الطاف حسین جنجوعہ
سال 1960کو شہرو قصبہ جات کے اندر حکومت کی طرف سے اراضی کی پٹہ پر الاٹمنٹ کے لئے جموں وکشمیرلینڈ گرانٹس ایکٹ لایاگیا جوکہ 14اکتوبر1960کوصد ر ِ ریاست کی منظوری کے بعد24اکتوبر1960سے تادم نافذ العمل ہے۔ کل 13دفعات پر مشتمل اِس قانون کی دفعہ 2کے تحت اس کا اطلاق شہر جموں اور اس کے مضافات میں30کلومیٹردائرہ میں آنے والے علاقوں پر ہے۔ 30کلومیٹر دائرے کا مرکزی پوائنٹ پرانی منڈی جموںہے۔اسی طرح شہر سرینگر اور اِس کے مضافات میں30کلومیٹر دائرے میں آنے والے علاقوں پر۔ جس کا مرکزی پوائنٹ شیر گڑھی ہے۔ اس کے علاوہ سبھی قصبہ جات، نوٹیفائیڈ علاقوں کے ساتھ ساتھ اُن علاقوں پر جنہیں وقتاًفوقتاًحکومت نوٹیفائی کرے گی، پر بھی اِس قانون کا اطلاق ہے۔ جموں وکشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ 1996کے تحت بطور ’آبادی دیہی‘اندراج گائو ں پر اِس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، ماسوائے اُن گائو ں کے جومیونسپلٹیوں، ٹاو ن ایریا یا نوٹیفائیڈ علاقوں میں شامل ہیں۔دفعہ4میں پٹہ یعنی لیز پر تجارتی یا رہائشی مقاصد کے لئے اراضی دینے کا ذکر ہے ۔دفعہ9کے تحت حکومت کو اختیار ہے کہ وہ لیز کی کیا شرائط ہوں گیں، اِس کا انتظام وانصرام کس اتھارٹی کے پاس ہوگا، اندراج کیا ہوگا وغیرہ، اس کےمتعلق علیحدہ قواعد(Rules)بھی مرتب کرسکتی ہے۔ جموں وکشمیر لینڈ گرانٹس ایکٹ1960کے تحت دیگر شرائط کے علاوہ پٹہ پر دی جانے والی اراضی کی مدت 99سال تھی اور یہ صرف جموں وکشمیر کے باشندگان ہی لے سکتے تھے۔
جموں وکشمیر تنظیم نوقانون2019کے بعد26اکتوبر2020کو ایس او3808لایاگیا ،جس کے تحت جموں وکشمیر میں کچھ قوانین کئے منسوخ گئے اور کچھ میں ترمیم کی گئی۔جموں وکشمیر لینڈ گرانٹس ایکٹ1960کی دفعہ4میں ترمیم کی گئی کہ جس کے تحت اب پٹہ پر اراضی ہندوستان کا کوئی بھی شہری لے سکتا ہے۔ 9دسمبر2022کو حکومت ِ جموں وکشمیر کے محکمہ مال سول سیکریٹریٹ سے اسٹینڈنگ آرڈرSO668کے تحت نوٹیفکیشن جاری کی گئی جس میں جموں وکشمیر لینڈ گرانٹس ایکٹ1960کی سیکشن4اور9کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ’جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس رولز2022‘بنائے گئے۔
جموں و کشمیر لینڈ گرانٹ رولز 2022 میں 17دفعات ہیں،جس کے اطلاق کے بعد جموں وکشمیر لینڈ گرانٹس رولز1960، لینڈ گرانٹس رولز2007اور نوٹیفائیڈ ایر (جس میں محکمہ سیاحت کے تحت قائم سبھی ڈولپمنٹ اتھارٹیاں شامل ہیں)کومنسوخ کر دیاگیاہے۔ نوٹیفائیڈ ایرا میں گلمرگ اور پہلگام بھی شامل ہیںجہاں لینڈ گرانٹ رولز2007کے تحت سیاحتی شعبہ میں ڈولپمنٹ اتھارٹیاں قائم کی گئی تھیں۔ محکمہ مکانات وشہری ترقی اور اِس کی ایجنسیوں یا حکومت کے کسی دوسرے محکمہ کو منتقل کی گئی اراضی پراِن رولز کا اطلاق نہیں ہوگا، بشرطیکہ کے سرکاری محکمہ یا اِس کے تحت ایجنسی نے وہ اراضی اپنی پالیسی کے مطابق پٹہ پر دی ہو، اگر ایسی کوئی پالیسی نہیں تو متعلقہ محکمہ پر پالیسی مرتب کرنے تک زمین لیز پر دینے کے لئے لینڈ گرانٹس رولز 2022کا اطلاق ہوگا۔
