جموں وکشمیر میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان زندگی کی انمول نعمت کو چھوڑ کر موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ چند دنوں سے خودکشی کے واقعات رونما ہونے کی خبریں تیزی کے ساتھ سننے کو مل رہی ہیں کہ فلاں مقام پر فلاں نوجوان لڑکی یا لڑکے نے گلے میں پھندا ڈال کر یا زہریلی شئے کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا یا دریا میں چھلانگ لگا کر اپنے آپ کو ہلاک کر دیا۔ ان واقعات سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ نسل کتنی حساس ہےبلکہ برداشت کی قوت میں بھی ان میں کتنی کمی ہے۔ بروقت نظر پڑنے سے اگرچہ اب تک کئی نوجوانوں کو خودکشی کرنے سے روکا بھی گیا ہے لیکن خودکشی کے ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہیں۔
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
جنتِ بے نظیر جموں وکشمیر، یوں تو اپنے قدرتی حسن، قدرتی وسائل اور روحانیت کی بنیاد پر اپنی نظیر آپ ہے مگر افسوس کہ یہاں بدقسمتی سے جنسی جرائم اور خود کشی کے یومیہ پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر تیزی کے ساتھ اخلاقی گراوٹ کی طرف بڑھ رہی ہے- سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں آئے دن خود کشی کے واقعات نے سرشرم سے جھکا دیے ہیں، وادیِ کشمیر، خطۂ لداخ، خطۂ چناب، خطۂ جموں اور خطۂ پیرپنجال کے تمام اضلاع سے بڑی تیزی کے ساتھ خودکشی کی خبریں دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہیں جس پر عقل دم بخود اور محوِ حیرت ہے کہ جنتِ ارضی میں یہ کیا سے کیا ہوتا جارہا ہے ۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
یہ بات مسلم ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے، ہر وقت اور ہر منزل پر آدمی کا واسطہ نت نئے مسائل سے پڑتا رہتا ہے۔افسوس کہ ہمارے یہاں خودکشی کا رجحان اتنا عام ہوتا جارہا ہے کہ ہم اخلاقی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں – تکالیف، مصائب و آلام اور ناکامی وقتی ہوتی ہے، یوں بھی جموں وکشمیرگزشتہ تیس سال سے مصائب کی دلدل میں مستغرق ہے، تکلیف کبھی تو جلد رفع ہوجاتی ہیں اور کبھی وقت لگتا ہے۔ اﷲ نے انسان کو دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے اور اپنی عبادت کے لیے اس دنیا میں پیدا کیا ہے تو پھر کیوں نہ اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو کفرانِ نعمت ہے اور بزدلی بھی ہے جو مومن کی شان کے خلاف ہے۔ کون انسان کب تک زندہ رہے گا اور کب اس کی موت واقع ہوگی یہ صرف اﷲ ہی جانتا ہے اور زندگی دینے والے کو ہی موت دینے کا اختیار ہے۔ انسان کے بس میں اگر یہ اختیار ہوتا تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوکر رہ جاتا۔انسان کا اس دنیا میں زندہ رہنا بھی تقویت اور ترقی درجات کا باعث ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ؐ نے فرمایا: ’’ کسی کو بھی موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے، اس لیے کہ اگر وہ نیک ہے تو امید ہے کہ اس سے اس کی نیکی میں اضافہ ہوگا او اگر بُرا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ تائب ہوجائے۔‘‘
قرآن پاک و حدیث نبویؐ میں متعدد مقامات میں وارد ہوا ہے کہ اہل ایمان کو موت کی دعا نہیں کرنی چاہیے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ مصائب و مشکلات اور بیماری سے دوچار ہونے کے بعد اسلام، انسان کو خودکشی کی اجازت دے۔ اگر کوئی شخص خودکشی کرتا ہے تو وہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے اور اس کی سزا بڑی سخت ہوگی۔ حضرت عبداﷲ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’ا ﷲ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی نفس کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔‘‘ انسان کتنا ہی متقی اور پرہیزگار ہو اور کتنی ہی نیکیاں اس نے کمائی ہوں اور بھلائی کے کام کیے ہوں اگر وہ دنیاوی پریشانیوں اور ناکامیوں سے دوچار ہو کر یہ اقدام کرتا ہے تو وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
