پرائیویٹ نشہ چھڑانے کے مراکزکومریضوں سے من مانی فیس لینے کی اجازت نہیں :سکینہ ایتو
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر حکومت نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ وہ جاری بجٹ سیشن کے دوران منشیات کی لت سے متعلق ایک بل پیش کرنے کی کوشش کرے گی۔ کئی ممبران اسمبلی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے، وزیر صحت اور طبی تعلیم سکینہ مسعود ایتو نے کہا کہ بل تیار ہے اور اسے موجودہ سیشن میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ جہاں پولیس منشیات کے پھیلاؤ کو روک سکتی ہے وہیں محکمہ صحت منشیات کے استعمال سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے کا ذمہ دار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ داخلہ کو منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سکینہ ایتونے نوٹ کیاکہ کچھ علاقوں میں منشیات کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور کچھ میں کمی۔وزیرموصوفہ نے مزید کہا کہ حکومت پرائیویٹ نشہ چھڑانے کے مراکز کو مریضوں سے من مانی فیس لینے کی اجازت نہیں دے گی۔انہوںنے ممبران اسمبلی سے کہاکہ اگر ایسی کوئی شکایت ہے تو انہیں حکومت کے نوٹس میں لائیں۔سکینہ اِیتو نے بتایا کہ حکومت کی توجہ جموں و کشمیر میں منشیات کے اِستعمال کے واقعات میں کمی لانے پر مرکوز ہے۔وزیر صحت نے بتایا کہ ضلع راجوری میں دو ڈرگ ڈِی ایڈکشن سینٹرکام کر رہے ہیں جو نشے کے عادی اَفراد کی ضروریات کو مناسب طریقے سے پورا کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک سینٹراولڈ ڈِسٹرکٹ ہسپتال بلڈنگ راجوری میں قائم ہے جسے این جی او نیشنل ایجوکیشنل سوسائٹی اینڈ سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن (این اِی ایس ایس ڈبلیو) چلا رہی ہے جبکہ دوسرا ایڈکشن ٹریٹمنٹ فسیلٹی (اے ٹی ایف) ایسوسی ایٹیڈ ہسپتال گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری (کھیوڑہ) میں فعال ہے۔وزیرسکینہ اِیتو نے کہا کہ ضلع میں قائم دونوںڈرگ ڈِی ایڈکشن سینٹر مریضوں کی تعداد کے پیش نظر مؤثر انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ صرف سینٹروں کی تعداد بڑھانے کے بجائے پورے جموں و کشمیر میں منشیات کے اِستعمال میں کمی لانے پر ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلع اِنتظامیہ کی ہدایات کے تحت پولیس، محکمہ سماجی بہبود اور دیگر متعلقہ محکموں کے اشتراک سے ‘نشہ مُکت بھارت‘مہم کے تحت بیداری اور کونسلنگ پروگرام مسلسل منعقد کئے جا رہے ہیں۔اُنہوں نے ضمنی سوالات کے جواب دیتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ محکمہ صحت نے جموں و کشمیر کے ہر گاؤں میں کونسلرز تعینات کئے ہیں جو سابق پنچایت اراکین، مذہبی رہنماؤں، معزز شہریوں اور دیگر افراد کو معاشرے میں منشیات کے ناسور سے نمٹنے کے لئے تربیت دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت منشیات کے عادی اَفراد کو علاج، کونسلنگ اور بحالی کی سہولیات مسلسل فراہم کر رہا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے اور سزا دینے کا اِختیار محکمہ صحت کے پاس نہیں ہے۔
میڈیکل کالجز اور منسلک ہسپتالوں کی جوابدہی یقینی بنائی جائےگی
جی ایم سی اُدھم پور مقررہ اصولوں کے تحت مؤثر خدمات فراہم کر رہا ہے:وزیر صحت
عظمیٰ نیوزسروس
جموں //وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے ایوان کو مطلع کیا کہ سرکاری میڈیکل کالج اور متعلقہ اسپتال اُدھم پور مقررہ اصولوں اور معیارات کے مطابق کام کر رہا ہے اور عوام کو مؤثر طبی خدمات فراہم کرتا رہتا ہے۔وزیر نے یہ بات اسمبلی میں پون کمار گپتا کی جانب سے پیش کیے گئے توجہ دلائو تحریک کے جواب میں کہی۔انہوں نے کہا کہ تمام اہم شعبے، بشمول آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ ،ان پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ ،ایمرجنسی سروسز، اور تشخیصی سہولیات مکمل طور پر فعال ہیں اور خطے کی طبی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کر رہی ہیں۔متعلقہ اسپتال، اُدھمپور کے ایمرجنسی سیکشن میں 23 جنوری 2026 کی رات پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے، وزیر نے کہا کہ اس بدقسمت واقعے کے حقیقی حالات اور پس منظر کو جانچنے کے لیے فوری طور پر ایک داخلی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ مریض یا تو اسپتال پہنچنے سے قبل ہی وفات پا چکا تھا یا اسپتال لائے جانے کے فوراً بعد زندگی کی بازی ہار گیا، اور موت کا باقاعدہ اعلان بعد میں دیکھ بھال کرنے والوں/رشتہ داروں کی موجودگی میں کیا گیا۔وزیر نے مزید کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج سے یہ بات واضح ہوئی کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور طبی عملہ فوری ردعمل دیتے ہوئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کو موجودہ طبی اصولوں کے مطابق پورا کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے اور سوشل میڈیا پر متعلقہ ویڈیوز کے پھیلاؤ کے پیش نظر حکومت نے پروفیسر اشوتوش گپتا، پرنسپل، گورنمنٹ میڈیکل کالج، جموں کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا تاکہ واقعات کے تسلسل، انتظامی، سیکیورٹی اور ادارہ جاتی پہلوؤں سمیت مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔وزیر نے حکومت کی طرف سے اس بات کے عزم کو دوہرایا کہ یونین ٹیریٹری بھر میں سرکاری میڈیکل کالجز اور متعلقہ اسپتالوں کی مؤثر اور جوابدہ کارکردگی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مریضوں کی دیکھ بھال، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ طرز عمل کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو ایمرجنسی سروسز کی منظم فعالیت اور ایسی صورتحال کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