دفعہ 5میں اس بات کاتفصیلی ذکر ہے کہ پٹہ پر زمین کس کس مقصد کے لئے دی جاسکتی ہے۔ حکومت تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں، سیاحت، ہنر کی ترقی، روایتی فن، دستکاری، ثقافت اور زبانوں کی ترقی، ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس، کھیل کے میدانوں، جمنازیم یا دیگر تفریحی مقامات کی ترقی کےلئے لیز پر دے سکتی ہے۔ ساتھ ہی پٹرول پمپس، گیس پائپ لائنز، ایل پی جی بوتلنگ مراکز، ایندھن کے ذخائر، اگلی نسل کے صاف ایندھن کے ذرائع CNG/CBG /LNG/ہائیڈروجن ایندھن/کم کاربن ایندھن/کوئی دیگر صاف ایندھن کا ذریعہ متعلقہ سرگرمیاں،خدمات ،افادیت اوربنیادی ڈھانچے کے ساتھ معیارات،صنعت کے بہترین طریق کار، خود روزگار یا سابق فوجیوں، جنگی بیواو وں، محرومی کے زمرے کے خاندانوں (تازہ ترین سماجی و اقتصادی مردم شماری کے مطابق)، خصوصی طور پر معذور افراد کے لئے رہائش کے مقاصد کے لئے بھی بروے کارلایا جاسکتاہے۔خود روزگار یا سابق فوجیوں، جنگی بیوائو ں، سماجی واقتصادی طور کمزور افراد(تازہ ترین سماجی و اقتصادی مردم شماری کے مطابق)، خصوصی طور پر معذور افراد کے لئے رہائش کے مقاصد کے لئے بھی اراضی پٹہ پر دی جاسکتی ہے ۔اس میں شہید کے اہل خانہ (جس نے قوم کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے)، مہاجر مزدور، عمارت سازی اور دیگر تعمیراتی کارکن، قدرتی آفات یا آفات کے متاثرین کی بحالی، ملک کی ترقی کےلئے مخصوص بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، انفراسٹرکچر، صنعت، زراعت، سیاحت اور روزگار کی فراہمی، پانی کے مینز بچھانے، پائپ، زیر زمین کیبل، کاز ویز، زیر زمین پل، کیبل، ٹاور، کھمبے، سٹے راڈ، اوور ہیڈ کیبل کے لئے ریل بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیں جموں وکشمیر کے مفاد میں کسی اور مقصد کے لئے بھی زمین لیز پر دی جا سکتی ہے، جس کا تعین حکومت کرے گی۔
دفعہ 6کے تحت زمین اور لیز کی منظوری کے مقصد کی نشاندہی اور تعین کرنے کے لئے فائنانشل کمشنر ریونیو کی سربراہی میں 11رکنی ایک بااختیار کمیٹی ہوگی جس میں جموں اور کشمیر کے صوبائی کمشنرز ، کمشنر سروے اینڈ لینڈ ریکارڈکے علاوہ قانون ،مال، آبپاشی وانسداد ِ سیلاب، دیہی ترقی، سیاحت اورقبائلی امور محکمہ جات سے ایڈیشنل سیکریٹری درجہ سے اوپر کا ایک ایک نمائندہ، حکومت کی طرف سے نامزد کردہ کوئی ممبر اِس کے ممبران ہوں گے۔ کمیٹی کا کام، قواعد کے مطابق، لیز دینے کی مدت کی سفارش کرنا بھی ہوگا، جو کہ عام طور پر 40 سال کےلئے ہوگی۔یہ لیز کے ہر معاہدے اور اس کی شرائط کی بھی نگرانی کرے گا۔ کمیٹی حکومت کو زمین کی ایک فہرست تجویز کرے گی جس میں اس کی مارکیٹ ویلیو اور کس مقصد کے لیے زمین لیز پر دی جانی ہے ۔کمیٹی کویہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ حکومت کو کسی بھی لیز کی منسوخی کے لیے سفارش کرے۔کمیٹی حکومت کو زمین کی ایک فہرست تجویز کرے گی جس میں اس کی مارکیٹ ویلیو اور کس مقصد کے لیے زمین لیز پر دی جانی ہے۔سفارشات کی بنیاد پر، حکومت جانچ کے بعد اسے اپنی منظوری کے ساتھ یا بصورت دیگر فنانشل کمشنر، ریونیو کے ذریعے کمیٹی کو واپس کرے گی۔
