوک کول کی قیادت میں کامیابی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔ست شرما نے پارٹی کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں بی جے پی کے حق میں آنے والا بھرپور مینڈیٹ وزیر اعظم نریندر مودی اور ترقی پر مبنی حکمرانی پر عوام کے غیر متزلزل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال اور آسام میں شاندار کارکردگی اور تمل ناڈو و کیرالامیں نمایاں کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بی جے پی کی قوم پرستانہ سوچ ملک کے ہر خطے میں پھیل رہی ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے حکومت کی کامیابیوں کو گھر گھر پہنچایا۔اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے ست شرما نے کہا کہ وہ محض اقتدار حاصل کرنے کے لیے موقع پرستانہ اور تقسیم کی سیاست کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے عوامی امنگوں، خصوصاً خواتین کے جذبات کو نظر انداز کیا، جیسا کہ خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اب خوشامدی، بدعنوانی اور خاندانی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔سنیل شرما، جو آسام انتخابات میں سہ-پربھاری بھی تھے، نے کہا کہ انتخابی نتائج نے ملک بھر میں اپوزیشن اتحاد کی کمزور بنیادوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات اور خوف پھیلانے کے باوجود اپوزیشن بی جے پی حکومتوں کی کارکردگی کا مقابلہ نہیں کر سکی۔ ان کے مطابق بی جے پی اس لیے مضبوط ہوئی ہے کیونکہ وہ بلا امتیاز غریبوں، نوجوانوں، کسانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کے لیے کام کرتی ہے۔اشوک کول نے کہا کہ مشکل سیاسی حالات والی ریاستوں میں بی جے پی کو ملنے والی بھرپور حمایت اس بات کا اشارہ ہے کہ عوام مضبوط قیادت، قوم پرستی اور ترقی پر مبنی حکمرانی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن عوامی جذبات سے کٹی ہوئی ہے اور محض جھوٹے بیانیے اور سیاسی ڈرامے بازی پر انحصار کر رہی ہے۔
پیکیج
Sunil sharma pic
اسمبلی انتخابات کےنتائج عوامی مینڈیٹ کے عکاس:سنیل شرما
عظمیٰ نیوزسروس
جموں // سینئربھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر اور قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے مبینہ طور پر کی گئی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان آئینی اتھارٹی کیلئے نامناسب ہے اور معافی کا مطالبہ کرتی ہے۔میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئےسنیل شرما نے وزیر اعلیٰ کے’وٹ دی ہیل‘ ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لیڈروں کو انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے جمہوری وقار کو برقرار رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے جاری نتائج عوام کے مینڈیٹ کی عکاسی کرتے ہیں اور سبھی کو ان کا احترام کرنا چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ سے منسوب بعض الفاظ کا استعمال ’ناقابل قبول‘ہے اور وہ جس عہدے پر فائز ہیں اس کے مطابق نہیں۔شرما نے مزید کہا کہ اس طرح کے ریمارکس کے بجائے سیاسی لیڈروں کو عوام کو ان کے جمہوری حقوق کے استعمال پر مبارکباد دینی چاہیے۔بی جے پی لیڈر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی زور پکڑ رہی ہے اور جموں و کشمیر میں اپنی مستقبل کی کارکردگی کے بارے میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی خطے میں اپنی بنیاد کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