ارشاد ربانی ہے کہ جب موت کا وقت آجاتا ہے تو ایک ساعت بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ جب کہ خودکشی کا اقدام مشکلات سے فرار کا ایک راستہ ہے۔ دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو ہر طرح کی پریشانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے اور زندگی کی آخری منزل تک پہنچ جائے۔ جو شخص ان مشکلات میں صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے اور جلدبازی اور بے صبری میں اپنی متاع حیات ہی کو ختم کردے تو وہ موت کے بعد والی زندگی کو اپنے ہی ہاتھوں برباد کرلیتا ہے۔آخرت میں وہی شخص کامران ہوگا اور اس کا لطف اٹھائے گا جس نے اس دنیا میں نازک ترین لمحات میں بھی خدا کا بندہ ہونے کا ثبوت دیا اور زندگی کی آخری سانس تک وہ اس پر قایم رہا۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس دنیا کو آنے والی دوسری دنیا کا ضمیمہ قرار دیا ہے، یہاں جو عمل اچھا یا برا کیا جائے گا اس کا بدلہ اسے دوسری زندگی میں مل کر رہے گا۔ خودکشی، ایک غلط اور ناپسندیدہ عمل ہے جس سے آدمی کی آخرت خراب ہوتی ہے۔ حضرت جندب بن عبداﷲ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول پاک ؐ نے فرمایا کہ تم میں سے پہلے جو قومیں گزر چکی ہیں ان میں سے ایک شخص کا واقعہ ہے کہ اسے زخم لگا وہ اس کی تکلیف برداشت نہ کرسکا اور اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا اس سے اس قدر خون بہا کہ وہ فوت ہوگیا اس پر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے جلدی کی قبل اس کے کہ میں اس کی روح قبض کرتا، اس نے خود ہی اپنے آپ کو ختم کردیا ِ،لہٰذا میں نے اس کے لیے جنت حرام کر دی۔ایک دوسری حدیث میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اﷲ کے محبوب نبی پاک ؐ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے آپ کو کسی لوہے کے ہتھیار سے قتل کرلے تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا وہ اس کو اپنے پیٹ میں بھونکتا رہے گا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ جلتا رہے گا اور جو شخص زہر پی کر اپنی جان لے تو وہ چوسا کرے گا اسی زہر کو، اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے گا تو وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں گرا کر ے گا، سدا اس کا یہی حال رہے گا۔
خودکشی کرنے والے کے ساتھ نہ صرف اﷲ کا معاملہ دردناک ہوگا بلکہ دنیا میں بھی ایسے لوگوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی اور اس کے برے نتائج سے اس کے گھر والے اور عزیز و اقارب دوچار ہوتے ہیں۔ اسلام نے کسی بھی حال میں خودکشی کی اجازت نہیں دی۔ جس نے انسان کو پیدا کیا، ماں کے شکم سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک اس کی حفاظت و نگرانی فرمائی اور سکون کی نعمت سے سرفراز کیا، وہی اپنے بندوں کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے اور وہی انہیں مشکلات سے نکالتا بھی ہے۔ خودکشی کرنے والے کی نمازجنازہ پڑھی جائے یا نہیں ؟ اس کے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی واضح صراحت نہیں ملتی۔ اسی وجہ سے اس مسئلے میں فقہائے کرام اور علمائے امت کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور بعض کے نزدیک ادا نہیں کی جائے گی۔ جب کہ درست یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی نماز پڑھی جانی چاہیے البتہ مسلمانوں کے ذی وجاہت اور سربرآوردہ لوگ چاہیں تو اس میں شریک نہ ہوں۔ اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ مومن گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے کافر نہیں ہوتا جو شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا اس کے لیے دعائے مغفرت کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔
حیرانی ہے کہ اسلام میں خودکشی کے بارے میں اتنی واضح تصریحات کے باوجود آج ہمارے معاشرے میں یہ بہت عام ہوگئی ہے۔ معاشرے میں مسائل اور پریشانیاں ضرور بڑھ گئی ہیں لیکن ایک مسلمان کو اﷲ سے مدد طلب کرتے ہوئے ہمت و حوصلے سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے نہ کہ ہمت ہار کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرلے اور پس ماندگان کو مزید پریشانیوں کا شکار بنادے۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہب اسلام میں خودکشی حرام ہے اور خودکشی ہی نہیں اسلام میں مایوسی کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے جو درحقیت خودکشی کی جانب پہلا قدم ہے لہٰذا مسلمان خودکشی کرنے میں سب سے آخر میں آمادہ ہوتا ہے ۔ہماری وادیٔ کشمیر میں خود کشی کی وجہ یہ ہے کہ لوگ بھوک افلاس ،غربت ،بیماری ، یا حالات کے تشدد کے باعث ایسا کرتے ہیں۔ خصوصاً بے روزگاری تو اس میں سرفہرست ہے۔ اکا دُکا لوگ محبت یا امتحان میں ناکامی کی وجہ سے خودکشی کرتے ہیں ۔حکومت نے آج تک صرف ٹیکس وصول کرنے پر اپنی توانائی خرچ کی ہے مگر کبھی یہ نہیں سوچا کہ محض ٹیکس وصول کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اس رقم کو احسن طریقے سے خرچ کرنا بھی اس کا اولین فرض ہے ۔آج ہم نہ جانے کتنے بے حساب ٹیکس اداکرتے ہیں مگر یہ خطیر رقم حکمرانوں کے شاہی اخراجات پر صرف ہوتی ہے ۔ کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ سرینگر کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران ایک پی ایچ ڈی اسکالر کو بے روزگاری کی وجہ سے جب کام کرتے دیکھا تو آنکھیں نم ہوگئیں جب اس نے بتایا کہ میری چھ بہنیں ہیں اور میں ان کا اکلوتا بھائی ہوں، تو کام نہ کروں تو کیا کروں ؟ اگر حکومت اپنا فرض پورا کرے تو نوجوانوں میں مایوسی حد درجہ کم ہوجائے ،غربت دم توڑ دے اور خودکشی کے اسباب پیدا نہ ہوں ۔جان تو ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے مگر جب بات جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنے میں بھی ناکامی تک جا پہنچے تو اگلا راستہ موت ہی کا نظر آتا ہے ۔
آج جموں و کشمیر کی صورت حال یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ،باصلاحیت اور ملک و قوم کے لیے اپنے اور اپنے متعلقین کے لیے کچھ کر ڈالنے کے عزم سے سرشار نوجوان مارے مارے پھررہے ہیں اور ان کو کلرک(منشی)کا کام بھی نہیں مل رہا ہے ۔باربار کی ناکامیاں ان کا دل توڑدیتی ہیں ۔پھر مایوسی کی بنیاد پر تنگ آکر کوئی ڈاکو بنتا ہے ،کوئی تخریب کار پیدا ہوتا ہے ،کوئی اسمگلر بن جاتاہے گویا جرائم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یاپھر اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلینے جیسا سانحات رونما ہوتے ہیں۔
معاشرتی ناہمواری ،عدم مساوات ،زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کے مناسب مواقع کا نہ ہونا ،اگر ان حالات کو پیش نظر رکھ کر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو اللہ کا شکر ہے کہ مسلمانوں میں خودکشی کا رجحان بہت کم نظر آئے گا اور اس کا سبب یہی ہے کہ مسلمانوں کا دین اسلام خودکشی کو حرام قرار دیتا ہے تاہم حالیہ دنوں میں وادیٔ کشمیر میں اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاک کردینے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جو تشویش ناک بات ہے۔
جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو چاہیے کہ اس خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے بے روزگاری الاؤنس کی ادائیگی کا فوراًاہتمام کرے اور نوجوانوں کو تشدد اور غیر انسانی سلوک سے محفوظ رکھنے کے اقدامات اٹھائے ۔ یہی وہ سب سے بڑی وجوہ ہیں جو ان نوجوانوں کو خودکشی پر مجبور کرتی ہیں ۔کپڑے اور مکان کے بغیر تو انسان زندہ رہ سکتا ہے مگر روٹی کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں ۔اسی طرح انسان کو اپنی عزت نفس سب سے زیادہ عزیر ہوتی اور جب بات عزت کی آجائے تو عزت داروں کے لیے عزت کے بدلے موت کا سودا بہت سستا ہوتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں اگر اسلامی تعلیمات عام ہوں تو خودکشی کے رجحان کو کم کیا جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں ہمارا معاشرہ انتشار کا شکار ہے اور ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے، جس کی وجہ سے پریشان حال لوگ مایوس ہوکر خودکشی جیسے گناہ کا ارتکاب کرنے لگے ہیں۔ ہمیں اﷲ کی رحمت سے بالکل مایوس نہیں ہونا چاہیے اور ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ خدارا اب منہگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لئے ٹھوس احکامات اٹھائیں۔
(جامعہ امام محمد انورشاہ کشمیری علیہ الرحمہ شہر پونچھ)
9469715470