دفعہ7سے 11تک لیز کے لئے بولی (Auction)، اُس کا طریقہ کار ، زمین کی قیمت ، ادائیگی وغیرہ کا تفصیلی ذکر ہے۔ اِن رولز کے بعد جموں و کشمیر بھر کے پٹہ داروں میں جو تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، وہ دفعہ12ہے۔ جس میں کہاگیا ہے کہ تمام Leases(ماسوائے رہائشی مقاصد کے تحت ختم یارواں لیز)….جموں وکشمیر لینڈ گرانٹس ایکٹ 1960 کے تحت لیز، نوٹیفائیڈ علاقہ (سیاحتی شعبہ میں قائم کی گئی سبھی ڈولپمنٹ اتھارٹیاں) اور لینڈ گرانٹس رولز2007کے تحت جو بھی زمین پٹہ پر دی گئی ہے، جس کی مدت ابھی باقی ہے یا ختم ہوچکی ہے، وہ سبھی منسوخ کر دی گئی ہیں اور ایسی سبھی لیزز کو دوبارہ سے الاٹ کیاجائے گا جس کے لئے بولی لگے گی اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر Form-IIکے مطابق نوٹس نکالنے کے م جاز ہوں گے۔ اسی دفعہ میں کہاگیا ہے کہ رہائشی مقاصد کے لئے پٹہ دار پر دی گئی اراضی جس کی مدت جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس رولز1960کے تحت ختم ہوگئی ہے یا ابھی باقی ہے، کے لئے حکومت نے علیحدہ پالیسی لائی جائے گی لیکن تمام نوٹیفائیڈ علاقوں اور ٹورازم ڈولپمنٹ اتھارٹیوں کے علاقوں میں اگر لوگوں نے رہائشی مقصد کے لئے پٹہ پر زمین لی ہے، تو اُس کی لیز بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔علیحدہ پالیسی صرف قصبہ جات یا شہروں میں رہائشی پٹہ داروں کے لئے لانے کی بات ہے۔
دفعہ13میں پٹہ پر دی جانے والی اراضی کی شرائط کی لمبی چوڑی فہرست ہے اِن میں پٹہ دار خالص اراضی کو اُسی مقصد کے لئے استعمال کرے گا جس کا لیز معاہدہ میں ذکر ہوگا۔ وہ حکومت کی اجازت کے بغیر کسی کوآگے اراضی یا عمارت منتقل نہیں کرسکے گاالبتہ قرضہ وغیرہ لینے کے لئے بطور سیکورٹی بینکوں یا مالیاتی اداروں میں رہن پر رکھ سکے گا ، صرف اُسی مدت کے لئے جتنے وقت کیلئے الاٹمنٹ ہوگی اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ لیز کی مدت ختم ہونے سے کم سے چھ ماہ پہلے بینک سے لئے گئے قرض کی ادائیگی ہو۔اگر کسی پٹہ دار کی موت ہوجاتی ہے اور لیز کی مدت ابھی باقی ہے تو وہ اُس کے جائز وارثین کو منتقل ہوگی۔متعلقہ تحصیلدارشرائط کی عمل آوری کی نگرانی کا ذمہ دار ہوگا اورشرط کی خلاف ورزی پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر ریونیو/اسسٹنٹ کمشنر نزول کو رپورٹ کرے گا جوکہ پٹہ دار کو مناسب موقع دینے کے بعد انکوائری کرے گے اور لینڈ ریونیو ایکٹ1996کے تحت سپروائزری اتھارٹیز کو فیصلہ کیلئے بھیجیں گے۔ پٹہ پر اراضی جس مقصد کے لئے لی گئی ہوگی، کو دو سال کے اندر اندر استعمال بھی کرناہوگاجس میں حکومت ایک سال کی توسیع بھی کرسکتی ہے۔ وغیرہ شرائط بھی شامل ہیں۔
اسی دفعہ میں ایک شرط بھی ہے کہ حکومت یہ حق محفوظ رکھتی ہے کہ اگر کوئی اراضی عوامی مقصد کے لئے چاہئے تو ہ کسی بھی وقت اراضی واپس لے سکتی ہے ۔ایسی صورت میں پٹہ پر دی گئی اراضی پر جوبھی کوئی ڈھانچہ یا تعمیرات ہوگی اُس کی قیمت پٹہ دار کو ادا کی جائے گی۔ تخمینہ حکومت کی طرف سے متعین کردہ ایگزیکٹیو انجینئر کرے گا ۔ اگر کوئی شخص ایگزیکٹیو انجینئر کی تخمینہ رپورٹ سے متفق نہیں تو وہ دو ماہ کے اندر چیف انجینئر اپیل کرسکتا ہے۔ چیف انجینئر اورایگزیکٹیو انجینئر کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ اگر پھر بھی کوئی اِ س سے متفق نہیں تو پھر وہ 30دنوں کے اندر چیف انجینئر کے فیصلے کے خلاف ٹریبونل میں اپیل کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پچھلے چالیس پچاس سال سے جن لوگوں نے پٹہ پر زمین لیکر اُس پر ہوٹل، ریستوران، کاروباری مراکز ، اسپتال ، تعلیمی اداروں وغیرہ قائم کئے ہیں، وہ اب اِس کے کوئی حقوق نہیں رکھتے۔ اُن کی Leasesمنسوخ ہے۔ اب اُنہیں بھی دوبارہ Auctionبولی میں حصہ لینا ہوگا اور اگر وہ اِس میں اول نمبر پر آئے تو مل جائے گی بصورت دیگر اُنہیں زمین پر قائم ڈھانچہ کی قیمت دی جائے گی۔
دفعہ16میں حکومت کو یہ اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ اِن قواعد کے باوجود یہ حق محفوظ رکھتی ہے کہ وہ یونین ٹیراٹر اور مرکزی سرکار کے محکموں،اُس کی ایجنسیوں، اختیاری بور ڈ اور کارپوریشن کو زمین بغیرکوئی Auctionکے بھی دے سکتی ہے۔
عوامی حلقوں، پٹہ داروں میں جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس ایکٹ 2022کو گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اِس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے جنہوں نے حکومت پرزور دیا ہے کہ ان قواعد پر نظرثانی کی جائے ۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر چہ حکومت قانون بنانے کا اختیار رکھتی ہے لیکن 2022سے پہلے جن لوگوں کو پٹہ پراراضی دی گئی ہے، اُس کو بھی منسوخ کردینا زیادتی ہے۔ Retrospectiveاطلاق قانون کی نظر میں ٹھیک نہیں۔ اگر یہ ہوتا کہ 9دسمبر2022کے بعد سے اِس کا اطلاق ہے تو پھر ٹھیک تھا، یا اِس میں چالیس سے پچاس سال تک پٹہ دار جنہوں نے لاکھوں،کروڑوں کی سرمایہ کاری کی ہے، کوکوئی رعایت دی جاتی یا اُن کو کچھ تحفظ ملتاتو ٹھیک تھا۔قانونی ماہرین کے مطابق رولز میں سابقہ پٹہ داروں کے لئے کوٹہ مخصوص کرنے کے علاوہ کچھ شرائط میں رعایت دی جانی چاہئے۔پٹہ داروں کے مطابق اب صرف افراد کو ہی نہیں بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں، ایجنسیاں، فرمز، صنعتکار، بڑے بڑے سرمایہ کار بھی Auctionمیں حصہ لے سکتے ہیں جن کی وجہ سے سابقہ پٹہ داروں کو دوبارہ سے اپنی ہی جگہ واپس لینا انتہائی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ بڑے بڑے برینڈ کے ہوٹل مالکان ،سرمایہ کار تو پہلگام، گلمرگ، پتنی ٹاپ جیسے علاقوں میں تو ہوٹل وریستوران خریدنے کے لئے کسی بھی حد تک بولی دینے کو تیار ہوجائیں گے، ایسے میں جموں وکشمیر کے مقامی کاروباری مقابلے کی دوڑ سے ہی باہر ہوجائیں گے۔نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، اپنی پارٹی، پیپلزکانفرنس، ڈیموکریٹک آزاد پارٹی، کانگریس نے اِن رولز کی سخت مخالفت کی ہے جبکہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ یہ عوام دوست فیصلہ ہے اور عام لوگوں کو فائیدہ ہوگا۔ جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس ایکٹ 2022پرحزب اختلاف کا موقف صحیح ہے ، پٹہ دار کی تشویش جائز ہے یا پھر حکومت کا فیصلہ درست ، اس کا فیصلہ ہم قارین پر چھوڑتے ہیں؟
(مضمون نگار جموں وکشمیر ہائی کورٹ جموں میں وکیل ہیں)
(رابطہ۔7006541602)
:[email protected]